پاکستان کا مستقبل

میرے کالم کا موضوع اس لیے پاکستان کا مستقبل ہے کیونکہ بہت سے لوگ یہی سوال کرتے ہے۔ پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا۔ اس سوال کا دو ٹوک جواب دینا تو مشکل ہے۔ لیکن اگر ہم اس کا سائنسی اور فلسفے کے اصولوں کے مطابق یا ان دونوں کو سامنے رکھ کے تجزیہ کریں تو ہم اس پوائنٹ تک پہنچ سکتے ہے۔ کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا۔ سب سے پہلے میں معاشرے پہ بات کروں گا کہ ایک بہتر معاشرہ کیسے بنتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ کون سے عوامل ہے جو معاشرتی ناہمواری کا سبب ہیں یا بنتے ہیں۔ فلاسفر بہتر معاشرے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ فلسفی کہتے ہیں یہ انداز نظر بالکل غلط ہے کہ معاشرے میں ٹیڑھ اور ناہمواری دولت کی نامساوی تقسیم ہے بلکہ اصل ناہمواری قوت کی نامساوی تقسیم ہے۔ فلسفی مزید کہتے ہیں کہ اگر دولت کے اعتبار سے معاشی طبقات ختم بھی ہو جائے اور تنظیم کے نتیجے میں جو قوت وجود میں آتی ہے اس کی مناسب تقسیم نہ ہو تو بھی معاشرے سے ناہمواری ختم نہیں ہوگی۔ فلاسفرز نے بہت اچھے انداز اور طریقے سے معاشرے میں موجود ناہمواری کو بیان کیا ہے۔
کیونکہ لوگ معاشرے میں دو طرح کے قوت حاصل کرتے ہے یا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلا ذہنی بلندی اور دوسرا دولت پہ قبضے کے ذریعے دولت کے ذریعے قبضہ کرنے کا مطلب سماج میں جو تنظیم پائی جاتی اس کے کلی یا جزوی حصے پہ قبضہ کرتے ہے۔ یہاں پہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس شخص یا افراد کے پاس اتنا پیسہ کہا سے آتا ہے تو اس میں زیادہ تر جاگیر دار طبقہ اور دوسرا وہ طبقہ جو غلط طریقے سے دولت کماتے ہے۔ مطلب قانون کی خلاف ورزی کر کے دولت جمع کرتے ہیں۔
یہ لوگ معاشرتی تنظیم پر قبضہ کرتے ہیں اور جب ایک معاشرہ غلط ناتجربہ کار اور غیر تعلیم یافتہ شخص کے کنٹرول میں آتا ہے تو وہ معاشرہ ترقی کی طرف نہیں بلکہ زوال کی طرف گامزن ہو گا۔ اور اگر ملکی سطح پہ دیکھا جائے تو ایسا سب کچھ جاگیرداری اور آمریت میں ہوتا ہے۔ کیونکہ آمریت میں سب کا اختیار ایک فرد کے پاس ہوتا ہے۔
حل
اس ناہمواری کو دور کرنے کا آسان حل دولت کی مساوی تقسیم اور جو تنظیم بنی ہوئی ہیں اس کو سرے سے ختم یا تعلیم یافتہ افراد کو اس میں شامل کرنا۔ اب میں پاکستان کے معاشرے پہ بات کرتا ہوں۔ ہم سب جانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں اب جمہوریت ہے۔ جمہوریت کا مطلب عوام اپنی رضامندی سے ووٹ دیتے ہیں اور اپنے لیے بندہ منتخب کرتا ہے۔ چاہے ایم این ایز ہو یا ایم پی اے عوام اس کو منتخب کرتے ہیں۔ اور یہ ایم این ایز ایم پی اے قومی اور صوبائی اسمبلی میں اپنے علاقے اور قوم کی نمائندگی کرتے ہیں اور عوام کے مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں۔
یہاں تک تو ٹھیک ہے۔ اب میں واپس جاتا ہوں معاشرے کی طرف اور مثال کے طور پہ چند منٹ کے لیے میں یہاں پہ یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان ایک معاشرہ ہے تو جو باتیں میں نے اوپر معاشرے کی ناہمواری کے حوالے سے بیان کیے وہ پاکستان میں بھی نظر آتے ہے۔ کیونکہ معاشرے کا بنیادی مسئلہ قوت اور دولت کی ناہمواری ہے۔ اب واپس پاکستانی جمہوریت کی طرف آتا ہوں۔ جہاں پہ جمہوریت ہوگی وہاں پہ لوگ عوام صحافی کھل کر بات کریں گے حکومتی سرگرمیوں پہ تنقید کریں گے
اسکے علاوہ اور بھی بہت سے بنیادی انسانی حقوق عوام کو حاصل ہے۔ جیسا کہ شخصی حقوق، آزادی اور حرکت کا حق، تعلیم کا حق، مذہب اور عقیدے کا حق اور تنظیم سازی کا حق لیکن ان سب کے باوجود منتخب ایم این اے قومی اسمبلی کا رکن علی وزیر ایک تقریر کی وجہ سے اٹھارہ مہینوں سے جیل میں قید ہے حالانکہ تقریر اور تنقید کا حق اس کو جمہوریت نے دیا ہے اور یہ تو واضح ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے۔ علی وزیر اٹھارہ مہینوں سے جیل میں بند ہے تو اس کے علاقے کی نمائندگی کون کرے گا وہاں پہ موجود مسائل پہ کون بات کرے گا۔ ایسے بہت سی باتیں، سوالات ہے جو علی وزیر کے قید سے جڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک منتخب ایم این اے ہے اور اپنے علاقے کے عوام نے ان کو ووٹ دیا ہے۔ لیکن پارلیمنٹ میں ان کے علاقے اور عوام کی پچھلے اٹھارہ مہینوں سے نمائندگی نہیں ہو رہی۔
لاپتہ افراد
معاشرہ، جمہوریت کے ساتھ لاپتہ افراد کے مسئلے پہ بات کرنا بھی مناسب ہو گا۔ ستر سالوں سے پاکستان کے بلوچستان اور وزیرستان میں لاپتہ افراد کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہا ہے۔ بغیر کسی ایف آئی آر کے بغیر کسی قانونی کارروائی کے نامعلوم افراد لوگوں کو اٹھاتے ہیں۔ اور غائب کرتے ہیں۔ پھر ان جبری طور پہ لاپتہ افراد کے لواحقین کبھی سڑکوں پر تو کبھی پریس کلب کے سامنے بیٹھے حکومت وقت سے اپنے پیاروں کے بازیابی کے مطالبات کرتے ہیں۔ کئی مدتوں سے یہ لاپتہ افراد کا سلسلہ جاری ہے ان میں بہت سے جمہوریت پسند لوگ بھی اقتدار میں آئے مگر کسی نے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
فیصلہ
اب آپ لوگ فیصلہ کریں جس ملک میں منتخب ایم این اے جیل میں لاپتہ افراد کے بچے سڑکوں پہ احتجاج میں ہوں گے ۔ جہاں پہ دولت اور طاقت ایک فرد کے پاس ہو گا تو اس ملک کا مستقبل کیا ہو گا۔

