دانشور کا نوجوان پر مہلک حملہ


یہ کوئی اچنبھا نہیں کہ ’دانشور‘ پاپی پیٹ کے لیے فکری بد دیانتی کا مرتکب ہوا۔ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا کہ قلم فروشوں کا ایک مخصوص گروہ سیاہ کو سفید، رات کو دن، حماقت کو بصیرت اور کھوکھلے نعروں کو عظیم عمل بنا کر پیش کر رہا ہے۔ فکری طور پر پسماندہ معاشروں میں جذباتی اور کھوکھلے نعروں کا معجون بک جاتا ہے۔ مادر علمی سے لے کر ذرائع ابلاغ پر حقیقی مسائل پر گفتگو نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ مذہب و ملت کے نام پر من چاہا معجون بیچنے میں کبھی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسرے رخ سے نا آشنا اذہان معلومات اور پراپیگنڈے میں تمیز سے قاصر رہ جاتے ہیں اور معجون ساز فیکٹریاں چلانے والوں کو ان کی اس کمزوری کا بخوبی علم ہے۔

ہماری سیاست میں مذہب و ملت کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلنا اور ان جذبات کو اپنی حمایت میں بدلنے کا چلن بہت پرانا ہے۔ تقسیم کے وقت سے کسی طور یہ عمل شروع ہو گیا تھا۔ حکمران چاہے سویلین رہے ہوں یا فوجی، انہیں ملک چلانے اور عوام کو اچھی حکمرانی دینے سے زیادہ خود کو ’مہاتما‘ بنا کر پیش کرنے کی فکر زیادہ رہی۔ اپنے اپنے ’مہاتما‘ کی اندھی تقلید کرنے والے پرستار بھی ہمیشہ موجود رہے تا اہم اس کے ساتھ سات گفتگو کی ثقافت کسی طور بچی رہی اور لوگ منطقی یا غیر منطقی بحث و تمحیص کے بعد ایک دو سے گو گلے بھی لگا لیا کرتے تھے، سماجی تعلق سیاسی (یا عسکری) وابستگی کے باوجود کسی طور موجود رہتا اور سیاستدان بھی اتنی سمجھ بوجھ ضرور رکھتے تھے کہ مخالف کی پگڑی اچھالنے کے بعد اس کی قمیض پر ہاتھ نہیں ڈالنا۔ کسی ایک حتمی حد فاصل کو سب مانتے تھے اور معاملات کسی طور بگڑنے کے بعد سنورنے کے امکانات باقی رہتے تھے۔

بہر حال لامتناہی مداخلت اور لامتناہی زوال پر منتج ہونا ہی تھی اور اس بار مداخلت کی بقا کے لیے ایک ایسے ’مہاتما‘ میدان میں اتارا گیا جس کا تعلق تو کھیل کے میدان سے تھا مگر ستم ظریفی کہ وہ وضع داری یا شرافت کے اس وصف سے محروم ہے جس کی توقع کسی کھلاڑی سے کی جاتی ہے۔ کسی بھی قیمت پر خواہشات کی تکمیل کو ’جنون‘ کا نام دیا گیا اور ’دانشور‘ نے ملک کے نوجوان پر تہمت لگائی کہ وہ اس جنون کا حامی ہے۔ نوجوان حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ یا تجزیے کی صلاحیت کا حامل ہوتا تو اس تہمت کی مزاحمت کر سکتا تھا۔

نوجوان یہ سوال کر سکتا تھا کہ مغلظات بکنے، مخالفین کو چور ڈاکو کہنے سے ہم کس اوج ثریا کو پالیں گے؟ آیا اسلامو فوبیا پر تقریر ہی میرے اور تمام عالمی مسائل کا حل ہے اور کیا دنیا اس ایک تقریر کی سامع ہے؟ کیا عثمان بزدار، مراد سعید، علی امین گنڈا پور، شہریار آفریدی اور اس قماش کے سینکڑوں کا انتخاب مجھے میرے خوابوں کی تعبیر دلانے کے لیے کیا گیا ہے؟ کیا وسیع سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہنر مندانہ تعلیم، با مقصد جدید تعلیم کا کوئی بھی ٹھوس منصوبہ بنائے بغیر میری سماجی و معاشی ترقی ممکن ہے؟ کیا مدرسے کم پڑ گئے تھے کہ اب روحانی یونیورسٹی کا قیام ہی ملک کے مسائل کا حل پیش کرے گا؟

نوجوان نے یہ بھی نہ پوچھا کہ اپنے اور اپنے حواریوں کے خلاف بد عنوانی اور بے قاعدگیوں کی منصفانہ تحقیقات کرا لینے سے ’شفاف چلی‘ کی صحت پر کس طرح کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے اور ایسی کسی بھی تحقیقات میں مزاحم ہونے کا مقصد کیا تھا؟ نوجوان اپنے محبوب ’دانشور‘ سے یہ بھی نہ پوچھ سکا کہ بھائی تمہارے کرپٹ پیٹی بھائی صحافی تو بے روزگار اور بھوکے مر رہے ہیں مگر تم دیانت دار خان کے دیانت دار حاشیہ بردار ہو کر کروڑوں کے مالک کیسے بن بیٹھے اور چلو بن ہی گئے ہو تو وہ نسخہ کیمیا ہم درد کے ماروں کو کیوں نہیں بتاتے؟

نوجوان یہ پوچھنا اور سوچنا بھی بھول گیا کہ جب اسے جنونی قرار دے کر خان کا سب سے مہلک ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے تو وہ اس تہمت کو قبول کرنے سے انکاری کیوں نہ ہوا؟ کیا نوجوان یہ ثابت کر رہا ہے کہ اب مائیں سمجھدار بچے پیدا نہیں کرتیں؟ بدقسمتی سے نوجوان نے ’دانشور‘ کی بد دیانتی پر کوئی سوال نہ اٹھایا جو خان کی اندھی پرستش کو شعور کی علامت کے طور پر بیچتا رہا

Facebook Comments HS