کراچی شہر میں سیلابی صورتحال اور ڈی ایچ اے


کراچی شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے یہ شہر بد انتظامی اور بے پناہ مسائل کی آماجگاہ ہے۔ جہاں کراچی کے دیگر مسائل پر ہمارے قومی میڈیا پر بھرپور بحث ہوتی ہے وہاں ہمارا میڈیا کراچی میں اربن فلڈنگ کے ایشو کو پوری طرح بیان نہیں کرپا رہا۔

یہ درست ہے کہ کراچی کی بد انتظامی اور غیر تسلی بخش طرز حکمرانی میں غیر موثر بلدیاتی ادارے قصور وار ہیں۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کو بلدیاتی اداروں کی سربراہی کا کئی دفعہ موقع ملا لیکن وہ شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر میں کوئی واضح تبدیلی نہ لا سکے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کہ سندھ کی صوبائی حکومت نے بھی کراچی میں چند کاسمیٹک اقدامات کے علاوہ کچھ قابل ذکر اقدامات نہ کیے ۔

گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کو کراچی شہر میں واضح مینڈیٹ ملا لیکن ان کے مختصر دور اقتدار میں کراچی شہر کے مسائل فوکس میں نہ آ سکے۔ جن پراجیکٹ کا اعلان کیا گیا ان کے لئے بروقت فنڈز ہی نہ جاری ہو سکے۔

اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف یعنی شہر کے پوش علاقوں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سیلابی صورتحال کیوں رونما ہوئی۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی یعنی ڈی ایچ اے خودمختار اتھارٹی ہے۔ کراچی شہر کی سٹی گورنمنٹ بلدیاتی ادارے کا اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں کوئی عمل دخل نہیں۔ ڈی ایچ اے کی حدود میں بلدیاتی انتخابات بھی منعقد نہیں ہوتے۔

1990 کی دہائی میں ڈی ایچ اے کی حدود میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا۔ ڈی ایچ اے فیز سات اور آٹھ تک پھیلتا چلا گیا۔
جیسا کہ اس تحریر کے ساتھ شیئر کی گئی سیٹلائٹ امیجز کی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈی ایچ اے میں فیز سات اور آٹھ سے قبل یہ بارشی اور سیلابی پانی کی قدرتی گزر گاہ تھی۔

غیر قانونی تجاوزات و تعمیرات اور ہوس زمین نے اس ان برساتی نالوں کو اتنا تنگ کر دیا کہ اب موسمیاتی تغیرات کے تحت جب شدید بارشیں ہوئیں تو پانی کی ڈی ایچ اے سے نکاسی نہ ہو سکی۔

ڈی ایچ اے کا شمار پاکستان کی پوش ترین آبادیوں میں ہوتا ہے۔ ڈی ایچ اے کے ممبران سے فی پلاٹ لاکھوں روپے ڈیولپمنٹ یعنی ترقیاتی چارجز کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔ ڈی ایچ اے یا بحریہ سوسائٹی اس سے نہ صرف سوسائٹی کے اندر روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر کرتی ہے بلکہ سیوریج اور سینیٹیشن کے موثر نظام کی بھی ذمہ دار ہے۔

جس طرح سپریم کورٹ نے نوٹس لے کر بہت سی ناجائز تجاوزات ختم کروائیں اور گجر نالے کے گرد غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر کے نالوں کو وسیع کیا۔ لیکن شہر کے اس جانب ابھی بہت سی اصلاح احوال کی گنجائش ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہاؤسنگ اتھارٹیز خودمختار ہیں کسی حکومتی ادارے کے ماتحت نہیں اپنے قوانین خود وضع کر سکتی ہیں ان کے معاملات کی نگرانی کون کرے گا۔

ڈی ایچ کراچی کی اس مجرمانہ غفلت اور زمینوں پر قبضے پر بہت سے تحقیقاتی پیپرز بھی لکھے جا چکے ہیں۔ کراچی کے معروف آرکیٹیکٹ اور سول سوسائٹی راہنما عارف کمال نے اس ضمن میں بڑی گہرائی سے تحقیق کی ہے۔ کراچی میں زمین سے جڑے مسائل پر ان کی کتاب حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی۔ جو تفصیل سے اس ایشو پر مطالعہ کرنا چاہتے ہیں انہیں اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS