سندھ کا پانی کہاں جارہا ہے؟
عزیز اللہ ڈیرو ٹیل آباد کار ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ویسے تو پانی کا مسئلہ پورے سندھ کا ہے۔ سندھ کو اس کا جائز حق نہیں مل رہا ہے مگر اس وقت کوٹری بیراج سے منسلک اضلاع میں تو عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ زیر زمین پانی کڑوا اور زہریلا ہو چکا ہے۔ ربیع کی زیادہ تر فصلیں خراب ہو چکی ہیں جبکہ مال مویشی کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے۔ ’
’لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں‘
دریائے سندھ پر انحصار کرنے والے آخری اضلاع سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ’زمینیں خالی پڑی ہیں، کسانوں اور زمینداروں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، لوگ مجبور ہو کر شہروں کا رخ کر رہے ہیں کہ وہاں پر محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے اضلاع میں کسی زمانے میں کیکر کا درخت لگا کرتا تھا۔ ’جب کبھی پانی کی قلت زیادہ ہوتی، کسان اور زمینداروں کو فصل میں کوئی نقصان وغیرہ ہوتا تو وہ کیکر کو کاٹ کر اپنی گزر بسر کر لیا کرتے تھے۔ مگر گزشتہ پانچ سالوں اور خاص طور پر اس سال تو کیکر کے درخت بھی نہیں ہیں کیونکہ زمین بالکل خشک ہو چکی ہے۔ ‘
’ہمارے مال مویشی بھی مر رہے ہیں۔ ہم اپنے مویشیوں کو زہریلا زیر زمین اور گندا پانی پلانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کسی زمانے میں ہماری بھینس کی قیمت 10 لاکھ روپے ہوا کرتی تھی۔ اب اس کو کوئی دو لاکھ میں بھی نہیں لیتا۔ ہماری بکری کبھی ہاتھوں ہاتھ تیس ہزار کی فروخت ہوا کرتی تھی۔ اب کوئی پانچ ہزار بھی دینے کو تیار نہیں ہے۔ وہ گاؤں جہاں پانی زندگی نہیں، معذوری دیتا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ اور اپریل میں بارشوں کی ریکارڈ اوسط تاریخی طور پر کم رہی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان خشک سالی کے دور سے گزر رہا ہے۔
پانی اور ماحولیات کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ پانی کی قلت کا ایک سبب خشک سالی ہے تو دوسرا اہم سبب پانی کی تقسیم کا طریقہ کار اور تعمیر کی گئی نہروں کا ڈھانچہ ٹھیک نہ ہونا اور جدید طریقے اختیار نہ کرنا ہے۔
ارسا کے مطابق اس وقت ملک بھر میں پانی کے ذرائع دریاؤں اور ڈیموں میں اوسط توقع سے مجموعی قلت 38 فیصد ہے جس میں دریائے سندھ اور تربیلا ڈیم میں 13 فیصد، دریائے کابل میں 46 فیصد، دریائے جہلم اور منگلا ڈیم میں 44 فیصد، دریائے چناب میں 48 فیصد اور دیگر ذرائع میں یہ کمی 66 فیصد ہے۔
اس میں شک نہیں کہ یہ سال خشک سالی اور برف باری کے حوالے سے بدترین رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ میں اس وقت جو زراعت ہے یہ مکمل طور پر دریائے سندھ کی مرہون منت ہے۔ یہ کوئی آج کا نہیں بلکہ کئی سو سالوں کا معاملہ ہے۔ ’مارچ، اپریل اور مئی کے آغاز میں پانی کا زیادہ انحصار برفباری پر ہوتا ہے۔ گلیشیئر پر موجود برف کا مئی کے بعد پگھلنا اور اس کا پانی دریاؤں میں شامل ہونا شروع ہوتا ہے۔ اب ہوا یہ کہ سردیوں میں کم بارشیں ہوئیں اور برفباری بھی ریکارڈ کم ہوئی۔
جس کی وجہ سے مارچ اور اپریل میں پانی کم رہا تھا۔‘ دریائے سندھ اور دوسرے دریاؤں پر ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں۔ ’ان کا قدرتی بہاؤ روک لیا گیا ہے یا متاثر ہو گیا ہے اور اس کا اثر بھی سندھ پر پڑتا ہے۔ پانی کی تقسیم کے معاہدے 1991 کے مطابق سکھر بیراج کو 39 ہزار 500 کیوسک پانی دینا ہے مگر اس کے برعکس سکھر بیراج کو 18 ہزار 516 کیوسک پانی مل رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں 53.12 فیصد پانی کی قلت ہے، اسی طرح کوٹڑی بیراج کو بھی اس معاہدے کے تحت 15 ہزار 700 کیوسک پانی فراہم کرنا ہو گا مگر اس وقت کوٹڑی بیراج کو 4 ہزار 805 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے کوٹڑی بیراج کو 69.4 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ گدو بیراج سے نکلنے والی نہریں تاحال بند ہیں۔
اب پانی تقسیم کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا جاتا کہ سندھ کو کس وقت پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘ پانی کی تقسیم کا طریقہ کار ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ سندھ کے موسم پنجاب سے ایک ماہ آگے ہیں۔ یعنی سندھ میں پنجاب سے ایک ماہ پہلے گرمیوں کا سیزن شروع ہوتا ہے جس وجہ سے ربیع کا سیزن بھی پہلے شروع ہوتا ہے۔ جس وقت پنجاب میں گندم کاشت کی جا رہی ہوتی ہے اس وقت سندھ میں گندم کی کٹائی کا وقت ہوتا ہے۔
پانی کی تقسیم صوبوں کی ضرورت اور وہاں کے موسم کے لحاظ سے نہیں کی جاتی
ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ سندھ کو عموماً مارچ اور اپریل میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت سندھ کو پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔ پانی کی یہ فراہمی سندھ کو مئی، جون میں شروع ہوتی ہے۔ اب اس میں بھی یہ ہوتا ہے کہ یہ پانی پہلے پنجاب کو فراہم کیا جاتا ہے بعد میں سندھ کو دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سندھ کی فصلیں پانی کی قلت کے سبب خراب ہو رہی ہوتی ہیں۔ زیادہ دور نہیں بلکہ ہم اپنے آم کے فصلوں کو دیکھ لیں جس میں آم کی سائز بہت چھوٹی اور کم تعداد میں ہوئی ہے جس کی۔ وجہ وقت پر پانی کا نا ملنا ہے۔
اس سال تو سندھ میں پانی کی قلت شاید تاریخی ہے۔ جس سے کھڑی فصلیں خراب ہو چکی ہیں۔ زمین کو نئی فصلوں کے لیے تیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسان اور زمیندار پانی کی قلت کے بارے میں آواز اٹھاتے رہے لیکن ان کی آواز کسی نے بھی نہیں سنی ہے۔ آخر کب تک سندھ کو پانی جیسی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا سوال اب بھی ہے



