پنجاب میں الیکشن 2023 کی ریہرسل

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 17 جولائی 2022 بروز اتوار کو پنجاب کے ان اضلاع کی 20 نشستوں پر ضمنی الیکشن ہونے جا رہا ہے، جن نشستوں پر کامیاب ہونے والے اراکین پنجاب اسمبلی نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنما حمزہ شہباز کو ووٹ دے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کروایا تھا، جس پر قانون کے مطابق الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کیا اور ان 20 اراکین کو اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔
ان 20 اراکین میں سے 11 اراکین ایسے تھے جو الیکشن 2018 میں آزاد حیثیت میں جیت کر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنے جبکہ باقی 9 اراکین پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر ہی کامیاب ہوئے تھے۔ وہ حلقے جن پر 11 آزاد اراکین منتخب ہوئے تھے، ان حلقوں میں پی پی 07 راولپنڈی، پی پی 83 خوشاب، پی پی 90 بھکر، پی پی 97 فیصل آباد، جھنگ کے دو حلقے پی پی 125 اور پی پی 127 کے علاوہ پی پی 217 ملتان، پی پی 237 بہاولنگر، پی پی 272 مظفر گڑھ، پی پی 282 لیہ اور پی پی 288 ڈیرہ غازی خان شامل ہیں جبکہ وہ 9 حلقے جہاں پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے اراکین منحرف ہوئے ان میں پی پی 140 شیخوپورہ، لاہور کے چار حلقے پی پی 158، پی پی 167، پی پی 168 اور پی پی 170 کے علاوہ پی پی 202 ساہیوال، لودھراں کے دو حلقے پی پی 224، پی پی 228 اور مظفرگڑھ کا حلقہ پی پی 273 شامل ہیں۔
اس وقت پنجاب میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز ہیں جنہیں 17 جولائی کو ہونے والے اس ضمنی الیکشن میں کم ازکم 9 نشستوں پر کامیابی درکار ہے اور عدالت عظمیٰ کے حکم پر 22 جولائی 2022 کو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے بھی ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنا ہوگی، بصورت دیگر حالات مختلف ہوسکتے ہیں کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں عمران خان وہ واحد وزیراعظم تھے جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی لہٰذا پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں ان ضمنی الیکشن کو جیتنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی اپنی کمزور حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے بھرپور انتخابی مہم مریم نواز سے چلوا رہی ہے تاکہ ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔
ان ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے زیادہ تر نئے چہروں کو ٹکٹ دیے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عموما اًنہی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جو پاکستان تحریک انصاف سے منحرف ہو کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حصہ بنے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں دیگر جماعتوں کی طرح تحریک لبیک پاکستان بھی بھرپور انتخابی مہم چلاتی نظر آ رہی ہے جس نے حال ہی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 240 کراچی پر ضمنی الیکشن میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے صرف 65 ووٹوں سے شکست کھائی ہے، تحریک لبیک پاکستان کے امیر حافظ سعد حسین رضوی اس انتخابی مہم کو خود چلا رہے ہیں اور وہ ہر حلقے میں جاکر بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں، یاد رہے کہ پہلی بار 2017 میں بننے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے الیکشن 2018 میں اپنے مرحوم بانی و قائد علامہ حافظ خادم حسین رضوی ؒکی سربراہی میں حصہ لیا اور ووٹوں کے اعتبار سے پورے پاکستان میں چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے کراچی سے سندھ اسمبلی کی دو نشستیں بھی حاصل کیں، تحریک لبیک پاکستان کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اسی وجہ سے عام رائے یہی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان بھی اس ضمنی الیکشن میں بڑا سرپرائز دے سکتی ہے۔
عام طور پر ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن میں حکومت وقت کامیاب ہوجاتی ہے کیونکہ سرکاری مشینری حکومت وقت کے ہاتھ میں ہوتی ہے مگر اس ضمنی الیکشن کی بھرپور مہم کو دیکھتے ہوئے اس بات کا کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس ضمنی الیکشن میں حکومت وقت یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) و اتحادی با آسانی کامیاب ہوجائیں گے بلکہ ان ضمنی الیکشن میں چند نشستوں پر انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں، اگر ہم اس ضمنی الیکشن کو پنجاب میں آئندہ الیکشن 2023 کی ریہرسل کہیں تو یہ غلط نہ ہو گا اور یہ بھی درست ہے کہ 17 جولائی 2022 کو ہونے والے ضمنی الیکشن کا نتیجہ آئندہ قومی سیاست پر کافی گہرا اثر ڈالے گا۔

