میڈیٹیشن اور ذہنی سکون


میڈیٹیشن کیا ہے اور میڈیٹیشن کی عادت اپنی زندگی میں شامل کرنے سے ہم کیسے ایک پر سکون دماغ کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں؟

میڈیٹیشن کی بہت سی اقسام ہیں، ہم یہاں میڈیٹیشن کے آسان ترین طریقہ کا ذکر کرتے ہیں۔

آپ روزانہ کسی بھی وقت، 10 منٹ کے لئے گھر، دفتر یا کہیں بھی کسی گوشے میں پر سکون انداز میں بیٹھ کر 10 منٹ کے لئے اپنی سانس پر توجہ رکھیں۔ آپ سانس لے رہے ہیں، اس کو دیکھیں، حاضر رہیں۔ یعنی آپ کی سانس اندر جانے اور باہر آنے کا آپ کو احساس اور ادراک ہو۔ سانس تیز تیز نہ لیں بلکہ نارمل انداز میں لیں۔ جس قدر ممکن ہو اپنے اعصاب اور جسم کو ڈھیلا رکھیں۔

آنکھیں بند رکھ سکتے تو بہتر ورنہ چاہے کھلی رکھیں۔ آنکھیں زور سے نہیں بلکہ آہستگی سے بند کریں۔

بہتر ہو گا 10 منٹ کا الارم لگائیں تاکہ آپ کو پتا ہو آپ نے کتنی دیر میڈیٹیشن کی ہے اور باقاعدگی کو برقرار رکھنے کے لئے اعتماد ملے گا۔

میڈیٹیشن میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ لوگ باقاعدگی سے نہیں کرتے۔ آپ روزانہ کسی بھی وقت دس منٹ نکال لیں، آپ 15 یا 20 منٹ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو آہستہ آہستہ میڈیٹیشن کے دورانیے کو بڑھاتے جائیں لیکن خود پر جبر نہ کریں۔ ایک گھنٹہ روزانہ میڈیٹیشن شروع کر کے آہستہ آہستہ 10 منٹ اور پھر مکمل چھوڑ دینے سے بہتر ہے کہ 10 منٹ روزانہ اور باقاعدگی سے پریکٹس کریں اور حسب استطاعت دورانیہ بڑھاتے جائیں۔

ان دس منٹوں میں آپ کی سوچ آپ کو کہیں اور بھی لے جا سکتی، اپنی پریشانیوں میں، معاملات میں۔ اگر ایسا ہو تو کوئی پریشانی کی بات نہیں، جیسے ہی یاد آئے کہ آپ میڈیٹیشن کر رہے ہیں تو واپس سانس کی طرف توجہ مبذول کریں۔

اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں تو ممکن ہے میڈیٹیشن شروع کرنے سے دوسرے یا تیسرے دن آپ کا ڈپریشن بڑھ جائے۔ لیکن آپ نے اس سے پریشان نہیں ہونا۔ اس کا مطلب ہو گا کہ آپ کوالٹی میڈیٹیشن کر رہے اور آپ کا دماغ پرسکون ہونے جا رہا۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اگر کسی کمرے میں بہت عرصہ سے صفائی نہ ہوئی ہو تو جیسے ہی جھاڑو لگایا جاتا ہے تو پہلے گرد اڑتی ہے۔ میڈیٹیشن شروع کرنے پر ڈپریشن کا بڑھ جانا وہی گرد ہے جو صفائی کے دوران اڑتی ہے۔ اس کے بعد آپ پر سکون ہونا شروع ہو جائیں گے۔

یہ میڈیٹیشن کا فارمل طریقہ ہے جس کے لئے روزانہ وقت نکالنا چاہیے۔ آپ انفارمل طریقے سے دن میں کافی وقت میڈیٹیشن کر سکتے، چلتے پھرتے، کھانا کھاتے، اٹھتے بیٹھتے، باتیں کرتے ٹی وی دیکھتے۔ اس کے لئے آپ کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی آپ کو یاد آئے اپنی سانس کو دیکھیں، مطلب محسوس کریں۔ تین سانس، چار سانس یا جتنی دیر یاد رہے۔

پھر جب یاد آئے کسی وقت، پھر سے یہی عمل دہرائیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ فارمل میڈیٹیشن کے لئے وقت اگر نہیں بھی نکال پا رہے تو آپ کی میڈیٹیشن پریکٹس جاری رہے گی اور آہستہ آہستہ آپ کو فارمل میڈیٹیشن کے لئے اعتماد ملے گا جس سے آپ باقاعدگی اختیار کریں گے۔

میڈیٹیشن دماغ کو پرسکون کرنے کا جدید سائنس کے مطابق بہترین طریقہ ہے۔ دماغ کی مسلسل چلنے والی مشینری کی صفائی اور اس کو آرام دینے کا ذریعہ ہے۔ آپ کی نیند بھی پرسکون اور بہتر ہو جائے گی اور آہستہ آہستہ آپ زندگی میں سکون محسوس کرنے لگیں گے، آزما کر دیکھ لیں۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “میڈیٹیشن اور ذہنی سکون

  • 18/07/2022 at 12:58 شام
    Permalink

    Good

Comments are closed.