چیونٹیوں کی دنیا


چیونٹیاں ایک حیرت انگیز مخلوق ہیں۔ اس لیے کہ اپنی بقا کی جنگ انہوں نے کسی مدد کے بغیر لڑی اور اس میں کامیاب رہیں۔ دنیا میں ان کی تعداد کا اندازہ ایک لاکھ کھرب ہے اور ان کا مجموعی وزن روئے زمین پر پائے جانے والے کل انسانوں کے وزن کے مساوی ہے۔

چیونٹیوں کی ذہانت بھی خوب ہے اور ان کے آپس میں روابط کے طریقے کار بھی۔ ان کا ایک قطار میں چلنا، چلتے چلتے سامنے آنے والی چیونٹیوں سے ٹکرانا اور سگنل منتقل کر کے آگے نکل جانا، خود سے کئی گنا زیادہ وزن اٹھا کر چلنا، اپنے دشمنوں سے یکجہتی کے ساتھ لڑائی کرنا اور اسے زیر کر دینا، اتنے دلچسپ اور اچھوتے کام ہیں جنہیں انہماک کے ساتھ انسان تا دیر دیکھ سکتا ہے۔

چیونٹیاں کالونیاں بناتی ہیں۔ مل جل کر رہتی ہیں۔ کالونی میں ان کو مختلف ٹیموں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر ٹیم کے ذمے مخصوص کام ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کھانے کا سامان اکٹھا کرنا، کالونی کو صاف رکھنا، اور سربراہ اور بچوں کا خیال رکھنا۔ کالونی کی سربراہ ایک ملکہ چیونٹی ہوتی ہے۔ ملکہ اپنی زندگی میں کئی ملین انڈے دیتی ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہوتا ہے جس میں سے مستقبل کی ملکہ کا ظہور ہوتا ہے جو ایک نئی کالونی بناتی ہے۔

مزدور چیونٹیوں کی ملکہ سے عقیدت والہانہ ہوتی ہے۔ کالونی اور ملکہ کے لیے کبھی یہ غذا جمع کرتی ہیں تو کبھی طاقتور دشمن کا مقابلہ کرنے میں جان کی بازی لگا دیتی ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب ملکہ انتقال فرما جاتی ہیں تو پھر کسی نئی ملکہ کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ اس کالونی میں رہنے والی تمام مزدور چیونٹیاں بغیر کسی سربراہ کے ہی اپنا وقت گزارتی ہیں، آخر میں وہ سب بھی مر جاتی ہیں اور پھر وہ کالونی بھی ختم ہو جاتی ہے۔

ملکہ گویا مزدور چیونٹیوں کے لئے ایسا کلٹ بن چکی ہوتی ہے جس کے آگے ان کی زندگی یا کالونی کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

پاک سر زمین پر بسنے والے لوگوں اور ان کے قائدین کے درمیان موجود جذباتی رشتہ مجھے ایسے ہی کلٹ کی یاد دلاتا ہے۔ عقیدت مندوں کا ہجوم اس ملک کے وجود کو اپنے قائدین کے وجود سے نتھی کرتا ہے۔ اگر قائد کی حکومت نہیں رہی، تو ملک کو نقصان پہنچتا دیکھ کر بھی اندرونی خوشی اور طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ املاک کو آگ لگا دینا۔ پرچم اور پاسپورٹ جلا دینا یا یا ایسا کرنے والے جذباتی لوگوں کی بالواسطہ حمایت کرنا، جز ایمان و حب الوطنی قرار پاتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے نعرے ہی ایسے بنائے جاتے ہیں جو عوام کو برین واش کر سکیں، ان نعروں کو لگانے والے اپنے ہی حقوق کو رد کر کے اس سے دستبرداری کا اعلان کرتے اور فرد واحد پر اپنی جان قربان کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ چند بڑی پارٹیوں کے چند مثالی نعرے کچھ اس طرح ہیں۔

۔ ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے

۔ نہ روٹی نہ کپڑا نہ مکان، صرف عمران، صرف عمران

۔ ہمارے سب کے دلوں کی دھڑکن نواز شریف

۔ زندہ ہے بھٹو، زندہ ہے

اب یہاں سوال تو بنتا ہے کہ اگر رہنما رستہ کھو دے تو پیچھے چلنے والوں کا کیا بنے گا؟ کیا زیادہ منطقی نعرہ یہ نہ ہوتا کہ ہمیں منزل چاہیے، رہنما خواہ کوئی بھی ہو؟

روٹی، کپڑا، مکان ہی بنیادی ضروریات ہیں، آپ اپنے لیڈر کو پیاز کے ساتھ لگا کر نہیں کھا سکتے!

اگر آپ کی عمر اپنے قائد کی عمر سے آدھی ہے تو گمان غالب ہے کہ اس دنیا میں ان کا وقت آپ سے کم باقی ہے، انہیں اپنی دھڑکن مت بنائیں کہ آپ کے قریبی لوگوں کو آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔

اگر کوئی زندہ رہ کر کام نہیں آیا، تو اس کی روح کے آس پاس ہونے کی مالا جپنا آپ کے بھوک، بے روزگاری، مہنگائی جیسے مسائل کا سدباب نہیں کر سکتا۔

شخصیت پرستی کا چورن جن جن پارٹیوں میں زیادہ شدت کے ساتھ بیچا جائے وہ عوام کے مسائل کو حل کرنے کی طرف اتنی ہی کم توجہ دیتی ہیں، کیوں کہ انہیں وہ اکسیر فارمولا ہاتھ لگ جاتا ہے جس کے تحت شخصیت پرستی کا پرچار اور اس کی ناگزیریت کا ابلاغ، کام کرنے سے زیادہ اثر انگیز اور الیکشن میں جیت کا ضامن ہوتا ہے۔

لوگ اس دنیا میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں، سب نے فنا ہونا ہے، انسانوں نے بھی، لیڈروں نے بھی (یہاں جان بوجھ کر لیڈروں کو انسانوں سے الگ رکھا گیا ہے، قاری اپنی سمجھ اور عقیدے کے مطابق انہیں غیر انسانوں کی من چاہی قسموں میں بانٹ سکتا ہے ) ۔ زمین کا خطہ جس میں یہ معاشرہ تشکیل پایا، جہاں پچھلی کئی نسلیں اپنی زندگیاں گزار چکیں، اور آنے والی گزاریں گی، کسی ایک لیڈر کی اوسط زندگی کے مقابلے میں، تا دیر قائم رہا ہے اور رہے گا۔ کسی ملک کی قسمت بدلنے کے لئے، کسی معاشرے کی تعمیر کے لئے ایک شخص کی نہیں بلکہ کئی نسلوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ یہ محنت بھی انفرادی اور اجتماعی، دونوں ہوتی ہے۔ کسی ٹوٹے پھوٹے تعفن زدہ معاشرے کی قسمت کو راتوں رات بدلنے والا اگر کوئی دعوے دار ہے تو وہ آپ سے جھوٹ بول رہا ہے۔

ارض پاک پر بسنے والی جذباتی روحیں، جب اپنی جذباتیت میں، خود کو اور اپنے ملک کی بقا کو پیچھے رکھ کر، اپنے لیڈر کے لئے لڑنے، کٹ مرنے کو تیار دکھائی دیتی ہیں تو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ انسانوں، اور خاص طور پر اس سر زمین پر بسنے والوں کا انسانی ارتقائی سفر جاری ہے یا پھر یہ چیونٹیوں کی اس جبلت کی طرف گامزن ہے جس میں کلٹ رہنما کے مرنے پر معاشرہ اپنا وجود کھو دیتا ہے؟ مضمون نگار اس بات کے لئے دعا گو ہے کہ اپنی بقا اور ارتقا کے اس سفر میں ہم سب چیونٹیوں کو جلد پیچھے چھوڑ سکیں۔

Facebook Comments HS