زندگی کی حقیقتیں
زندگی کی حقیقتیں ان گنت ہیں، یہ ایک راز کی مانند ہے، ہر ایک پر اس کے تجربات کے بعد ایک نیا اور علیحدہ راز کھولتی ہے۔ زندگی میں ہر انسان کے امتحانات، آزمائشیں، مشکلات، پریشانیاں، دکھ، تکالیف، اضطراب دوسرے انسان سے قدرے مختلف اور چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک خود دار انسان کبھی بھی اپنے غم، اپنی کمزوریاں اگلے پر عیاں نہیں ہونے دیتا وہ معاشرے میں لوگوں کے سامنے اسی حربے کو استعمال کرتا ہے جس میں خوش رہنے، بے نیازی ظاہر کرنے کی اداکاری نمایاں ہوتی ہے۔
حالاں کہ اندر سے وہ رو رہا ہوتا ہے۔ یہیں سے تو پھر انسان اپنے غموں اور حال دل کا شریک صرف اللہ کو بناتا ہے کیوں کہ اس پر یہ آشکار ہوجاتا ہے کہ بندوں میں سے کوئی بھی اس کے دکھوں، غموں اور تکالیف کا مداوا کرنے والا نہیں۔ زندگی کے یہ مختلف ادوار اور مشکل مراحل انسان پر زندگی کی حقیقتوں کو کھولتے ہیں۔ زندگی کی حقیقت سے صرف وہی آشنا ہو سکتا ہے جس نے اس کا اصل روپ دیکھا ہو۔ اس کو تنہا جانا ہو، مشکل حالات سے لڑا ہو، اور اس راستے میں ان تکالیف اور بے چینی والے معاملات سے بھی اکیلا، تن تنہا ہی نمٹا ہو اور پھر جہاں صحت متاثر ہونا شروع ہو جائے تب زندگی کی سچائی پر مبنی حقیقت اور اصلیت اسے یہ سکھاتی ہے کہ اے بندہ یا بندی!
ہوش کے ناخن لیجیو، عقل پکڑو، ہر تجربے سے سیکھو، گزرے ہوئے مراحل سے سبق حاصل کرو لیکن اس کے گھائل کردہ غموں کو ذہن پر نہ حاوی کرو، اپنے آپ میں اور اپنی ذات میں نرمیت کے مزاج کو حاوی رکھو، الجھن پر مبنی معاملات کو جانے دو، آگے بڑھو، خود کو سمجھو۔ یہی تو زندگی ہے جس نے تمہیں وہ سکھایا جو کتاب میں درج نہ تھا، جو زندگی سکھاتی ہے کتاب وہ نہیں سکھا سکتی، زندگی اپنے ذائقے میں تلخ ہے لیکن جب آپ اسے چکھ چکے ہوں، آزما چکے ہوں، سبق حاصل کرچکے ہوں تو اپنی ذہنی و جسمانی صحت اور معاملات کی درستی کی خاطر آپ اس کے رویوں کو پھر بہ خوشی اپناتے ہیں کہ جانے دو، آگے بڑھو۔
شروع شروع میں تو آنسو آتے ہیں لیکن اس کے بعد سے زندگی خوب صورت لگنا اور محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ منفیت سے دور رہنے کی کوشش مثبت چیزوں کی جانب نظر کرواتی ہے جس سے شکرگزاری بڑھتی ہے تب بندہ اپنے آپ سے ہی کہتا ہے کہ میرے ساتھ میرا اللہ ہے۔ میری ہمت، مضبوطی، طاقت سہارا صرف اللہ ہے، اور پھر یہ سبق اپنے اندر دل کے اندر اترنے میں بھی وقت لگاتا ہے لیکن ان سب کے بعد آپ پر زندگی کی حقیقت کھلم کھلا ایسی آشکار کرچکی ہوتی ہے کہ آپ گہرے، سمجھ دار، توکل علی اللہ پر قائم رہنے اور اپنی ذات میں مستحکم اور ہر چیز میں اللہ کی رضا کو ڈھونڈنے والے بن چکے ہوتے ہیں۔
آزما کے دیکھ لیجیے۔ کیوں کہ زندگی کی حقیقتیں کبھی بھی نرم گرم بستر، ٹھنڈے کمروں، ٹھنڈی گاڑیوں، پیٹ بھرے یا ناز و نعم میں نہیں کھیلتیں۔ زندگی آپ پر اپنی حقیقت اس وقت کھولتی ہے جب آپ کو آگے بڑھنا ہو لیکن آپ کو آگے نہ بڑھنے دیا جائے، جب آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں لیکن آپ کو نہ کہنے دیا جائے، جب آپ کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ روک دیا جائے تب زندگی وہ حقیقتیں آپ پر کھولے کی گی کہ آپ کو اندر سے بھی کھرا اور باہر سے بھی شفاف کردے گی۔


