ملک ریاض: بلڈر سے کنگ میکر


تئیس مارچ کی صبح کو اسکول بچوں کے ساتھ کراچی کی جانب عازم سفر ہوئے۔ کووڈ کے بعد یہ پہلا تفریحی سفر تھا۔ بچے اساتذہ سب بہت خوش اور پرجوش تھے۔ بابائے قوم کو سلام کرنا تھا، پی اے ایف میوزیم میں یادگار شہداء پر پھول رکھنے تھے اور آخر میں بحریہ ٹاؤن کی سیر بھی کرنی تھی، اس لیے پانچ گھنٹوں کے سفر کا پتا ہی نا چلا اور کراچی پہنچ گئے۔

باقی مقامات سے ہوتے ہوئے جیسے بحریہ کے گیٹ پر پہنچے تو حیران رہ گیا کہ یہی وہ گیٹ ہے جس کو 6 جولائی کو میں نے اپنی آنکھوں سے جلتے اور زمین بوس ہوتے دیکھا تھا۔ اس روز یہی سوچ رہا تھا کہ یہ صرف کنکریٹ کا گیٹ نہیں جلا، اس کے ساتھ ملک ریاض کی شہرت، اس کا نام، اس کا اسٹیٹس، اس کی اسٹیٹ اور بزنس بھی نذر آتش ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ اس احتجاج میں میں کسی پارٹی کا ممبر بن کر شریک نہیں ہوا تھا صرف پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے ممبر کی حیثیت سے کوریج کے لیے شامل تھا۔

گیٹ جسے اس روز کچھ لوگ مگرمچھ کہہ رہے تھے جو ان کے بقول سندھ کی زمینیں نگل رہا تھا۔

وہ گیٹ ایک سال سے بھی کم کے عرصے میں اسی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا، مجھے دیکھتے ہی مسکرانے لگا کہ کہاں ہیں وہ جو مجھے گرانے آئے تھے میں آج پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرا ہوں، تمہارے سامنے ایستادہ ہوں، احتجاج کرنے والوں کی آگ نے میرا تو کچھ نہیں بگاڑا لیکن 32 ایف آئی آرز نے ان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس دن کے بعد کوئی احتجاج دیکھا تو نے؟ میں چپ چاپ نظریں جھکائے، اس کے طعنے سنتے ہوئے آگے بڑھ گیا، اس نے پیچھے سے آواز دی او میاں! اگر ان صاحبان سے پھر ملاقات ہو تو کہنا کہ مگرمچھ کو مارنے کے لیے مورڑو میر بحر کا حوصلہ اور قربانی چاہیے، جو ایک شیل سے اسٹیج پر جوتے چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں وہ مگرمچھ تو کیا کچھوے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔

جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو حیران ہو گیا جیسے ایک نئی دنیا میں داخل ہوئے ہوں، خوبصورت وسیع سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں، صفائی کا اعلیٰ معیار، اتنی تعداد میں روشن بلب پہلی بار دیکھے تھے، ایسے لگ رہا تھا کہ شاید یورپ میں داخل ہو گئے ہیں۔ آج مجھے لگا کہ کراچی واقعی روشنیوں کا شہر ہے۔

لندن برج، ایفل ٹاور اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے۔ جناح ایونیو پر چلتے گائیڈ نے ایک ٹیلے کی طرف اشارہ کیا جہاں علی پیلس تعمیر ہو رہا تھا، پاکستان میں پہلا بم پروف محل بننے جا رہا تھا۔

گائیڈ نے بتایا کہ اس کے اندر ماما فیض محمد گبول کا گاؤں بھی ہے جس کے ایک انچ پر بھی ملک ریاض نے قبضہ نہیں کیا ہے، یہ شیشے نما سڑکیں ان گاؤں والوں کے لیے 24 گھنٹے کھلی ہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ بحریہ ان کو بجلی اور پانی سپلائی کرتا ہے۔ یہاں دیہی علاقوں سے ہزاروں نوجوان روزگار پر لگے ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کا چولہا بحریہ کی وجہ سے جلتا ہے۔

سامنے رنگ برنگی رقص کرتی روشنیاں نظر آنے لگیں، گائیڈ نے بتایا کہ یہ ڈانسنگ فاؤنٹین ہیں۔ جب وہاں پہنچے تو ایسے لگا کہ شاید سارا کراچی اسے دیکھنے کے لیے امڈ آیا ہے۔ ایسا موڈ ریفریشنگ سین تھا کہ سفر کی ساری تھکن دور ہو گئی، سالوں کے دماغ میں کرپٹ فاٹلز ڈلیٹ ہونے لگیں، ایک لمبی سانس لی آنکھیں بند کیں ایسے لگا کہ ان روشنیوں نے دل و دماغ کو غسل دے کر ساری کثافتوں کو محو کر دیا ہے۔ سوچا اگر کراچی میں گھر ہوتا تو روزانہ اس جگہ میڈیٹیشن (مراقبے) کے لیے ضرور آتا۔ مناظر موڈ کو ایسے بوسٹ کر رہے تھے جیسے Ufrim کا پورا پیکٹ لیا ہو۔

وہاں سے ڈان زو کی طرف روانہ ہوئے، جہاں بچوں نے خوب انجوائے کیا، اور یوں رات گئے بحریہ کے گیٹ بھائی سے ماضی کی تلخیوں پر معافی مانگتے واپس روانہ ہوئے۔

بحریہ اسٹیٹ دیکھنے کے بعد سوچ رہا ہوں کہ چیونٹی اور ہاتھی کی جنگ میں لاکھ چیونٹیاں مل کر بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہیں، جس بندے کے ایک زو کا انچارج بھی کرنل رینک کا افسر ہو، سندھ کابینہ جس کے اشارے پر ری شفل ہوتی ہو، کیبنٹ ڈویژن میں جس کی مرضی پر اکھاڑ پچھاڑ ہوتی ہو، اس کا چند غیر منتخب لوگ کیا بگاڑ سکتے ہیں۔

ملک ریاض سے ہزار اختلاف سہی لیکن ان کی دور اندیشی، اور ذہانت کو سلام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو کام آج تک ہزاروں انجینئرز، آرکیٹیکٹ نا کر سکے وہ ایک ایل ڈی سی نے کر دکھایا۔

ملک ریاض کی ایک اور بات بھی پیاری لگی کہ ان کو سیاست کا شوق نہیں ہوا۔ غیر سیاسی ہونے کے باوجود آج بھی پاکستان کی سیاست میں ان کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی وقت میں کنگری ہاؤس کے پیر پگارا صاحب کو سندھ میں حاصل تھا۔ ملک ریاض اب صرف ایک بلڈر نہیں بلکہ کنگ میکر بھی ہیں۔

Facebook Comments HS