لاہور اور دیسی اکھاڑے

لاہور کا نام جب بھی دماغ کے دریچوں میں ہلچل مچاتا ہے تو علم، سیاست، تاریخ اور دیسی کھابوں کے ساتھ ساتھ لاہوریوں کو پہلوان ہونے کا اعزاز بھی سننے کو ملتا ہے۔ اس اعزاز کی وجہ نہ تو لاہوریوں کے کھانے ہیں اور نہ ہی ان کے موٹے ہونے کا اس اعزاز کو حاصل کرنے میں کوئی عمل دخل ہے بلکہ یہ لقب صدیوں پرانی تاریخ کا حامل ہے جو برصغیر پاک و ہند میں پنجاب کی دھرتی کو نوازا گیا تھا۔ وطن عزیز میں پنجاب کی دھرتی صحت کے اعلیٰ معیار کی ضامن رہی ہے اور اس کی وجہ دیسی اکھاڑے اور خالص خوراک ہیں۔
طاقت کے اظہار کے لیے انسان نے ہمیشہ نت نئے طریقے دریافت کیے ہیں لیکن صدیوں سے چلا آ رہا ایک طریقہ آج بھی کل عالم میں رائج ہے اگر چہ اس کو جدت دے کر نئے ناموں سے نواز دیا گیا ہے۔ دیسی پہلوانی، کشتی اور کبڈی کو آج ریسلنگ، باکسنگ اور کراٹے کا نام بھی دیا جاتا ہے جبکہ یہ سب کھیل الگ الگ اصول و ضوابط پر کھیلے جاتے ہیں۔
پہلوانی یا دیسی کشتی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھیل مغلوں کی آمد کے ساتھ ساتھ برصغیر میں چلا آیا تھا اور پھر کچھ ہی وقت میں دیسی کشتی نے عوام میں خاصی مقبولیت حاصل کر لی۔ مغلیہ دور حکومت میں پہلوانوں کی سرپرستی وقت کے بادشاہ، راجے مہاراجے اور سردار کیا کرتے تھے۔ پہلوانی میں خاص اہمیت چونکہ کھانے کی ہوتی ہے اس وجہ سے پہلوانوں کا سب خرچہ ان کے ذمہ ہوتا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور میں موجود اکھاڑوں کی تعداد چھ سو کے لگ بھگ تھی جہاں پر کثیر تعداد میں پہلوان کثرت کیا کرتے تھے۔
پہلوانی کی تربیت حاصل کرنے لڑکے اوائل عمری میں ہی اکھاڑوں کا رخ کر لیا کرتے تھے جہاں ان کو مناسب خوراک کے ساتھ فن پہلوانی کے رموز و اسرار سے واقف کرایا جاتا تھا۔ روزانہ کی بنیاد پر پانچ گھنٹے ان کو اکھاڑے میں صرف کرنے ہوتے تھے جہاں وہ کثرت کرتے اور اپنے استادوں سے کشتی کے داؤ پیچ سیکھا کرتے تھے۔ روایتی پہلوان بچپن سے ہی صبح سویرے لنگوٹ پہن کر اکھاڑے کی مٹی سے کھیلنا شروع کر دیتے تھے۔ اس کھیل میں ڈنڈ بیٹھک لگانا اور داؤ سیکھنا شامل ہوتے تھے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے لاہور کے تین تہائی اکھاڑے ختم ہو چکے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند نے یوں تو بہت سے نامور پہلوان پیدا کیے لیکن ایک ایسا شاہکار بھی پنجاب کی سرزمین پر پروان چڑھا جسے اس کے پچاس سال سے زائد کشتی کے کیرئیر میں کوئی پہلوان چت نہ کر سکا۔ آزادی کے بعد پہلوانوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گوجرانوالہ اور لاہور میں گزارا۔ لاہور صنعت و حرفت، ثقافت، سیاست، فنون لطیفہ، تاریخی ورثے اور تمدن کے حوالے سے اپنی آغوش میں کئی ایک زور آور ناموں کی فہرست چھپائے ہوئے ہے۔ جب بھی لاہور کا نام لیا جاتا ہے تو مینار پاکستان، بادشاہی مسجد اور لاہوری کھابوں کے ساتھ ساتھ یہاں موجود اکھاڑوں اور پہلوانوں بالخصوص گاما پہلوان کا نام ہر زبان پر آتا ہے۔
متحدہ ہندوستان کے وقت امرتسر کی زمین پر غلام محمد عرف گاما پہلوان نے جنم لیا جن کا تعلق کشمیری بٹ خاندان سے تھا جو آگے چل کر ”رستم زماں“ کہلایا۔ غلام محمد 1880 میں پیدا ہوئے اور قدیم فن پہلوانی کے پاسبانوں میں سے ایک تھے۔ جب غلام محمد نے اکھاڑے میں قدم رکھا تو غیر منقسم ہندوستان کی ریاست ”دتیا“ کے حکمران ران بھوانہ سنگھ نے غلام محمد عرف گاما پہلوان اور ان کے بھائی امام بخش کی سرپرستی کا بیڑہ اٹھایا۔
جوانی کے عروج تک گاما نے کئی مقابلے جیتے لیکن ان کی شہرت کو چار چاند اس وقت لگے جب انہوں نے انیس برس کی عمر میں سات فٹ قد کے مالک بلند قامت انڈین ریسلنگ چیمپئن رحیم بخش سلطانی والا کو للکارا۔ رحیم بخش سلطانی والا بٹ خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور جب اس نے گاما کا چیلنج سنا تو اسے بھرپور یقین تھا کہ وہ محض 5 فٹ 7 انچ کی قد و قامت والے گاما کو کچھ لمحوں میں چت کر دے گا لیکن جب اکھاڑے میں دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو اس کے پسینے چھوٹ گئے۔
جواں سالہ گاما پہلوان نے رحیم بخش کو دن میں تارے دکھا دیے لیکن مقابلہ برابری پر ختم ہو گیا کیونکہ دونوں پہلوان پائے کے تھے۔ یوں انہوں نے اپنی زندگی میں سوائے رحیم بخش کے ہندوستان کے سب نامی گرامی پہلوانوں کو اکھاڑوں میں چاروں خانے چت کیا جو کہ ایک منفرد اعزاز ہے اور کوئی بھی پہلوان آج تک ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد گاما پہلوان لاہور ہجرت کر آئے اور جب 21 مئی 1960 کو ان کا انتقال ہوا تو وہ لاہور میں ہی رہائش پذیر تھے۔ ان کی قبر لاہور میں بھاٹی چوک کے پاس موجود پیر مکی دربار کے عقب میں موجود قبرستان میں واقع ہے جہاں وہ اپنی اہلیہ اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ محو استراحت ہیں۔
پنجاب میں گوجرانوالہ اور لاہور دو ایسے شہر ہیں جہاں دیسی کشتی پہلوانی اور کبڈی کا دور دورہ رہا ہے۔ گوجرانوالہ کو خاص پہلوانوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے جبکہ لاہور شہر کی سر زمین نے نہ صرف نامور پہلوانوں کو جنم دیا ہے بلکہ پہلوانی اور اکھاڑوں کا ایک دور بھی اسی سرزمین پر وقوع پذیر ہوا ہے۔ تقسیم ہندوستان کے بعد دیسی کشتی کے فن کو عروج پر پاکستان میں پنجاب کی دھرتی نے پہنچایا اور لاہور و گوجرانوالہ کو خاص پہلوانوں کے شہر کہلائے جانے کا اعزاز حاصل ہوا جو اب تک بطور عرفیت استعمال ہو رہا ہے۔
یہ کھیل برصغیر کے دیسی صدیوں پرانے کھیلوں کا خاص جزو ہے لیکن حوادث زمانہ نے اس کی شہرت اور مقبولیت کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔ دیسی کشتی اور اکھاڑوں کی معدومیت کی بڑی وجہ مہنگائی ہے جس کی زد میں آج بھی وطن عزیز ہچکولے لے رہا ہے۔ کشتی اور اچھا کھانا لازم و ملزوم ہونے کے باعث غریب آدمی اس کھیل کو کھیلنے سے کتراتا ہے اور حکومتی سرپرستی بھی نہ ہونے کی وجہ سے گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ اکھاڑے ویران ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب پاکستان میں ہر طرف دیسی کشتی کا عروج تھا۔ پنجاب کی سرزمین اس بات کی گواہ ہے کہ چند دہائیوں پہلے تک ہر ہفتے گاؤں میں دیسی کشتی کا میلہ لگا کرتا تھا جہاں پر علاقے کے نامی گرامی اور نئے پہلوان کشتی کیا کرتے تھے۔ ہر ماہ دنگل ہوتے تھے اور جیتنے والوں کو انعامات سے نوازا جاتا تھا۔ نوجوان نشے اور فضول حرکات کے مرتکب ہونے کی بجائے پہلوانی کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے تھے۔ مہنگائی، کشتی میں گلیمر کی کمی اور سرکاری عدم سرپرستی نے اس کھیل کے حسن کو گہنا دیا ہے۔
آج کا نوجوان پہلوانی اور کشتی کی بجائے باڈی بلڈر، کرکٹر یا اور بننے کو ترجیح دیتا ہے۔ مہنگائی سے اخراجات بڑھنے کے باعث نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد ہر سال بیرون ملک رزق کی تلاش میں چلی جاتی ہے اور جو رہ جاتے ہیں ان میں سے پڑھے لکھے بچے کرکٹ، والی بال، فٹ بال اور ہاکی کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں جبکہ باقی ماند نوجوان کشتی کو چھوڑ کر کبڈی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان بھولے سے اپنی خواہش کا اظہار کر بھی دے تو اس کے سامنے مہنگائی اور معاشرتی خوف کی ایک بڑی دیوار سینہ تانے کھڑی ہوتی ہے جسے عبور کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بن جاتا ہے۔
پاکستان میں کشتی کے زوال کی کہانی بہت اندوہناک ہے۔ حکومتی عدم سرپرستی اور مہنگائی دو بڑے عوامل ہیں جنہوں نے کشتی کے کھیل کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ دیسی کشتی کے کھیل کا کوٹہ دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں میں بانٹ دیا جاتا ہے اور یوں اگر کوئی سرکاری سطح پر پہلوان بننا بھی چاہے تو وہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث اس کھیل کے لطف سے محروم رہ جاتا ہے۔ فن پہلوانی آج قصۂ ماضی بن چکا ہے۔ نئی نسل کو دیسی کشتی کا نام تک معلوم نہیں اور وہ صرف کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور دیگر کھیلوں تک محدود ہو گئے ہیں۔
اگرچہ ہر کھیل کا بنیادی مقصد صحت کی حفاظت ہوتا ہے لیکن دیسی کشتی وہ واحد کھیل ہے جس میں انسانی جسم کے ہر عضو کی ورزش ہوتی ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جس میں جسم کے ساتھ ساتھ دماغ کی بھی بہترین نشو و نما ہوتی ہے جو دوسرے کھیلوں میں مفقود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر حکومت اس کھیل کو اپنی سرپرستی میں کے لے تو ماضی کے نامور پہلوانوں گاما پہلوان، گونگا پہلوان رستم ہند اور دیگر پہلوانوں کی طرح آج بھی ملک کا نام روشن کیا جا سکتا ہے۔

