سیاست میں مذہب کارڈ
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضمنی الیکشن ہو رہے تھے تو ایک سیاسی پارٹی کا سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹر دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ہم کس دور میں رہ رہے ہیں۔ پوسٹر پر لکھا تھا کہ ووٹ دے کر جہاد میں حصہ لیں اور جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کریں۔ شاید صحیح ہی کہا گیا تھا کہ اگر جاہلوں پر حکومت کرنا چاہتے ہو تو مذہب کا سہارا لے لو۔ جاہل کی تو کوئی خاص تعریف نہ ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ کسی بھی دلیل کو نہیں مانتا اور جب اس کی اپنی ذہانت جواب دے جائے تو وہ گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے پر اتر آتا ہے۔
مذہب کارڈ اس دنیا میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کا بہترین ہتھیار رہا ہے۔ ہم دور نہیں جاتے، برصغیر کی ہی مثال لے لیں۔ مغلوں نے برصغیر پر ایک لمبے عرصے تک حکومت کی۔ اور عوام کو ناظرہ پڑھنے، جنت میں جانے اور جہنم سے بچاؤ کے چند وظائف اور نیم ملاؤں کے حوالے کر کے تعلیم کی اصل روح سے دور رکھ کر عوام کو جاہل رکھا اور لمبے عرصے تک برصغیر پر حکومت کرتے رہے۔ انگریز نے بھی برصغیر پر حکومت کرنے کے لیے بالواسطہ مذہبی کارڈ کھیلا اور لوگوں کو تقسیم کر کے اپنے دور حکومت کو طوالت دی۔ ہمارے ہاں اسی کی دہائی میں ایک مطلق العنان حکمران نے اپنے دور حکومت کو طوالت دینے کے لیے مذہبی کارڈ خوب کھیلا۔ پھر بعد میں آنے والے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا بھی یہی وتیرہ رہا۔ وہ بھی وقتاً فوقتاً مذہب کا سہارا لیتے رہے۔
اگر ہم نے ایسے ہی مذہبی کارڈ کھیلنا ہے تو پھر ہم کو ذرا خیال کرنا چاہیے کہ مذہب اس کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ
” تم ایسی بات کیوں کرتے ہو جو کرتے ہی نہیں“
ہم کو اس بات پر ضرور توجہ دینی چاہیے جہاں سیاست میں جھوٹ جیسی معاشرتی برائی کو ایک ہنر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تو کیا اس سیاست میں مذہب کا استعمال ٹھیک ہے؟
آج اگر ہم سیاست میں مذہب کا استعمال کر رہے ہیں تو ہم کو ضرور اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کیا ہم لا الہ الا اللہ اور دوسری قرآن آیات کا سہارا لے کر جو کر رہے ہیں، کیا ہم اس پر عمل پیرا بھی ہیں یا نہیں؟
ہم اگر سیاست میں مذہبی کارڈ اس طرح ہی استعمال کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب یہ آگ اس جگہ پر بھی پہنچ جائے گی جنہوں نے یہ آگ لگائی ہے۔ جیسا کہ ایک چینی کہاوت ہے کہ سانپ، بچھو اور دوسرے زہریلے جانور پالنے والوں کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گئے؟ اور کیا جنت اتنی سستی ہے کہ جو ایک ووٹ سے مل جائے؟ اگر کسی قوم کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھا دی جائے تو کیا وہ اس دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے کوئی کوشش کرے گی؟


