شعری مجموعہ: محبت ہو ہی جاتی ہے

جذبات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ قلمی اظہار ہے۔ جس کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب انسان کسی بات کا دل کی خوردبین سے مشاہدہ کرتا ہے۔ شعر و سخن سے شغف رکھنے والوں نے ہمیشہ قلم کا سہارا لیا ہے جو ان کے ذوق کا بہترین ترجمان ہوتا ہے۔ وہ اپنے جذبات و احساسات کو زندہ رکھنے کے لیے کتاب کا سہارا لیتا ہے۔ بات شعری صنف میں ڈھالنی ہو یا نثر نگاری کے سانچے میں اسے پیش کرنے کے لئے اسلوب اور اصول اس کی شان میں اضافہ کرتے ہیں۔ بات کہنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں لیکن جس بات کو ادبی شان کے ساتھ ضبط تحریر میں لایا جائے وہ اپنے تاثر میں قلب و ذہن پر اثر انگیزی کے نقوش چھوڑتی ہے۔ جیسے تعلیم و تربیت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے اسی طرح علم و ادب کی بھی اپنی چاشنی ہوتی ہے جو ذوق مطالعہ کا لطف فراہم کرتی ہے۔
دنیا میں ہر انسان کی اپنی ترجیحات و کیفیات ہوتی ہیں جو اس کے اندر احساسات کا دیا جلا کر شمع روشن کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بے شک لکھنا ایک فطری تجسس ہے اور جب تک اس کو جلا نہ ملے۔ یہ اس وقت تک اپنی قدر و قیمت ظاہر نہیں کرتا۔ یہ قانون قدرت ہے آپ جتنا زیادہ فطری رعنائیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گے آپ کا تخیل اتنا ہی بلند پرواز ہو گا۔ اس کی پرواز آسمان کی حدوں کو چھوئے گی۔ وہ دوسروں کو نظر آئے گا۔ لوگ اس کے فن کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ کیونکہ تعبیر و تفسیر کا راز محنت اور خدا کے منصوبے میں شامل ہوتا ہے۔
محبت ہر انسان کے خون میں موجود ہے جو اسے بہترین انسان ہونے کا شرف دیتی ہے۔ یوں کہہ لیجیے یہ خدا کی ودیعت اور انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر جینے کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ یہ انسانی فطرت کا خوبصورت شگوفہ ہے جس کی مرہون منت تصورات کا جنم، رشتوں کا تقدس، باہمی میل جول، بھائی چارے کی فضا اور تعلقات و روابط کا دروازہ کھلتا ہے۔ بلاشبہ محبت مقناطیسی قوت و کشش جیسی خوبیوں سے مزین ہوتی ہے۔ کسی کو متوجہ کر لینا یا کسی کی توجہ کا مرکز بن جانا اس عنصر کا خوبصورت ہنر ہے۔
انسانی زندگی کے سب سے قیمتی اور خوبصورت وہ لمحات ہوتے ہیں جب اس کے دل کے دروازہ پر محبت دستک دیتی ہے۔ اس کی شخصیت اس وقت اور زیادہ پرکشش اور روشن خیال پہلوؤں سے آراستہ ہو جاتی ہے خصوصاً جب استعداد قبولیت کسی تحریک کو جنم دیتی ہے۔
قیصر ساگر کا شعری مجموعہ ”محبت ہو ہی جاتی ہے“ پڑھنے کے بعد قلمی تاثرات کا اظہار میرے فرض میں شامل ہو گیا۔ میں کتاب پڑھنے کے بعد من و عن اظہار کرنا اپنا ادبی فرض سمجھتا ہوں۔ کتاب میں غزلیات اور نثری نظمیں شامل ہیں جو اس کے جذبات کی بہترین ترجمان ہیں۔ انہوں نے اپنی غزلیات میں محبت کو خوب گنگنا کر اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ محبت میرا موسم ہے۔
ٹائٹل پر لکھے ہوئے چند اشعار ان کے فکری شعور کے ترجمان نظر آتے ہیں۔
چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
نگاہیں مل ہی جاتی ہیں
یہ راہیں مل ہی جاتی ہیں
یہ تقدیروں کے بند ہن ہیں
یہ بندھن بندھ ہی جاتے ہیں
بدن اور روح کے رشتے
یہ رشتے جڑ ہی جاتے ہیں
چھپائیں لاکھ اس کو ہم
یہ ظاہر ہو ہی جاتی ہے
ان کا کلام غزل کی آبرو کا بہترین مترجم ہے۔ وہ خالق کائنات کی دی ہوئی زبان کو اشعار کی زینت بنانا جانتے ہیں۔ وہ روایت کا آنچل محبت کی زبان میں سجاتے ہیں۔ خواب، محبت، حسن، ادا، وفا، تقدیر، اشک، اقرار، غزلوں کے حسن کو اس طرح دوبالا کرتا ہے۔
ان کا یہ شعر پڑھیں۔
جرم الفت کی وہ خود کو بھی سزا دیتے ہیں
روز پلکوں پہ میرے اشک سجا دیتے ہیں
ان کی روح میں محبت کی خوب شدت ہے اور ہمیشہ جذبات اس وقت پروان چڑھتے ہیں جب شدت کا لاوا پھٹتا ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے وہ ایک پل بھی محبت سے روٹھنا نہیں چاہتے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا محور کائنات، عشق و محبت، احساسات، شمس و قمر، وفا و ادا، سوز وطن، اور سوز و گداز جیسے عنوانات کا احاطہ کرتا ہے۔
غزل ان کی پسندیدہ صنف ہے جبکہ نظم ان کا دوسرا میدان ہے۔ ان کے پاس اظہار و عقیدت کے خوبصورت پھول ہیں جنہوں وہ پاٹنا اپنا فطری حق سمجھتے ہیں۔
زندگی محبت کے بغیر ادھوری اور کھوکھلی ہے۔ قیصر ساگر کا کہنا ہے جس کے پاس محبت کی زبان ہے وہ عقیدت مند بھی ہے اور جگنو بھی۔ وہ ہر جگہ اپنی روشنی بکھیرتا چلا جاتا ہے۔
ان کے اس شعر میں ایک زبردست پیغام ہے۔
اپنے اندھیرے گھر میں اجالوں کے واسطے
اوروں کا گھر جلا کے صنم روشنی نہ کر
جو لوگ دوسروں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ وہ اپنی راہ کیسے روشن کر لیتے ہیں؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ دوسروں کا گھر جلا کر اپنے گھر روشنی ہوگی؟
” محبت ہو ہی جاتی ہے“ قیصر ساگر کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ جسے انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ اشاعت کے مراحل تک پہنچایا۔ میں کتاب کی اشاعت پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دعا گو ہوں ان کی یہ کتاب علمی و ادبی حلقوں میں عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھی جائے تاکہ وہ دوسرے شعری مجموعہ کے لئے ایک اور شمع روشن کر سکیں۔

