سری لنکا کا معاشی و سماجی بحران اور پاکستان کے ساتھ مماثلت


گزشتہ دنوں دیوالیہ ہونے کے بعد سری لنکا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور خوراک اور ایندھن کی کمی پر عوام کے کئی مہینوں کے احتجاج کے بعد سری لنکا کے صدر راجا پاکسے ملک سے فرار ہو گئے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا عہدہ جلد چھوڑ دیں گے۔ ایسا تب ہوا ہے جب دارالحکومت کولمبو میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر نے دھاوا بولنے کے بعد قبضہ کر لیا ہے، اور حکمران اور عوام کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ناصرف محسوس کیا ہے بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ہے۔ مشتعل ہجوم نے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے کی نجی رہائش گاہ کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیو زیر گردش ہے مگر پاکستان کے نیشنل میڈیا نے اس صورتحال کی بہت کم کوریج پیش کی ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں میں سری لنکا میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی کی شرح مسلسل 50 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ادویات کی کمی نے صحت کا نظام تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ملک میں بسوں، ٹرینوں اور طبی گاڑیوں جیسی ضروری خدمات کے لیے بھی ایندھن نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اتنا غیر ملکی زرمبادلہ نہیں ہے کہ وہ مزید تیل یا گیس درآمد کر سکیں۔

ایندھن کی اس کمی کی وجہ سے سال 2022 کے آغاز سے ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جون کے آخر میں حکومت نے دو ہفتوں کے لیے غیر ضروری گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ 1970 کی دہائی کے بعد ایسا کرنے والا پہلا ملک ہے جس نے ایندھن کی فروخت پر کوئی سخت پابندی عائد کی ہے۔ ملک میں اسکول بند ہوچکے ہیں اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھر میں ہی رہ کر سرکاری کام کریں تاکہ ایندھن کی کمی سے نبردآزما ہونے میں مدد ملے۔

اب ہم ان عوامل کا جائزہ لیتے ہیں جن کی وجہ سے سری لنکا کی معیشت بحران کا شکار ہوئی ہے۔ سری لنکا کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر عملی طور پر ختم ہو چکے ہیں، یعنی ملک میں اتنا زر مبادلہ نہیں ہے کہ دوسرے ممالک سے ضروری سامان درآمد کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مئی میں سری لنکا نے اپنی تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی سے معذرت کر کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

سری لنکن حکومت کورونا وبا کو مورد الزام ٹھہراتی ہے، جس نے سری لنکا کی سیاحت کو بے پناہ متاثر کیا۔ سیاحت کی صنعت سری لنکا کے لئے غیر ملکی زرمبادلہ کمانے والی بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ 2019 میں کولمبو کے گرجا گھروں پر ہونے والے مہلک بم حملوں کی وجہ سے بھی سیاح خوفزدہ ہو گئے اور اس صنعت کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم غیر جانبدار ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کی ذمہ دار حکومت کی معاشی بدانتظامی ہے۔

2009 میں ملک میں خانہ جنگی کے اختتام پر سری لنکا نے غیر ملکیوں منڈیوں کا مقابلہ کرنے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کی بجائے مقامی مارکیٹ میں سامان فراہم کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی۔ لہذا دوسرے ممالک کو برآمدات سے ملکی آمدنی کم رہی، جبکہ درآمدات کا بل مسلسل بڑھتا رہا۔ سری لنکا ہر سال برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 3 بلین ڈالر زیادہ مقدار میں اشیا درآمد کرتا ہے، اور اسی وجہ سے اس کے پاس غیر ملکی زر مبادلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ 2019 کے آخر میں سری لنکا کے پاس غیر ملکی کرنسی کے ذخائر صرف 7.6 بلین ڈالرز تھے۔ حال ہی میں سری لنکا حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس صرف 50 ملین ڈالرز باقی ہیں۔

سری لنکا کی حکومت نے چین سمیت دیگر ممالک اور عالمی اداروں سے بھاری مقدار میں بیرونی قرضہ بھی لے رکھا ہے، جس پر سود کی ادائیگی ایک بڑا پرابلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی بحران کے لیے عوام کا زیادہ تر غصہ صدر گوٹابایا راجا پاکسے اور ان کی فیملی پر ہے، جن کے ایک بھائی وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر زراعت تھے۔ صدر راجا پاکسے کو 2019 میں متعارف کرائے گئے ٹیکسوں میں بڑی کٹوتیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے باعث بجٹ خسارہ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔

2021 کے اوائل میں جب سری لنکا میں غیر ملکی زر مبادلہ کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن گئی تو حکومت نے کیمیائی کھاد کی درآمد پر پابندی لگا کر اسے محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس نے کسانوں سے کہا کہ وہ اس کے بجائے مقامی طور پر حاصل شدہ نامیاتی کھاد استعمال کریں جس کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی۔ سری لنکا کو اپنے کھانے پینے کی ضرورت کا بڑا حصہ بیرون ملک سے پورا کرنا پڑا۔ چاول تک درآمد کرنے پڑے، جس کی وجہ سے اس کی غیر ملکی زر مبادلہ کی قلت اور بھی بڑھ گئی۔ مارچ 2022 میں آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کھاد پر پابندی نے چائے اور ربڑ کی برآمدات کو بھی نقصان پہنچایا۔ جس کے باعث نومبر 2021 میں حکومت کو یہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑا تھا۔

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کیا سری لنکا کی موجودہ حکومت کے پاس بحران کے حل کے لیے کوئی منصوبہ ہے؟ اطلاعات کے مطابق صدر راجا پاکسے نے استعفیٰ دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ متحدہ حکومت کے لیے راستہ بنانے کے لیے مستعفی ہو جائیں گے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ ایسا کب کریں گے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اندازہ ہی نہیں کہ ملک کی قیادت کون کر رہا ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ صدر کے باضابطہ طور پر مستعفی ہونے کے ایک ہفتے کے اندر ایک نئی وسیع البنیاد مخلوط حکومت کی تشکیل کی ضرورت ہوگی۔ حکومت 3 بلین ڈالرز کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) سے بات چیت کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف جو عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے 190 رکن ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے نے کہا ہے کہ حکومت کو قرض کی شرط کے طور پر شرح سود اور ٹیکسز میں اضافہ کرنا ہو گا، جس سے جاری مہنگائی میں مزید اضافہ کی توقع ہے۔

وزیر اعظم وکرم سنگھے نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اب فنڈز کی اتنی کمی ہے کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے نئے نوٹ چھاپے گی، اس سے بھی اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری سری لنکن ائر لائنز کی نجکاری بھی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے روس اور قطر سے درخواست کی ہے کہ ان کے ملک کو کم قیمتوں پر تیل فراہم کریں تاکہ پیٹرول کی قیمت کو کم کرنے میں کچھ مدد ملے۔

سری لنکا کی حکومت پر اس وقت غیر ملکی قرضوں کی شکل میں 51 بلین ڈالر کا بوجھ ہے۔ جس میں سے 6.5 بلین ڈالر چین کو ادا کرنے ہیں، اور دونوں ممالک اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ قرض کی تنظیم نو کیسے کی جائے۔ اس سال سری لنکا کو مجموعی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 7 بلین ڈالرز ادا کرنے ہوں گے۔ ورلڈ بینک نے سری لنکا کو 600 ملین ڈالر قرض دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ہندوستان نے 1.9 بلین ڈالرز قرض دینے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ وہ درآمدات کی شکل میں 1.5 بلین ڈالر کا اضافی قرضہ بھی دے سکتا ہے۔ بڑے صنعتی ممالک کے G۔ 7 گروپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ بھی سری لنکا کو قرضوں سے نجات حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

درج بالا حقائق سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ کوئی ملک دیوالیہ کا شکار کیوں ہوتا ہے اور دیوالیہ ہونے کے بعد اس کو کس قسم کے معاشی و سماجی پرابلمز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ساری صورتحال کی پاکستان کی حالیہ معاشی صورتحال کے ساتھ مماثلت محض اتفاق نہیں ہے بلکہ زیادہ تر پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سنگین ہوجاتی ہے جب ملک معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہونے کے ساتھ سیاسی اور انتظامی طور پر بدانتظامی کا شکار بھی ہو جائے۔ محض صدارتی محل پر قبضہ کر لینے یا وزیراعظم کی رہائش گاہ کو نذر آتش کرنے سے معاشی مسائل کا حقیقی حل سامنے نہیں آتا بلکہ اس کے لیے قوم کو ناصرف طویل عرصہ تک جدوجہد کرنا پڑتی ہے بلکہ ملک کی باگ ڈور کا اہل اور ایمان دار ہاتھوں میں ہونا اور مضبوط معاشی ٹیم کا ہونا بھی اشد ضروری ہے۔

Facebook Comments HS