پنجاب ضمنی الیکشن: جیت کس کی ہوئی؟


پنجاب ضمنی الیکشن ہو چکے۔ غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے پندرہ، نون لیگ نے چار جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کامیاب ٹھہرا ہے۔ فضا میں مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایک تو وہی پرانی کہانی پھر دہرائی جا رہی ہے کہ 2018 کے الیکشن کے حوالے مقتدرہ اور عمران خان دونوں عوامی تنقید اور غیض و غضب کا شکار تھے لہذا سیم پیج کا فریش سٹارٹ ضروری تھا جس لیے عمران خان حکومت کا خاتمہ کیا گیا تا کہ ایک پر لگا ناکامی اور نا اہلی جبکہ دوسرے لگا آر ٹی ایس بٹھا کر الیکشن چرانے کا داغ دھل سکے اور پھر عمران خان کو دوبارہ دو تہائی اکثریت سے تخت پر بٹھایا جا سکے۔

دوسری رائے یہ گردش کر رہی ہے کہ عمران خان کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ نون لیگ کو لے ڈوبا۔ جب نون لیگ اس بیانیے پر قائم تھی تو عوام نے 2018 کے نامساعد حالات میں بھی اسے خوب نوازا لیکن عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نون لیگ کا وہی پرچم عمران خان نے اٹھا لیا تو عوام نے اس کی تائید کی۔ غرض کہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن میری نظر میں تحریک انصاف کی اس جیت میں ستر فیصد کردار ان کی سوشل میڈیا نے ادا کیا ہے جبکہ باقی کا تیس نون لیگ کی پالیسی اور مہنگائی وغیرہ ہے۔

سب سے پہلے سوشل میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہیں۔ میں نے گزشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ کس طرح سوشل میڈیا کی مدد سے ووٹرز کے ذہن کو قابو کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ٹرمپ جیت کی مثال اور حوالے بھی دیے تھے۔ پاکستان میں وہی طریقہ عمران خان نے 2008 سے اپنایا ہوا ہے جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے جس کا مقابلہ نون لیگ نے روایتی طریقے سے کیا اور ناکام رہی۔ کسی نے خمینی سے پوچھا تھا کہ اکیلے انقلاب نہیں آتے کہاں ہے تمھاری فوج تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ میری فوج ابھی جھولوں میں ہے۔

عمران خان نے 2008 میں جن لوگوں کی ذہن سازی کے لیے سوشل میڈیا کی سہارا لیا وہ اس وقت جوان ہیں اور کچھ اس ملک کے کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں۔ مزید برآں عمران خان نے عوام کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان کے ذہنوں کے مطابق انھیں ٹارگٹ کیا۔ ان میں پہلی قسم تعلیم یافتہ لوگوں کی ہے جو غیر ملکی دانشوروں اور ویب سائٹس سے متاثر ہوتے ہیں، انھیں ٹارگٹ کرنے کے لیے تحریک انصاف نے پہلے مرحلے پر متعدد جعلی قسم کے سرور اور ویب سائٹس بنائیں اور وہاں ایسی خبریں لگائیں کہ نون لیگ کرپٹ جماعت ہے اور ملکی بدنامی کا ذریعہ ہے۔

دوسرے مرحلے میں فیس بک اور ٹویٹر پر ملکی اور غیر ملکی بڑی بڑی شخصیات کے جعلی اکاؤنٹ بنائے اور وہاں سے عمران خان کے نجات دہندہ ہونے کے ٹویٹس کیے گئے۔ عوام میں دوسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جو وقت گزاری اور تفریح کے لیے سوشل میڈیا دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگ زیادہ تر ٹک ٹاک یا فیس بک دیکھتے ہیں۔ تحریک انصاف نے ایسے لوگوں کو قابو کرنے کے لیے مزاحیہ قسم کی ویڈیو بنائیں جن میں مزاحیہ انداز میں ساری سیاسی جماعتوں بالخصوص نون لیگ کا بھد اڑایا جاتا تھا۔

یوں تفریح تفریح میں غیر محسوس طریقے سے اس وسیع طبقے کو بھی قابو کر لیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب عمران خان یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر سے ملتے تھے تو سیاسی جماعتیں ان کا مذاق اڑایا کرتی تھیں لیکن میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے، اخبارات اور کتابیں پاکستان میں کب سے بمشکل ایک فیصد حلقے تک محدود و چکے ہیں۔ ہر نوجوان اور بچے بوڑھے کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے اور خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد یوٹیوب، ٹک ٹاک اور سنیک ویڈیوز پر مزاحیہ ویڈیوز دیکھتے ہیں لہذا عمران خان کے ان لوگوں سے ملاقات کا مذاق بنانے کی بجائے اس کا توڑ ضروری ہے لیکن افسوس کہ وہ اس جدید پروپیگنڈا وار کا مقابلہ 2018 والی کارکردگی سے کرتے رہے اور یہ بھول گئے کہ ان کا مخاطب وہ لوگ ہیں جو اس وقت بھی والدین کی کمائی پر تھے اور آج بھی ابھی ان پر ذمہ داریوں کا اتنا بوجھ نہیں پڑا کہ وہ کارکردگی اور تقریروں میں فرق کر سکیں۔

بلکہ اس مقصد کے لیے تحریک انصاف کے سکول کے بچوں تک کو ٹارگٹ کیا۔ باقاعدہ والدین کی طرف سے بیانات سامنے آئے کہ ان کے بچوں کو سکولوں میں نواز شریف کی کرپشن اور عمران خان کی مسیحائی کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے لوگوں کو حکومت میں نہ صرف بڑے بڑے عہدے دیے بلکہ مختلف اداروں میں بھی کلیدی عہدوں پر اپنے حامی بٹھا دیے جو نون لیگ کے لیے گلے کی ہڈی بنے رہے۔ تماشا دیکھیں کہ جب بھی نون لیگ حکومت نے کسی کو عہدے سے ہٹانا چاہا، کسی اونچی بارگاہ سے اس کا یہ فیصلہ ریورس ہو گیا۔

عوام میں تیسرا طبقہ وہ ہے جنھیں سیاسی بحثوں اور معیشت کے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے کچھ سروکار نہیں ہوتا بلکہ ان کا واحد مسئلہ ان کی روزی روٹی ہے جو مہنگائی سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ واحد طبقہ تھا جو تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوتا تھا کیونکہ دکان سے خریدی جانے والی ہر چیز ان پر پروپیگنڈا وار کی حقیقت کھول دیتی تھی۔ بدقسمتی سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جب نون لیگ نے مشکل فیصلے کیے تو یہ طبقہ بھی ان سے روٹھ گیا جس کا نتیجہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں سب نے دیکھ لیا۔

مان لیا کہ عمران خان ملک کو ڈیفالٹ لائن پر کھڑا کر گئے تھے بس رسمی اعلان ہونا باقی تھا۔ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے شہباز شریف کو ڈیزل پٹرول مہنگا کرنے جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑے لیکن افسوس کہ وہ یہ حقیقت بھول گئے کہ اسی فیصد سے زائد پبلک ان باتوں کو نہیں سمجھتی اور ساٹھ فیصد کا مسئلہ مہنگائی اور روزی روٹی تھا۔ نون لیگ کی شکست میں باقی تیس کردار مہنگائی اور بیانیے جیسے فیکٹرز کا بھی ہے لیکن جیت کا اساسی فیکٹر تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم ہے جس نے چومکھی لڑائی لڑی۔

Facebook Comments HS