لاہور میں کم عمر گھریلو ملازمین پر فرج سے کھانا نکال کر کھانے پر تشدد اور قتل
زمانہ قدیم سے ہی غلام رکھنے کا ایک منظم نظام موجود رہا ہے اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ماضی قریب میں غلامی کو قانون کی سرپرستی حاصل تھی۔ غلام رکھنے کا یہ چلن کبھی بھی ختم نہیں ہوا، بس وقت کے ساتھ صرف اس کا طریق بدلتا رہا۔
بڑے شہروں کی مہنگی سوسائٹیز کے تقریباً ہر گھر میں ہی 5 سال سے 50 سال یا بڑی عمر کے ایسے غلام موجود ہیں۔ جنہیں روزانہ جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا ہوتا ہے، جنہیں روزانہ سونے کو 2 سے 6 گھنٹے ملتے ہیں۔ بیشتر معاملات میں ان کے سرپرست سالانہ بنیاد پر پیسے لے کر اپنے دور دراز کے پسماندہ شہروں کو چلے جاتے ہیں اور پھر مہینوں ان کی خبر نہیں لی جاتی چاہے مالکان ان کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کریں یا کم عمر بچوں کی جسمانی استطاعت سے بڑھ کر انسانیت سوز سطح پر کام لیا جائے۔
میں بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک عالمی ادارے کا حصہ رہا ہوں۔ ہم خیال اداروں کی ایسی ہی ایک میٹنگ کا میں حصہ تھا جہاں گھروں میں بچوں کو ملازم رکھنے کے خلاف اقدامات پر گفتگو ہو رہی تھی اور میٹنگ میں شریک ایک خاتون کے دو سالہ بچے کو ایک دس سالہ ملازم بچی ہال کے کونے میں بیٹھی دودھ پلا رہی تھی۔ یہ غلامی ایک منظم سسٹم کے تحت چل رہی جس کا ہم سب باقاعدہ حصہ ہیں اور اس کا خاتمہ آسان نہیں۔
ہر کچھ مہینے بعد ہم ملازمین بچوں پر شدید تشدد کے واقعات سنتے ہیں جہاں کچھ میں ان کی موت بھی واقع ہو جاتی۔ گھریلو سطح پر بچوں کی اس غلامی کے لئے وہ والدین سب سے پہلے قصور وار ہیں جو اس کا دفاع غریبی کے بینر تلے کرتے ہیں۔ اگر غربت ہے، زندگی رگڑ رہی ہے تو اس کا بوجھ اپنے کاندھوں پر برداشت کرو، تشدد کے وہ نشانات اپنے جسم کی بجائے اس 5 سال کے بچے پر کیوں ڈالتے ہو؟
ریاست کی کیا ذمہ داری؟ کیوں کم عمر بچوں کی گھریلو غلامی پر آج تک جامع قوانین نہیں بن سکے، یا اگر کہیں بن گئے تو اس پر عمل نہیں ہو سکا۔
”باقی آخری بات یہ کہ مغرب میں اخلاقیات کا شیرازہ بکھر چکا ہے، وہ جناب پستیوں میں گر چکے، مغرب نے لاکھ ترقی کر لی، کچھ بھی ہو، شکر ہے ہمارے پاس ایمان تو ہے نا!“


