کیسنجر کی واپسی
ہمارے دوست مرزا جمیل الدین عالی میں خدا نے کام کرنے کی قوت و صلاحیت بے پناہ رکھی ہے اتنی کہ ایک آدھ مصروفیت یا فقط کار منصبی سے اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ ایک طرف وہ بینک کے اعلی عہدے دار ہیں۔ دوسری طرف انجمن ترقی اردو کے اعزازی سیکرٹری۔ ایک مدت تک یہ پاکستان رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری جنرل رہے۔ ہاں اردو کالج کی زمام کار بھی ان کے ہاتھ میں تھی۔ اس زمانے میں معلوم ہوا کہ انجمن باشندگان لوہارو کے بھی وہ نائب صدر ہیں۔ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے خازن بھی تھے۔ ان تمام اداروں کے معاملے ان کے پاس آتے تھے۔ ایک ہی میز پر آتے تھے اور وہ بحسن وجوہ ان سے عہدہ برآ ہوتے تھے لیکن بندہ بشر ہے۔
ایک بار ہم نے دیکھا کہ رائٹرز گلڈ کی فائل پر سفارش لکھی آئی ہے کہ چارسو گز کے سارے پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کردی جائے۔ ہم حیران ہو رہے تھے کہ یہ کام کیسے کریں کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا کارندہ فائل لے آیا۔ کہا صاحب آپ نے کیا لکھ دیا ہے کہ اردو کے ادیبوں کی نگارشات کے ترجمے دوسرے ملکوں میں شائع کیے جائیں گے۔ آخر اس فائل کا نوٹ اس فائل پر اور اس فائل کا اس پر نقل کیا گیا۔ ایک بار انجمن کی فائل پر انہوں نے لکھ دیا تھا کہ ملتان میں بینک کی دو برانچیں اور کھول دی جائیں اور بینک کی فائل پر لکھا تھا کہ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کی اشاعت کا جلد بندوبست کیا جائے۔
کل اخبار میں ایک اور جمیل الدین عالی کا ذکر پڑھا جس کا نام ہنری کیسنجر ہے اور ان کے پاؤں کی گردش کا آپ پڑھتے ہی رہتے ہیں کہ آج کہیں کل کہیں صبح کہیں شام کہیں۔ بے شک سفر کر نے میں ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ جاپان میں ہانگ کانگ کے سکے چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ہانگ کانگ میں بنکاک والے ہوٹل کے کمرے کی چابی مانگتے ہیں۔ اور کوریا میں شکریہ جاپانی زبان میں ادا کرتے ہیں۔ لیکن کیسنجر کی کہانی زیادہ دلچسپ ہے۔ میسنجر کی کہانی آرٹ بخوالڈ کی زبانی۔
جب ہنری کیسنجر مختلف ملکوں کے دورے ختم کر کے واشنگٹن میں صدر فورڈ کے پاس گئے تو انہوں نے پوچھا۔
”میاں میسنجر! کیسا رہا تمہارا دورہ؟“
” بہت اچھا رہا۔ مسٹر پریزیڈنٹ!“ کیسنجر نے کہا۔ ”میں جہاں گیا لوگوں کو اپنے ڈھب پر لے آیا۔ اپنی بات منوا کر اٹھا۔ مثلاً میں نے اندرا گاندھی کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اپنے تیل کی قیمت دس ڈالر فی بیرل کم کر دیں۔“
”لیکن ہنری! ہندوستان تو تیل برآمد کر تا ہی نہیں۔ اس کے ہاں تو تیل ہوتا ہی نہیں۔ “
” اچھا؟ یہ بات ہے تبھی میں کہوں کہ مسز گاندھی نے اتنی جلدی کیسے میری درخواست پر صاد کر دیا۔“
”اچھا تو روس میں بات چیت کیسی رہی؟“
”بہت اچھی رہی۔ ہم مسٹر برزنیف کو ایک اٹامک انرجی پلانٹ دے رہے ہیں۔ “
” ہیں؟ روس کو ایک انرجی پلانٹ؟ آپ کو تو ان سے یہ کہنا تھا کہ اپنے جوہری ہتھیاروں میں کمی کریں۔ “ ۔ ”
لیکن یہ بات تو میں نے بنگلہ دیش سے منوا لی ہے۔ مسٹر پریزیڈنٹ کہ جوہری ہتھیار بنانا کم کر دیں۔ انہوں نے وعدہ بھی کر لیا ہے کہ وہ امریکہ کی خواہش کے احترام میں اس سال ایٹم بموں کی تیاری روک دیں گے۔ ”
”بنگلہ دیش ہتھیار بنائے نہ بنائے، اس سے ہمیں کچھ واسطہ نہیں۔ اور بات بتاؤ ہنری؟“
”مسٹر پریزیڈنٹ کیا عرض کروں۔ صبح کہیں ہوتا تھا شام کہیں۔ ایک ٹانگ یہاں دوسری ٹانگ وہاں۔ اس میں گڑبڑ ہوئی۔ وہ اٹامک انرجی پلانٹ مجھے کس کو دینا تھا بھلا؟“
” مصر کے صدر سادات کو۔“
”بے شک اب یاد آیا۔ میں نے اس کے بجائے سادات سے یہ دریافت کیا کہ کیا ہم اسرائیل کو فوری رسد بھیجنے کے لیے آپ کے ہوائی اڈے استعمال کر سکتے ہیں۔“
”یہ بات تو ہنری تمہیں پرتگال سے کہنی تھی۔“
” بے شک، میں بھی کتنا بدھو ہوں۔ “
” تم نے پرتگال سے کیا کہا؟“
”پرتگال سے میں نے یہ فرمائش کی کہ وہ صحرائے سینائی کو خالی کر دے اور دریائے اردن کے مغربی کنارے سے بھی فوجیں واپس بلا لے۔ “
” پرتگال نے کیا جواب دیا ہنری؟“
” انہوں نے کہا بسر و چشم“ ۔
”ہنری! میں تمہیں کیسے یاد دلاؤں کہ پرتگال نے سینائی پر قبضہ نہیں کر رکھا۔ وہ تو موزمبیق پر قابض ہے۔“
” عجیب بات ہے میں نے موزمبیق کو خالی کرنے کی فرمائش اسرائیل سے کر ڈالی۔“
”اس کا ردعمل اس پر کیا تھا؟“
” انہوں نے بھی یہی کہا۔ ہاں ہاں ضرور ضرور“
”ہنری! معلوم ہوتا ہے تم تھک گئے ہو تمہارے اعصاب جواب دے گئے ہیں۔“
”جی ہاں، تھک تو واقعی گیا ہوں۔ لیکن دورہ کامیاب تھا۔ ہم نے شاہ ایران کو میں کروڑ بشل گیہوں دینے کی پیش کش کر دی ہے۔“
”ایران کو بیس کروڑ بشل گیہوں۔ “
” جی ہاں ہمارے امدادی پروگرام کے تحت۔“
”لیکن ہنری یہ سوچو کہ ایران کی کمائی تیل سے اتنی ہے کہ اس کے پاس ہم سے زیادہ ڈالر ہیں۔ “
”میں سمجھا ڈالروں کی یہ بہتات اٹلی کے ہاں ہے۔“
”پاگل ہو گئے ہو؟ اٹلی تو بالکل کنگال ہے۔ ہنری تمہیں یہ گیہوں کا وعدہ اٹلی سے کرنا تھا۔“
” بڑی چوک ہو گئی۔ دراصل اٹلی اور ایران کے نام ایک دوسرے سے اتنے ملتے جلتے ہیں کہ میں گڑ بڑا جا تا ہوں۔ “
” اصل میں غلطی میری ہے۔ ہنری! مجھے تم کو ایک ساتھ اتنے سارے ملکوں میں نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ آدمی واقعی بوکھلا جاتا ہے۔ تم پاپائے روم سے بھی ملے؟“
” جی ہاں، ملا۔ انہوں نے مجھے شرف باریابی بخشا۔ میں نے انہیں آپ کا پیغام بھی دے دیا۔“
”کون سا پیغام بھلا؟“
”یہی کہ وہ امریکا سے نئے لڑا کے ہوائی جہازوں کے بارہ سکویڈرن خریدیں۔“
”خوب اچھا میں تم سے آخری سوال کرتا ہوں۔ اگر تم نے پوپ سے لڑا کا جہازوں کے سکویڈرن خریدنے کی فرمائش کی ہے تو ہمارے لیے دعا کرنے کو کس سے کہا؟“
”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ شاہ فیصل سے۔“
( جنوری 1975 ء میں لکھا تھا) ۔


