ایک شخص جس کی امریکی چڑیا گھر میں نمائش کی گئی


اوٹا بینگا ایک افریقی نژاد نو عمر لڑکا تھا جو وسطی افریقہ کے موجودہ ملک کانگو کے علاقے میں پیدا ہوا۔ اوٹا بینگا کا تعلق خانہ بدوش قبیلے سے تھا جو گزر اوقات کے لیے جنگل میں شکار کرتے تھے۔ یہ خاندان تقریباً 25 افراد پر مشتمل تھا۔

بینگا کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب 1885 میں جرمنی کے شہر برلن میں یورپی رہنماؤں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں یورپی ممالک نے افریقہ کو مختلف حصوں میں بانٹ لیا۔ کانگو کا علاقہ بیلجیئم کے حصے میں آیا اور اس وقت بیلجیئم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم نے خطے کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے مکینوں پر جبری مشقت مسلط کی۔ اپنے اس مقصد کے لیے اس نے ممبوتی قبیلے کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے مقامیوں پر مار پیٹ اور قتل و غارت کی انتہا کردی۔

کہا جاتا ہے کہ اوٹا بینگا ایک دن ہاتھی کے شکار پر گیا ہوا تھا کہ لیوپولڈ دوم کی نجی فورس نے اس کے خاندان اور قبیلے کے تمام افراد کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہلاک کر دیا۔ بینگا کو واپسی پر قید کر لیا گیا اور بعد میں بطور غلام بیچ دیا گیا جہاں وہ کھیتوں میں کام کرتا رہا۔ اس وقت اس کی عمر تقریباً 12، 13 سال تھی۔

1904 میں بینگا کو اس وقت عارضی رہائی ملی جب ایک امریکی مشنری اور ماہر بشریات سیموئل وارنر نے اسے آزاد کروایا۔ درحقیقت بینگا اور اس کے ساتھ چند دوسرے افریقنز کو لوزیانا پرچیز ایکسپوزیشن میں بطور نمائش پیش کیا جانا تھا اور وارنر اسی مقصد کے لیے افریقہ آیا تھا۔ اس گروپ کو جون 1904 میں سینٹ لوئس لوزیانا لایا گیا۔ بینگا کو ایک پاؤنڈ نمک اور کپڑے کے ایک تھان کے عوض خریدا گیا تھا۔ جبکہ وارنر کو مہم کے اختتام پر سونے کا تمغہ دیا گیا۔

Louisiana Purchase pygmies

اوٹا بینگا نے اس نمائش میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی سمائل نے امریکیوں کے دل جیت لیے۔

نمائش کے اختتام پر وارنر اور بینگا وسطی افریقہ واپس آ گئے لیکن 1906 میں بینگا نے وارنر کے ساتھ امریکہ واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ واپسی پر اسے نیویارک کے برونکس چڑیا گھر میں بندروں کے ساتھ نمائش کے لیے پیش کیا گیا جہاں اس نے ایک بار پھر بڑے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

1906 کے آغاز میں نیو یارک کے سیاہ فام پادریوں کے ایک گروپ نے ریورنڈ جیمز ایچ گورڈن کی سربراہی میں مطالبہ کیا کہ بینگا کی چڑیا گھر میں نمائش غیر انسانی اور غیر قانونی ہے اور بینگا کو رہا کیا جائے۔ 1906 کے آخر تک 23 سالہ بینگا کو ریورنڈ گورڈن کی تحویل میں دے دیا گیا جس نے اسے نیویارک شہر کے ہاورڈ کلرڈ آرفن اسائلم میں داخل کرا دیا۔

1910 میں گورڈن نے بینگا کو لنچبرگ ورجینیا میں بھیج دیا جہاں اس نے پہلی بار باقاعدہ اسکولنگ اور مذہبی تربیت حاصل کی۔ لیکن جلد ہی اس کا دل اچاٹ ہو گیا اور اس نے افریقہ واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے بینگا نے ایک مقامی تمباکو کی فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیا تاکہ افریقہ واپسی کے سفر کی ادائیگی کی جا سکے۔

Ota Benga at Bronx Zoo

اوٹا بینگا کی بدقسمتی منتظر تھی جب 1914 میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی جس کی وجہ سے مسافر جہازوں نے سفر کرنا بند کر دیا اور بینگا محصور ہو کر رہ گیا۔

20 مارچ 1916 کو اوٹا بینگا نے ورجینیا کے لنچبرگ میں خودکشی کر لی۔ وفات کے وقت اس کی عمر تقریباً 33 سال تھی۔

2020 میں برونکس چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اپنے اس فعل پر معافی مانگی۔ اس کے علاوہ مختلف فورمز پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ تقریباً ایک صدی پرانے اس واقعے کو موجودہ تناظر میں دیکھیں تو یہ انتہائی غیر انسانی اور شرمناک حرکت لگتی ہے۔ لیکن کیا انسانی اسمگلنگ خرید و فروخت کے زمرے میں نہیں آتی؟ کیا انسان آج بھی سماجی، لاثانی، مذہبی، معاشی اور علاقائی طور پر قید نہیں؟ اور کیا ہم نمائشی زندگی نہیں گزار رہے؟

”اس مضمون کے لئے انسائیکلوپیڈیا ورجینیا سے مدد حاصل کی گئی ہے۔“