مسافتوں کی دھول
مسافتوں کی دھول تو سفر کرتے وقت نظر بھی نہیں آتی۔ لیکن جب دم لینے کو بیٹھیں اور لباس جھاڑنے لگیں تو کبھی دل کے پاس سے، کبھی کاندھوں سے اور کبھی ذہن کے کونے کھدروں سے جگمگ کرتے جگنو اڑتے نظر آتے ہیں۔ ان کو مٹھی میں پکڑیں تو ان کی جگمگاتی روشنی میں گزرے دنوں کے کئی بھولے بسرے چہرے دمکنے لگتے ہیں اور دھول کو جھٹکو تو قصہ پارینہ بنی کئی کہانیاں اور کئی کردار سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔
شہناز احد کی ”مسافتوں کی دھول“ کہنے کو تو دھول ہے لیکن اتنی مہکتی ہوئی اور اتنی روشن کہ خود اپنے گزرے دنوں کا عکس اور ذکر یاراں و دوستاں دل اور ذہن کو جکڑ لیتا ہے۔
میں کتاب کھولتی گئی، پڑھتی گئی اور شہناز کے قلم کی تیز نوک کے نشتر کی چبھن کو ذہن اور دل پر محسوس کرتی گئی۔
ہماری پیاری دوست شہناز! جو غم کو حوصلے میں بدلنے کا ہنر جانتی ہے، جو دکھ سے مات نہیں کھاتی، بلکہ اسی دکھ کو دوسروں کا دکھ بننے سے روکنے کے طریقے ڈھونڈتی ہے اور کامیاب بھی ہوتی ہے۔
یہ تو اس کی عملی زندگی کے چند پہلو ہیں۔ جن سے اس کے اکثر دوست واقف ہوں گے، لیکن ”مسافتوں کی دھول“ ان کے قلم کی وہ کاوش ہے جس نے ہمارے کئی خاموش ہیروز کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ڈاکٹر سید علی جعفر نقوی جیسے کرداروں کو اپنی تحریر سے سامنے لانے والی شہناز! ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اگر خود کو انسان سمجھتے ہو اور انسانیت پر یقین رکھتے ہو تو ایسے کرداروں کو یاد رکھو اور آنے والی نسلوں کے لئے ان کو ایک روشن مثال بنا کر پیش کرو۔
شہناز کا دل اور قلم درد میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہاتھ پھیلائے ہوئے سگنل پر بھیک مانگتے فقیر ہوں یا عبد الرشید جیسا خود دار بہادر شخص، ہماری دوست کا قلم سب کے لئے متحرک ہو جاتا ہے۔
وہ نہ صرف ان کی مدد کے لئے آگے بڑھتی ہے بلکہ معاشرے کی بے حسی ارباب اختیار کی لا تعلقی سے بھی نقاب سرکاری جاتی ہے۔
شیریں جوکھیو کی ہاتھ جوڑ کر اپنے شوہر کے قاتلوں کو معاف کرتے وقت کی دلی اذیت بھی اسے جھنجھوڑ ڈالتی ہے اور وہ سوال اٹھا دیتی ہے ”کیا ہم واقعی اکیسویں صدی کا حصہ ہیں؟ کیا ہمارے ہاں جمہوریت ہے؟ کیا ہمارے ہاں عدالتیں ہیں؟ اگر عدالتیں ہیں تو وہاں منصف ہوتے ہیں؟ اگر منصف ہوتے ہیں تو انصاف ہوتا ہے؟
یہ صرف شیریں جوکھیو نہیں چیخ رہی، یہ آج ہمارا پورا معاشرہ چیخ چیخ کر پوچھ رہا ہے۔ جہاں بقول شہناز کے جمہوریت ہمارے نظام میں بول چال کے ایک لفظ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ عدالتیں ہیں لیکن انصاف کے لئے نہیں صرف لوگوں کی نوکریوں کے لئے۔
کرونا کے ظالم دن ہوں یا انسانوں کے شودر بن جانے والی حقیقت، شہناز کا قلم سب حالات واقعات اور احساسات کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ لکھتے لکھتے ہم سب کے دلوں کو جھنجھوڑتی ہے۔ دل سے دل کے تار ملاتی ہے۔ شین فرخ پر لکھتی ہے تو میری آنکھوں میں آنسو بھر لاتی ہے۔ شمیم عالم پر لکھا تو آرٹس کونسل کے نہ جانے کتنے پرانے زمانے آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔ وہ انسانیت کو پامال ہوتے دیکھتی ہے تو انسانوں کو اس کی تمام خباثتوں سمیت جانوروں اور چرندوں پرندوں سے ہی ”انسانیت“ سیکھنے کا سبق دیتی ہے۔
آخر میں شہناز! ماں جی، لال لپ سٹک اور۔ کے لئے کیا کہوں، اس تحریر کو تم اور میری جیسی بہت سی بیٹیاں ہی سمجھ سکتی ہیں۔ آج جب میں صبح اٹھ کر تیار ہوتی ہوں تو میرے پیش نظر یہ ہی بات ہوتی ہے کہ جب میری پوتیاں مجھ سے ملیں تو انھیں میری شکل بھلی لگے اور گلے لگا لیں، ڈھلتی عمر میں تو اب پیاروں کی محبتیں ہی چاہیے ہوتی ہیں۔ بہت کچھ لکھ سکتی تھی اور موجود ہوتی تو بول سکتی تھی۔ لیکن بس یہ چند سطور قبول کر لیں


