ڈاکو جگمال کی کہانی


انڈیا کا راجستھان اور پاکستان کا چولستان ایک ہی صحرا کے دو مختلف نام ہیں یہ کہانی اسی صحرا سے شروع ہوتی ہے۔

اس کہانی کے مرکزی کردار کا نام جگمال تھا۔ چھ فٹ سے اونچا قد، چوڑا سینہ، بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ بڑے بڑے بال اور پگڑی اسے ایک با رعب شخصیت بناتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے بازو غیر معمولی حد تک لمبے تھے۔ وہ راجستھان کے صحرا کا سب سے بڑا ڈکیت تھا۔ صحرا ہی اس کا مسکن اور جائے پناہ تھی۔ یہ اونٹوں کا زمانہ تھا، وہ اونٹوں پر ڈکیتیاں کرتا تھا اور تیز رفتار اونٹ رکھنے کا شوقین تھا۔ اس کے گینگ نے پورے علاقے کے امن کو تاراج کیا ہوا تھا اور کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں تھا۔

اس زعم میں ایک دن اس نے علاقے کی ایک معزز شخصیت ٹھاکر بھور جی کو اغوا کر لیا۔ ٹھاکر بھور جی برسل پور ضلع بیکانیر کے راجہ تھے اور اپنے علاقے اور اپنی رعایا میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ٹھاکر بھور جی علاقے کے راجہ ہوتے ہوئے جگمال کی بدمعاشی کو برداشت نہیں کرتے تھے اسی کشمکش میں کسی بہانے جگمال نے اسے ٹریپ کر لیا۔ ٹھاکر بھور جی کے اغوا سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ راجستھان کی عوام نے اپنے راجہ کی محبت میں دھرنا دے دیا جس کے ردعمل میں ریاستی مشینری حرکت میں آ گئی۔

فوراً ہی جگمال اور اس کے گینگ کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا گیا اور جہاں جہاں صحرا میں پانی میسر تھا وہاں پانی پر پہرے بٹھا دیے گئے۔ جگمال اور اس کے ساتھیوں کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اب بقا کی کوئی راہ نہیں۔ اسی گھبراہٹ اور مایوسی میں جگمال کے ایک تیجیہ نام کے ساتھی نے ٹھاکر بھور جی کو قتل کر کے خودکشی کر لی جس نے معاملے کی سنگینی کو اور بڑھا دیا۔

جگمال نے بھی تھک ہار کر یہ کہتے ہوئے اپنے گینگ کو منتشر کر دیا، کہ اب ہمارے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا جس کو جدھر جائے پناہ ملے چلا جائے، میں پڑوسی ملک پاکستان میں ملک غلام خاں بوہڑ کے پاس جا رہا ہوں۔ ملک غلام خاں بوہڑ انڈین روہی سے ہجرت کر کے پاکستان کی روہی میں آئے تھے۔ ان کا شمار روہی کے معزز اور ممتاز لوگوں میں ہوتا تھا۔ جگمال کو یقین تھا کہ جب میں ملک غلام خاں کے پاس پہنچ گیا تو ان کے پاس مجھے پناہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ تب روہی میں یہ روایت تھی کہ جو بھی شخص کسی کے پاس پناہ لینے چلا جاتا تھا اس کے کردار سے قطع نظر اسے پناہ دینا فرض سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح جگمال پاکستان پہنچ آیا اور اسے پناہ مل گئی۔ جگمال کو پناہ دے کر ملک غلام خاں کا خاندان جن مصیبتوں سے گزرا وہ ایک الگ داستان ہے۔

ادھر انڈیا میں جگمال کے ساتھی جو پولیس کے ہتھے چڑھ رہے تھے وہ پولیس کو انفارمیشن دے رہے تھے کہ جگمال پڑوسی ملک میں ملک غلام خاں بوہڑ کے پاس پناہ کی تلاش میں گیا ہے۔

اس دوران دونوں ممالک کے حکام رابطے میں آئے اور جلد ہی پاکستان میں بھی جگمال کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو گیا۔ جہاں جہاں جگمال کی موجودگی کا گمان تھا وہاں چھاپے مارے جانے لگے اور ملک غلام خاں کے بھائی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ جگمال مذہباً ہندو تھا اور بلا کا توہم پرست شخص تھا۔ روپوشی کے دوران ایک دن اس کے سر سے پگڑی گر گئی تو اس نے ملک غلام خاں سے کہا کہ میرا سگن (شگون) برا ہو گیا ہے میں اب بچ نہیں پاؤں گا۔ بہتر ہے مجھے آپ حکام کے حوالے کر دیں لیکن میری حوالگی سے پہلے میری کچھ شرائط حکام کے سامنے رکھ دیں۔

یوں بھی ریاستی مشینری کے آگے کوئی کب تک ٹھہر سکتا ہے۔ ملک غلام خاں نے جگمال کی شرائط حکام تک پہنچا دیں۔ جس میں سب سے اہم شرط یہ تھی کہ اسے اس کے ملک انڈیا کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ جگمال یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر اسے واپس انڈیا کے حوالے کر دیا گیا تو انڈیا میں اس پہ سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں وہاں اسے سزائے موت سے کم سزا نہیں ہو گی۔ اس طرح جگمال نام کے دہشت گرد کو پکڑ کر پابند سلاسل کر دیا گیا۔ مگر اسے انڈیا کے حوالے نہ کرنے کا وعدہ نبھایا گیا۔

گرفتاری کے بعد اس کا زیادہ وقت ساہیوال جیل میں گزرا جہاں اسے ٹی بی کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ چونکہ یہاں اس پہ کوئی سنگین مقدمات نہیں تھے اس لیے کچھ سالوں بعد اسے رہائی نصیب ہو گئی۔ رہا ہونے کے بعد عمر رسیدگی اور بیماری نے جگمال کا سارا رعب و دبدبہ ختم کر دیا تھا۔ کچھ سال لاوارثوں کی طرح زندہ رہنے کے بعد جگمال گمنامی کی موت مر گیا۔ جگمال کو اب کوئی جانتا تک نہیں جبکہ ٹھاکر بھور جی کے بیٹے دیوی سنگھ بھٹی ضلع بیکانیر سے سات مرتبہ ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹھاکر بھور جی مر کر بھی جیت گیا اور جگمال مار کر بھی ہار گیا۔ سچ کہا ہے کسی نے۔

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی کہیں چلتی نہیں

Facebook Comments HS