سیمیں مرجان درانی: قسطوں میں موت


اب لڑکیوں کو زندہ دفن نہیں کیا جاتا۔ ہاں کچھ کو کارو کاری کے الزام میں، کچھ کو رسوم و رواج سے بغاوت اور معاشرے کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے کے جرم میں مار دیا جاتا ہے لیکن بہت سی لڑکیوں کو قسطوں میں قتل کیا جاتا ہے۔ ان کی خواہشوں امنگوں اور صلاحیتوں کا گلا گھونٹ کر انہیں دھیرے دھیرے مارا جاتا ہے، اس قتل کو آپ پدر سری معاشرے کی کرامات بھی کہہ سکتے ہیں کہ عورت مر بھی جاتی ہے اور کسی پر الزام بھی نہیں آتا۔

پدر سری عورت کو ایک کمتر انسان کا درجہ دیتی ہے، اسے مرد کی نجی ملکیت سمجھا جاتا ہے، گاڑی، بنگلے اور بینک بیلنس کی طرح۔ ذہین اور با صلاحیت عورتوں کو روایات کے نام پر پابندیاں لگا کر آہستہ آہستہ اثر کرنے والا زہر پلایا جاتا ہے اور بالآخر وہ مر جاتی ہیں، اگر جسمانی طور پر زندہ بھی رہیں تو اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کو کہیں دفن کر دیتی ہیں۔ اس طرح کی باتیں میں نے بارہا کہی اور لکھی ہیں اور دوبارہ اس لئے لکھنی پڑ رہی ہیں کہ ادھر چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک خاتون جو شاعرہ اور ادیبہ تھیں کی موت کی خبر پر تبصرہ آرائیاں ہو رہی ہیں، کوئی کہہ رہا ہے یہ خودکشی ہے اور کوئی کہہ رہا ہے قتل ہے۔ میں ان خاتون کو نہیں جانتی لیکن اس خبر کے ساتھ ان کی جو تصویریں دیکھنے کو ملیں وہ انتہائی خوبصورت اور دلکش ہیں۔ یعنی BOLD AND BEAUTIFUL اور میں کچھ نہ جاننے کے باوجود سب کچھ جان گئی۔ ظاہر ہے یہ معاشرہ ایسی عورتوں کو مار دیتا ہے، چاہے جسمانی طور پر مارے یا ذہنی طور پر ۔

مجھے اس کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوئی، فیس بک پر اسے ڈھونڈا تو اس کا صفحہ مل گیا۔ سیمیں مرجان درانی کے نام سے۔ آنول نال کے نام سے اس کا ایک ناول شائع ہو چکا ہے۔ کچھ نظمیں بھی پڑھنے کو ملیں۔ 26 جون کو اس نے اپنی ایک نظم الوداع اپلوڈ uploadکی تھی، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ لڑکی کی تعلیم، ماں باپ کی تربیت اور خاندان کی ناموس، شادی کے وقت ایک لڑکی کے پر کاٹ دیتی ہے اور لوگ ایک ایسا نر لاتے ہیں جسے پرکٹی مادہ کی تلاش ہوتی ہے۔ پھر لڑکی آہستہ آہستہ اپنے تمام پر دین و دنیا کی بنی روایات سے کترنا شروع کر دیتی ہے اور ایک ایسے معاہدے پر دستخط کر دیتی ہے جو اسے شوہر کی جاگیر بنا دیتا ہے۔

27 مئی کو وہ فیس بک پر لائیو آئی اور ایک سیشن لیا۔ اس سے پہلے اسے اسٹروک ہو چکا تھا، قوت گویائی پر بھی اثر پڑا تھا اور وہ ہسپتال میں رہ کر آئی تھی۔ اس سیشن میں وہ کافی دکھی نظر آئی، ان ریمارکس کے حوالے جو نوجوان لڑکے اس کے بارے میں فیس بک پر دیتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف ایشوز پر بات کرتے ہوئے انتہائی پر اعتماد بھی تھی۔ کاش میں اس سے رابطے میں ہوتی تو اسے طاہرہ کاظمی کے بارے میں بتاتی جو انتہائی جرات کے ساتھ ان گالیوں اور غلیظ زبان کا مقابلہ کرتی ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ بہادری کے ساتھ عورتوں کے مسائل پر قلم اٹھاتی ہیں۔

سیمیں کا کہنا تھا کہ لڑکوں نے انہیں گندی گندی گالیاں دیں اور بد تمیزی کی محض اس لئے کہ ان کے پاس دماغ ہے، اپنے نظریات ہیں، اپنی سوچ ہے ”کیا میں اپنی سوچ نہیں رکھ سکتی“ وہ پوچھتی ہیں۔ ”کیا عورت کو سوچنے کا حق نہیں ہے؟“ ”ماں کی گود مرد کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے تو پھر مرد عورت کو کم عقل کیسے کہہ سکتا ہے؟“

اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔ ابھی یہ علم نہیں ہو سکا کہ اس نے خود کشی کی یا اسے قتل کیا گیا۔ عید کی چھٹیوں کی وجہ سے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بھی نہیں مل سکی اور فرانزک رپورٹ کے لئے لیبارٹری نمونہ بھی نہیں بھیجا۔ اگر اسے قتل کیا گیا ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانا ہو گا۔ اور اگر اس نے خود کشی کی ہے تو بھی میں اسے قتل ہی کہوں گی اور اس پدر سری اور MISOGYNISTمعاشرے کو اس کا قاتل ٹھہراؤں گی۔

ماہرین سماجیات و نفسیات کو بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو گا کہ مردوں سے ذہین عورتیں کیوں برداشت نہیں ہوتیں۔ ڈینور یونیورسٹی کے نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر میخائل کا رسن کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سمجھنے میں کافی عرصہ لگا کہ اکثر صورتوں میں لوگ سمارٹ عورتوں کو پسند کیوں نہیں کرتے جب کہ پروفیسر صاحب ذاتی طور پر ذہانت کو عورت اور مرد کی بھی سب سے پر کشش خصوصیت سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ عورتوں کی ذہانت بھری باتوں کو یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں یا انہیں اپنے حلقے سے نکال دیتے ہیں۔

پروفیسر صاحب جینڈر تھیوری پڑھاتے ہیں یعنی وہ کردار اور ذمہ داریاں جو معاشرہ عورتوں اور مردوں کے لئے مخصوص کر دیتا ہے۔ اور کسی بھی انسان کی جنس کے مطابق اس پر معاشرے کے قواعد و ضوابط لاگو کیے جاتے ہیں۔ جینڈر اکثر لوگوں کے لئے اپنی قدر و قیمت کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس حوالے سے لوگ اپنی توہین بھی محسوس کرتے ہیں اور تشدد پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں۔ معاشرے نے کچھ مفروضے بنا دیے ہیں کہ مرد روتے نہیں، مرد بہادر ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ”

یعنی مردوں کو کیسا ہونا چاہیے اور عورتوں کو کیسا ہونا چاہیے، یہ وہ معاشرہ طے کرتا ہے جس میں آپ رہ رہے ہوتے ہیں اگر آپ افریقہ کے کسی قبیلے میں رہ رہے ہیں تو آپ کے مردوں اور عورتوں کے کردار اور ذمہ داریاں کچھ اور ہوں گی اور ایشیا میں کچھ اور اور یورپ میں کچھ اور۔ تو پھر کیا ذہین عورتوں کو ناپسند کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری ثقافت کے لحاظ سے ذہانت بھری باتیں کرنا نسوانیت کے خلاف ہے؟

پروفیسر صاحب کی تحقیق کے مطابق ”مردوں کو بیوی کی شکل میں ایک کنیز چاہیے ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ذہین عورتیں بری کنیز ثابت ہوتی ہیں۔ ذہین عورتیں فرسٹریٹڈ ہاؤس وائف ثابت ہوتی ہیں کیونکہ انہیں گھر میں رہ کر وہ کام کرنے پڑتے ہیں، جن کا انہیں کوئی صلہ یا معاوضہ نہیں ملتا۔ معاشرہ مرد کو عورت کے مقابلے میں بلند مقام عطا کرتا ہے جب کہ عورت کی ذہانت مرد کو عدم تحفظ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس کی مردانگی پر حرف آتا ہے۔ ادب، فلسفے اور دیگر شعبوں پر مردوں کی حکمرانی رہی، ذہین عورتوں کی بدولت یہ حکمرانی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ مردوں کی بات اپنی جگہ، خود عورتیں بھی اپنے سے ذہین عورتوں سے حسد کرنے لگتی ہیں۔“

یہ سارے عوامل اور روئیے ذہین عورتوں کو قسطوں میں قتل کرتے رہتے ہیں۔ ان کی شادی شدہ زندگی خوشگوار نہیں ہوتی کیونکہ ان کا شوہر ان کی ذہانت کی وجہ سے احساس کمتری اور عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے اور اس کا نتیجہ گھریلو تشدد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ جسمانی تشدد کا شکار ہوں، ذہنی تشدد زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔ ذہین عورت اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتی ہے اور لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ مرد ذہین عورتوں سے ڈرتے ہیں، اسی لئے ان سے دوستی کے خواہشمند تو ہوسکتے ہیں مگر شادی کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اور اگر شادی کر بھی لیتے ہیں تو نتیجہ طلاق یا عمر بھر کی ناخوشی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS