احمدی قربانی نہیں کر سکتے


تمہاری قربانی قربانی دوسروں کی قربانی ناجائز!

پاکستان میں ہر خوشی کے موقع پر کوئی نہ کوئی بدمزگی ہونا جیسے ایک عام سی بات ہو۔ بلکہ ہم تو خود ایسے لطائف بناتے ہیں کہ شادی پر اگر کچھ رشتے دار ناراض نہ ہوں تو اسے پاکستانی شادی نہیں کہا جا سکتا۔ یعنی عرف عام میں ہم بحیثیت قوم رنگ میں بھنگ ڈال کر اس کا لطف اٹھاتے ہیں۔ ہر خاندان یا گھر میں ایک ایسا مرد یا عورت لازمی موجود ہوتا ہے جو خوشی کی تقریب کو جھگڑے میں بدلنے کا ہنر رکھتا ہے۔ امن و آتشی کو فساد کی تیلی دکھا کر ساری محفل کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے۔

لیکن بات صرف گھر یا خاندان تک محدود نہیں رہی۔ اب یہ آگ گلی محلوں سے نکل کر گاؤں، قصبے اور شہروں تک بھی پہنچ چکی ہے اور پورا ملک ہی اس وبا کی زد میں ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس پر حملے، محرم میں امام بارگاہوں میں دھماکے اور اب عیدین جو ہر مسلمان کے لیے خدا تعالی کی طرف سے خوشی کے تہوار ہیں۔ اتنے سال سے جیسے سب شیطان مل کر پلاننگ کر رہے تھے کہ آخر ان خوشی کے تہواروں کو کس طرح فساد کی نذر کیا جائے۔ سویاں کم زیادہ بھیجنے، پہلے دن بہو کا میکے کی دعوت پر چلے جانا، قربانی کا گوشت کم زیادہ ہونا یہ سب تو بہت چھوٹے چھوٹے جھگڑے تھے جن کی تلافی بھی آسانی سے ہو جایا کرتی تھی۔

آخر ایسا کیا کیا جائے کہ دنیا کو اپنے پرامن مذہب کا ایک ایسا چہرہ دکھایا جائے جو اس کا چہرہ ہی نہ ہو بلکہ کچھ شیطانوں نے مسجد ضرار میں بیٹھ کر اس کی شکل تراشی ہو اور اپنے ہی چند چیلوں کو جو ان کے فتنے کی چنگاری کو ہوا دینے میں پیش پیش رہتے ہیں ساتھ ملا کر اسے پورے ملک میں پھیلایا ہو اس کا ایک نتیجہ تین چار دن سے سوشل میڈیا پر خبر کی صورت گردش کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد کو قربانی کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔

ایک طرف تو ہمارے سیاسی لیڈر یہ بیان دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے وطن عزیز میں اقلیتوں کو ہر طرح کی آزادی ہے۔ وہ اپنی عبادت گاہوں میں آزادانہ عبادت کر سکتے ہیں۔ انہیں وہ ساری سہولیات جو ایک پاکستانی شہری کو ملنی چاہیے وہ مل رہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہم ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنا کر ان کی جبری شادیاں کروا رہے ہیں۔ کریسچن برادری کو ان کی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے منع کرنا، سری لنکن مینجر کو زندہ جلا کر بھسم کر دینے والا واقعہ بھی ہماری اقلیتوں سے حسن سلوک کی تازہ مثال ہے۔

امام بارگاہوں پر حملے، ان کے جلوس پر دھماکے، احمدیوں کی مساجد پر سے کلمہ مٹانا، ان کے افراد کی جان ثواب سمجھ کر لینا، ان کے بے گناہ افراد کو جیلوں میں ڈال کر جعلی مقدمات بنانا، گھر بدر کرنے کی دھمکیاں دینا اور اب قربانی سے منع کرنا نہ صرف منع کرنا بلکہ چن چن کر ان کے سربراہوں کو پولیس اسٹیشن بلانا اور اسٹام پیپر سائن کروانا کہ آپ کو سرے عام قربانی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اب سننے میں آیا ہے کہ اپنے گھر کے اندر قربانی کرنے ہر سچے اور پکے مسلمانوں کے ایمان خطرے میں خطرے میں پڑ گئے اور ان کی ایمانی غیرت جاگ گئی اور انہوں نے تین افراد کی شکایت کروا کر ان کو گرفتار کروا دیا۔

اب ان مؤمنین کی جماعت سے صرف ایک سوال ہے کہ آخر ان کو یہ علم کیسے ہوا کہ وہ تین افراد اپنے گھر کے اندر کیا کر رہے ہیں؟ پاکستان کے قانون کے مطابق چاردیواری کے اندر کسی بھی اقلیت کو عبادت سے روکا جانا غیر آئینی و غیر جمہوری عمل ہے۔ تو کیا وہ افراد جنہوں نے پولیس کو اطلاع دی ان کا اللہ تعالی سے اس قدر گہرا تعلق تھا کہ اللہ نے ان کو کشف یا الہام کے ذریعے خبر دی کہ فلاں گھر میں قربانی ہو رہی ہے؟ یا انہوں نے چادر اور چار دیواری کی حد توڑی اور کسی کے گھر پر نظر رکھی؟ کاش کہ جن شیطانوں نے ان کو اقلیتوں سے نفرت کرنا سکھائی اور ان کے بنیادی حقوق صلب کرنا سکھایا وہ ان کو یہ حدیث نبوی ﷺ بھی سکھا دیتے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت

ﷺ نے فرمایا ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں (جب کہ تم گھر کے اندر ہو) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“

(صحیح بخاری حدیث نمبر 6902 )

اس حدیث شریف میں کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکنے کی ممانعت آئی ہے، اور گھر والے کو اس سے روکنے کے لئے کنکر وغیرہ پھینکنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تو پہلے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان افراد کو سزا دی جائے جو کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانک رہے تھے۔ لیکن نہیں جی ہم تو دوسروں کی آنکھ کی تنکے پر نظر رکھتے ہیں اپنے شہتیر کہاں دکھائی دیں گے۔ ہم سارے غلط کام کریں گے اور پھر ان کو بخشوانے کے لیے کوئی ایک اسلامی ٹچ والا کام کر کے مجاہد بن جائیں گے۔ نہ ہم نے قرآن کو ترجمہ سے پڑھنا نہ اس پر تدبر کرنا۔ صحاح ستہ کو کبھی ہاتھ نہیں لگانا۔ اسلام کی تعلیمات کا علم صرف اتنا جو گھر سے یا کسی دوست سے پتا چل جائے۔

خود کوئی تحقیق کرنی ہے نہ تصدیق بس جو سوشل میڈیا پر پڑھ لیا اسی بھیڑ چال کا حصہ بن جانا۔ کاش کوئی ملاء، کوئی عالم دین ہمیں یہ بھی بتا دے کہ اسلام تو سلامتی کا مذہب ہے۔ امن و آشتی سکھاتا ہے۔ اس نے تو عرب کے بدو کو انسان بنا دیا تھا۔ اس قدر حسین تعلیمات ہیں اس کی۔ کاش کوئی ہم سے وحشیوں کو بھی انسان بنا دے۔ کوئی ایسا وعظ ہمارے کانوں میں بھی پڑ جائے کہ اس مذہبی تفرقہ بازی سے بازی آجائیں۔ خود بھی خوشیوں کے تہوار سکون سے منائیں اور دوسروں کو بھی منانے دیں۔ ان کی قربانی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ وہ قبول ہو گی یا نہیں اس کا فیصلہ کیوں نہ خدا پر چھوڑ دیں اور اپنی قبر کی فکر کریں۔ کاش! کاش!

Facebook Comments HS

One thought on “احمدی قربانی نہیں کر سکتے

  • 15/07/2022 at 10:17 شام
    Permalink

    محترم عبدواجد صاحب! اگر کوئی غیر مسلم مسلمانوں والا کام کرے تو ہمیں تو خوش ہونا چاہیے ۔ ہم اگر کسی انگریز عورت یا مرد کو شلوار قمیض پہنے عورت کو ڈوپٹہ اوڑھے یا مرد کو ٹوپی پہنے دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں وہ ہمیں السلام علیکم کہتے ہیں تو دل کتنا باغ باغ ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی قادیانی احمدی کوئی اسلامی کام کر رہا ہے وہ بھی اپنے گھر کی حدود میں تو ہمیں کیا حق حاصل ہے کہ ہم اس کو تعزیز کریں ہو سکتا ہے کہ وہ اسی طرح اسلام کے قریب آجائے۔ اس طرح کسی کو گرفتار کرنے سے کیا ہم انہیں سلامتی کا درس دے رہے ہیں یا جبر کا اسلام میں تو جبر نہیں ہے۔ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کب یہ تعلیم دی ہے ہمیں کہ ہم کسی کا ایمان جانچتے پھریں ۔ کیا ہم سب باقی سو فیصد اسلامی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں جو دوسروں لوگوں کو جج کریں۔

Comments are closed.