گال ٹیسٹ : پاکستان کے لیے مشکلات، نظریں ایک بار پھر بابراعظم پر

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


بابر اعظم
سب کی نظریں اور امیدیں بابر اغطم پر
پاکستانی کرکٹ کی کہانی اس وقت صرف دو لفظوں میں بیان ہورہی ہے اور یہ دو لفظ ہیں شاہین شاہ آفریدی اور بابر اعظم۔

سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بابر اعظم کی سنچری نے اس اہم نکتے کو اچھی طرح اجاگر کردیا ہے کہ وہ تجربے کی بھٹی میں پک کر کندن بن چکے ہیں ۔ان میں اب ذہنی طور پر اتنی پختگی آچکی ہے کہ وہ اپنے مضبوط اعصاب کے ساتھ مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی پرسکون رہ کر بیٹنگ کرسکتے ہیں۔آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں 196 رنز کی اننگز کی یادیں ابھی بھی لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں۔

بابر اعظم کو اس سے قبل 2018 میں سنچورین ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جب 86 رنز پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد انہوں نے ٹیل اینڈرز کے ساتھ 95رنز کا اضافہ کیا تھا جس میں ان کا اپنا حصہ 71 رنز تھا لیکن گال ٹیسٹ میں ان کی اننگز کا تاثر اس لیے بھی گہرا ہے کہ یہ ایک ایسی وکٹ پر کھیلی گئی جو اسپنرز کی جنت ہے اور جب ایک ایک کرکے ان کے ساتھی بیٹسمین ان کا ساتھ چھوڑتے جارہے تھے اور اس وقت سری لنکا کے 222 رنز تک پہنچنا بھی مشکل نظر آرہا تھا۔

بابر اعظم ریکارڈز کی بلندیوں پر کیسے پہنچے

کراچی ٹیسٹ: ڈبل سنچری سے محروم بابر اعظم کئی نئے ریکارڈ بنا گئے

انڈین کرکٹر دنیش کارتک کی بابر اعظم سے متعلق پیش گوئی اور سوشل میڈیا پر چرچے

بابر اعظم کا اپنا اسکور ُاس وقت 55 رنز تھا جب حسن علی کی شکل میں نویں وکٹ گری تھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے نسیم شاہ کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت میں 70رنز کا اضافہ کیا جس میں ان کا اپنا حصہ 64 رنز کا تھا۔

بابر اعظم کی اس اننگز میں نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی جنہوں نے ایک سو بیس منٹ کریز پر اعتماد سے گذارتے ہوئے باون گیندیں کھیلیں اور اپنے کپتان کو سنچری بنانے کا موقع فراہم کیا اور میزبان ٹیم صرف چار رنز کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکی۔

گال ٹیسٹ میں بابر اعظم کی سنچری اس نوعیت کی اگرچہ پہلی اننگز نہیں ہے جس میں کسی بیٹسمین نے اپنے سامنے گرتی ہوئی وکٹوں کے باوجود ٹیل اینڈرز کے ساتھ مقابلہ جاری رکھا ہو ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن بابر اعظم سمیت ایسی تمام اننگز دوسرے بیٹسمینوں کو یہ پیغام ضرور دیتی ہیں کہ مقابلہ اس وقت تک ہوسکتا ہے جب تک آخری وکٹ باقی ہے۔

فائل فوٹو

ابر اعظم کی شاندار سنچری سے پاکستانگال ٹیسٹ میں بہتری کی جانب گیا

بابر اعظم جب گال ٹیسٹ میں بیٹنگ کر رہے تھے تو ایک اور پاکستانی کپتان آصف اقبال فوری طور پر یاد آگئے جو اپنے کریئر میں مین آف کرائسس کے نام سے مشہور تھے۔ آصف اقبال نے 1967میں انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ میں اپنی مشہور 146رنز کی اننگز اس وقت کھیلی تھی جب پاکستانی ٹیم کی آٹھ وکٹیں صرف 65 رنز پر گرچکی تھیں۔اس اننگز میں انہوں نے انتخاب عالم کے ساتھ نویں وکٹ کی شراکت میں 190 رنز کا اضافہ کیا تھا۔

اور یہ بھی آصف اقبال ہی تھے جنہوں نے 1977 میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں اپنی ناقابل شکست سنچری ( 152 رنز ) کے دوران آخری پانچ وکٹوں کی شراکت میں173 رنز بنائے تھے جن میں87 رنز آخری وکٹ کے لیے اقبال قاسم کے ساتھ بنے تھے جو اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے تھے۔

یہ آصف اقبال کی جرات مندانہ اننگز ہی تھی جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کو 285 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوپائی تھی اور وہ میچ ڈرا ہوگیا تھا۔

پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں جاوید میانداد اور انضمام الحق دو ایسے بیٹسمین ہیں جنہیں اپنے ٹیل اینڈرز کے لیے ڈھال بن کر بڑی اننگز کھیلنے کا فن خوب آتا تھا۔

انضمام الحق کے کریئر میں دو ٹیسٹ میچ ایسے ہیں جن میں انہوں نے اپنے آخری بیٹسمین کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو جیت سے ہمکنار کیا تھا۔

1994 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں مشتاق احمد کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 57 رنز بناکر وہ ایک وکٹ کی ڈرامائی جیت کا اہم کردار بنے تھے۔ 2003 میں بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں صورتحال کراچی سے زیادہ خراب تھی جب پاکستانی ٹیم کی ساتویں وکٹ164 رنز پر گری تو جیت ابھی بھی97 رنز دور تھی ایسے میں انضمام الحق نے اپنے ٹیل اینڈرز شبیراحمد ۔عمرگل اور یاسرعلی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ناقابل شکست 138 رنز کے ذریعے پاکستانی ٹیم کو ایک وکٹ سے فتح دلائی تھی۔

بابر اعظم جب بھی ٹیسٹ میچ میں بڑی اننگز کھیلتے ہیں تو سب سے زیادہ خوشی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ مکی آرتھر کو ہوتی ہوگی کیونکہ وہی ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے ایسے وقت میں جب کرکٹ کے پنڈت بابراعظم کی ٹیسٹ ٹیم میں موجودگی پر سوالات اٹھاتے تھے انہوں نے ُاس وقت اعتماد کا ووٹ بابراعظم کے حق میں دے دیا تھا کہ ان کا ٹیلنٹ صرف محدود اوورز کی کرکٹ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ لامحدود ٹیلٹ کے مالک ہیں۔

گال ٹیسٹ کے تیسرے دن کیا ہوا ؟

کپتان بابر اعظم کو ایک جانب اس بات کی خوشی ضرور تھی کہ پاکستانی اسپنرز محمد نواز اور یاسر شاہ کو وکٹیں مل رہی تھیں لیکن دوسری جانب یہ خدشات بھی سر ابھار چکے تھے کہ سری لنکا کی مجموعی برتری تین سو سے زیادہ کی ہوچکی تھی اور اس اسپن فرینڈلی وکٹ پر چوتھی اننگز کھیلنا بچوں کا کھیل نہیں۔

سری لنکا نے دوسری اننگز 36 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو نائٹ واچ مین کاسن راجیتھا کی وکٹ پاکستانی ٹیم کو جلد مل گئی لیکن اس کے بعد اوشادا فرنینڈو اور کوسال مینڈس کی شراکت میں بننے والے 91 رنز میزبان ٹیم کے لیے بڑی اہمیت رکھتے تھے۔ ان دونوں کو لیگ اسپنر یاسر شاہ نے آؤٹ کیا لیکن دونوں بالترتیب 64 اور 76رنز بناکر اپنا کام کرگئے۔دوسری جانب لیفٹ آرم اسپنر محمد نواز پہلی بار اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن دنیش چندی مل پاکستانی بولرز کے ہاتھ نہ آئے اور پہلی اننگز کی طرح اس مرتبہ بھی اپنی ٹیم کے لیے 86 رنز ناٹ آؤٹ کی شکل میں غیرمعمولی اہمیت کی حامل اننگز کھیل گئے۔

سری لنکا نے تیسرے دن کھیل کا اختتام 329 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر کیا تو اس کی مجموعی برتری 333 رنز کی ہوچکی تھی۔

بابر بمقابلہ پراباتھ جے سوریا

گال ٹیسٹ اس وقت جس موڑ پر آچکا ہے اس میں دونوں ٹیمیں اپنے ٹرمپ کارڈ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔پاکستانی ٹیم کے لیے ظاہر ہے میچ جیتنے یا بچانے کی واحد امید بابر اعظم سے وابستہ ہے جنہیں پہلی اننگز سے بھی کہیں زیادہ طویل بیٹنگ کرنی ہوگی۔

سری لنکا کی ٹیم گال میں لگاتار دوسرا ٹیسٹ جیتنے کے لیے اپنے لیفٹ آرم اسپنر پراباتھ جے سوریا کی طرف دیکھ رہی ہے جو پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور جنہوں نے گال میں آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز بارہ وکٹوں کی شاندار کارکردگی کے ساتھ کرتے ہوئے سری لنکا کو اننگز کے واضح فرق سے کامیابی دلائی تھی۔

پاکستانی ٹیم کو یہ ٹیسٹ جیتنے کے لیے اس میچ سے حوصلہ لینا ہوگا جو اس نے سات قبل پالیکلے ٹیسٹ میں دکھایا تھا اور یونس خان اور شان مسعود کی سنچریوں کی مدد سے 377 رنز کا ہدف عبور کیا تھا۔ یونس خان ریٹائر ہوچک اور شان مسعود گال ٹیسٹ میں بینچ پر بیٹھے ہیں لیکن بابراعظم میدان میں ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26020 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments