نواب واجد علی شاہ اختر کے خطوط

خط کہنے کو تو ایک نجی تحریر ہے جس کا مقصد اپنا مدعا بیان کرنا ہے۔ یہ ادب کی ایسی صنف نہیں کہ جس کا فارمیٹ طے شدہ ہو اور خط نگار کو ہر صورت اس فارمیٹ کے حضور سر تسلیم خم کرنا پڑے تاہم مکتوباتی ادب دیگر اصناف ادب سے جدا، منفرد اور الگ تھلگ ضرور ہے، خط کبھی مختصر ترین شکل میں تار بنتے ہیں تو کبھی ان کی طوالت کے سامنے دفتر کے دفتر بھی کم پڑ جاتے ہیں۔
ہر خط اور ہر خط نگار کے اسلوب کا تعلق اس کی لمحہٴ موجود کی ذہنی اور نفسی کیفیت سے ہوتا ہے جس سے وہ گزر رہا ہوتا ہے۔ غم، خوشی، اداسی، حیرت، صدمہ، تنہائی، بیگانگی، خوف یا اس طرح کے کئی جذبے جن سے فرد عموماً دوچار رہتا ہے، ان احساسات کا عکس خط کے ہر جملے سے چھلکتا ہے۔ محبت ایک آفاقی جذبہ ہے اور خط ایسی ابلاغی سعی کا نام ہے کہ جس کے رواج دینے میں ہر خاص و عام نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بادشاہ ہو کہ فقیر، نیک ہو کہ بد، بندۂ مومن ہو کہ کافر، ملحد ہو کہ متشکک، شہری ہو کہ دیہاتی، شاعر ہو کہ ادیب، صحافی ہو کہ سیاست دان یا علماء و مشائخ عظام ہوں کہ ان کے روبرو حلقہٴ ارادت میں دوزانو بیٹھنے والے مریدان باصفا، ان سب نے اپنے دل کی سنی اور خط کو واسطہ بناتے ہوئے آگے کہی بھی!
واجد علی شاہ اختر ( 1822 ع۔ 1887 ع) سلطنت اودھ کا وہ ٹمٹماتا ہوا چراغ تھا کہ اس نے اپنا دماغ اگر کار سیاست میں لگایا تو دل پری پیکروں سے، وہ شعر و ادب کی دنیا سے بھی بیگانہ نہ رہا۔ دل کی نگری آباد کرتے وقت اسے آداب شہی کا بھی پاس نہ رہا۔ بہت سوں نے ناک بھوں چڑھائے لیکن وہ اپنی دھن میں ایک بنجارے کی طرح گاتا رہا اور چلتا رہا۔ مبداء فیاض نے اس کی طبیعت میں ایک ٹھہراؤ رکھ دیا تھا۔ اس کے خصائص میں صلح جوئی، نرم خوئی، تحمل مزاجی اور امن و آشتی کو امتیاز حاصل تھا، اگر عیش و عشرت میں نہ ڈوبا ہوتا تو وہ بھی غالب کی طرح دعویٰ پارسائی کر سکتا تھا :
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
واجد علی شاہ اختر کئی صدیوں پہ محیط تہذیب کا آخری وارث تھا، جس نے کبھی اپنی رعیت پر ظلم و زیادتی نہیں کی۔ اس کی شخصیت اپنوں اور بیگانوں کی پسند، ناپسند کی بدولت افراط و تفریط کا شکار رہی۔ کبھی اسے سلطنت اودھ کے خاتمے کا تنہا ذمے دار ٹھہرایا گیا کیونکہ اس نے استعماری قوتوں سے لڑے بھڑے بغیر اپنی تاریخی سلطنت ان کی جھولی میں ڈال دی، اس موٴقف کے علی الرغم لکھنو کے تذکرہ نویسوں نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ اودھ کی شکست و ریخت کا واجد علی شاہ ذمہ دار نہیں اور نہ ہی اسے معتوب کیا جانا چاہیے۔ مسعود حسن رضوی ادیب کا خیال ہے کہ اس طرح کے پروپیگنڈے کے پیچھے تاج برطانیہ کے کل پرزے تھے، مقصد وحید یہی تھا کہ شاہ اودھ کو کسی طرح بدنام کیا جائے۔
واجد علی شاہ کے سیاسی کردار اور شخصی بے اعتدالیوں سے قطع نظر اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ وہ فطرت سے تخلیقی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوا۔ اس نے رقص و سرود، شاعری، ناٹک اور اداکاری میں اپنی دل چسپی دکھائی۔ اسے لکھنے لکھانے سے بھی مناسبت رہی۔ واجد علی شاہ کے اپنے بیان کے مطابق اس نے چھیالیس ( 46 ) سے زیادہ کتابیں قلم بند کیں۔ اوائل جوانی میں اس نے شاعری کے دو دیوان اور تین مثنویاں لکھیں۔ واجد علی شاہ اختر پر تخصص کے ساتھ تحقیقی کام کرنے والے نامور محقق مسعود حسن رضوی ادیب کا یہ اعتراف ریکارڈ پر ہے کہ وہ واجد علی شاہ کی قریباً ستر کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ ان کتابوں کے علاوہ اختر کی اردو اور فارسی نظم و نثر میں کتابوں کی تعداد سو سے زائد ہے۔ لکھنوی شاعر سید علی کامل معروف بہ مولوی علی میاں کا شعر اس دعوے کا غماز ہے :
بیش از صد صحف در نظم و نثر
بر کمال علم و عرفانش گواہ
واجد علی شاہ اختر کو انگریز سرکار نے قلعہ فورٹ ولیم میں اس کے چند اہلکاروں اور خدمت گزاروں کے ساتھ نظر بند کر دیا گیا۔ اسیر پنجہ ء تقدیر یعنی اختر چھبیس مہینے ( 51 جون 1857 ع تا 9 جولائی 1859 ع) استعماری قوتوں کے زیر اثر نظر ٹنڈ رہا۔ قید و بند اور انتہائی کے عالم میں اختر کے تنقیح جذبات کا ذریعہ مکتوب نگاری تھا، اسے رہ رہ کے ناچ گانے کی محافل پری وش حسیناؤں کے جمگھٹے یاد آتے تھے۔ اختر نے اپنی بیگمات (منکوحہ و ممتوعہ ) کو جو خط لکھے ان کو سیم و زر سے پر تکلف انداز میں نقل کرنے کی فرمائش بھی کرتے۔ اختر ان خطوں کو ”تاریخ“ کے نام سے موسوم کرتا۔
واجد علی شاہ اختر کے خطوط کے مجموعوں کے نام درج ذیل :
1۔ تاریخ مذہب (بنام شیدا بیگم )
2۔ تاریخ ممتاز ( بنام ممتاز جہاں بیگم )
3۔ تاریخ غزالہ (بنام ملکہ غزالہ)
4۔ تاریخ نور (بنام نور زماں بیگم)
5۔ تاریخ فراق (بنام نوردزی بیگم)
6۔ تاریخ جمشیدی (بنام جمشید بیگم)
7۔ تاریخ مشغلہ (بنام مشغلہ السلطان نواب آبادی آبادی جان بیگم)
8۔ تاریخ خاص
9۔ تاریخ دہر
10۔ سیم التواریخ (نو دریافت شدہ مجموعہ، بنام ملکہ سیم تن)
11۔ تاریخ بدر (بنام بیگم نواب بدر عالم )
یہ احوال ہے ان محبت ناموں کا جو واجد علی شاہ اختر نے اپنی بیگمات کو اپنی نظربندی کے عرصے میں لکھے۔ جوابی خطوط ان کی بیگمات نے بھی یقیناً لکھے جو زیادہ تر زمانے کی دستبرد کی نذر ہو گئے البتہ ان بیگمات کے خطوط کے جو مجموعے مرتب ہوئے اور سامنے آئے ہیں۔ ان میں یہ مجموعے شامل ہیں :
1۔ گلدستہ ء محبت (بانو فریدی بیگم کے بائیس خطوط)
2۔ افسر التواریخ (نواب جمشید بیگم کے پینتالیس خطوط )
3۔ مخزن اسرار السلطان معروف بہ رقعات بیگم (بیگمات کے ستر خطوط )
4۔ بیگمات اودھ کے خطوط (بیگمات کے چھہتر خطوط )
5۔ مجموعہ رقعات بیگم
6۔ خطوط آخری شاہ اودھ
واجد علی شاہ اختر ایک حسن پرست فرمانروا تھا اور اس کی حسن پرستی اور حرم خاص کے بارے میں محمد اکرم چغتائی لکھتے ہیں :
”واجد علی شاہ کے حرم میں خوب چہل پہل تھی، دور شہزادگی سے مٹیا برج کے زمانہ اسیری تک اس میں اضافہ ہوتا رہا اور بالآخر اس کی بیگموں کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی۔ بھرا پڑا حرم، حرم بھی شکوہ سلطانی کی علامت رہا ہے اور واجد علی شاہ نے بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کی قائم کردہ اس روایت کو نبھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی“
جس روایت کا امین واجد علی شاہ اختر تھا اور روایت بھی کیسی کہ اپنی خواہشات نفسی کے لیے عورتوں کا چڑیا گھر بنا ڈالا اور اسے پری ”پری خانہ“ کا نام دیا گیا۔ یہ ”پری خانہ“ خوش گلو طوائفوں کے لیے گائیکی کا کالج تھا اور جو زن بازاری (معروضہ ) یہاں قدم رکھتی اسے ”پری“ کے اعزاز سے نواز دیا جاتا تھا۔ اسی دور میں رادھا کنھیا کے قصے کو ناٹک (رہس) کی شکل ہی کھیلا گیا۔ نہ صرف یہی کھیل اختر نے خود لکھا بلکہ اس میں کنھیا کا کردار بھی بہ نفس نفیس خود ادا کیا۔ یہ ”پری خانہ“ عجائبات سے پر ہے۔ ”پری خانہ“ کی اس اصطلاح کو فیض نے اپنی خوب صورت نظم ”رقیب سے“ میں برتا ہے، اس کا پہلا بند ملاحظہ ہو :
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا۔
واجد علی شاہ اختر سے یہ رنگین محفلیں اس وقت چھٹیں جب انہیں قلعہ فورٹ ولیم میں قید کر دیا گیا۔ اب جہاں اس کی دلی بستگی کا ذریعہ خط کتابت اور مراسلت بنے۔ جس طرح غدر کے زمانے میں مرزا غالب خطوں سے دل بہلایا کرتے، اسی طرح واجد علی شاہ کا مشغلہ بھی بیگمات سے مراسلت رہ گیا تھا۔ اختر کی خواہش تھی کی ”کاتب الملوک“ مراسلت کا بندوبست کرے۔ واجد علی شاہ کے خط کی یہ سطور ملاحظہ ہوں :
”۔ اور کاتب الملوک (منشی محمد شفیع ) کو کہو کہ اپنے ماتحت کے دو تین منشیوں کو حکم دے کہ اسی طرح صاحبات محل کے خطوط مرسلہ کا بندوبست کر کے ہمارے پاس بھجوائیں اور میں الگ الگ کس کس کو لکھوں۔ یہی خط تم سب محلات اور بیگمات کو پڑھوا دینا کہ جان عالم کک مرضی ہے کہ کاتب الملوج اور امر علی خان اور مہتاب الدولہ اور تدبیر الدولہ جو جو نقلیں ہمارے محبت ناموں کی لیں وہ دے دیں، سب صاحبات محل اور بیگمات کو یہ معلوم ہو، ان دنوں می۔
ہماری مرضی ہے کہ ہر صاحب کے محبت نامے جو جو ہم نے بھجوائے ہیں، مع نظم و نثر، ایک تقطیع، اور ایک بین السطور اور ایک خط کے ملاحظے سے گزریں لہذا کاتب الملوک اور امیر علی خان اور مہتاب الدولہ اور تدبیر الدولہ سب صاحب اپنے اپنے رسمی محبت ناموں کی بہت جلد نقلیں بھیج دیں اور اصل اپنے اپنے پاس بجنسہ رکھیں“
اردو نثر کے ناک نقشہ سنوارنے میں فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج کی ورنیکولر ٹرانسلیشن سوسائٹی کے ساتھ ساتھ خطوط غالب اور سرسید و رفقاء کی نثر نگاری کا اہم کردار رہا ہے۔ یہاں دبستان لکھنو کے نثری آثار ہمیں واجد علی شاہ اختر اور اس کی بیگمات کے خطوط میں ملتے ہیں۔ ان خطوط کے اسلوبیاتی مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان خطوط کی عبارتیں اچھوتی ہیں۔ ان خطوط میں روزمرہ، محاورہ بندی تسلسل اور روانی کے علاوہ مسجع اور مقفٰی کی خوبیاں، فصاحت و بلاغت اور جذبات کی ترسیل کے لیے شعری صنعتوں کے برجستہ استعمال کے ذائقے ملتے ہیں۔ عبدالحلیم شرر نے اپنی ”آپ بیتی“ میں لکھا۔ وہ ان خطوں کو اپنی انشا پردازی کے لیے نصاب تصور کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں :
”مجھے فارسی عاشقانہ عبارت آرائی کے شوق میں یہاں بیت الاجرا واجد علی شاہ میں حسن و عشق کا ایک نہایت ہی دلچسپ مشغلہ ہاتھ آ گیا۔ بادشاہ کے نام محلات عالیات اور بیگمات جو خطوط بھیجا کرتیں، وہ خطوط بادشاہ کے ملاحظے کے بعد اس دفتر بیت الاجرا میں محفوظ رکھے جاتے۔ یہ خط جو“ توود نامے ”کہلاتے، علی العموم سرخ اور پر افشاں کاغذ پر ہوتے اور عموماً عاشقانہ انداز سے رنگین عبارت میں لکھے جاتے، ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہوگی جن کو میں نے پڑھنا شروع کیا، مجھے ان میں بڑا لطف آیا۔ میری انشا پردازی کا پہلا نصاب یہی تودد نامے تھے جو ظاہری صورت اور باطنی رنگ دونوں حیثیتوں سے بہت دل کش تھے۔“
یہ تودد نامے عرصہ اسیری کی یادگار ہیں۔ واجد علی شاہ جونہی قلعہ فورٹ ولیم سے رہا ہو کر اپنی سابقہ قیام گاہ موچی کھولہ میں واپس آئے تو ان محبت ناموں کا سلسلہ تمام ہوا۔ ان خطوط کے مضامین میں یکسانیت اور تکرار نظر آتی ہے۔ اختر نے ان خطوں کو قدیم روشوں کی طرح القابات اور خطابات سے پرتکلف اور بوجھل نہیں بنایا اختر نے ان خطوط میں اپنے دل کی کیفیات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ اپنے پسندیدہ مشاغل کی نارسائی کا گلہ بھی کیا ہے۔
اٹھارہ سو ستاون کے ہنگاموں میں اہل لکھنو پر جو مصیبتیں نازل ہوئیں ان کا تذکرہ بھی ان خطوط میں ملتا ہے۔ واجد علی شاہ اختر نے اپنی زندگی کی کہانی بھی مزے لے لے کے سنائی ہے۔ کارزار سلطنت میں پیش آنے والی مشکلات، ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا بھی پردہ چاک کیا ہے۔ خطوط کے چند اقتباسات کا مطالعہ لائق اعتنا ہے :
***خوش الحان، پیاری آبادی جان!
شام و سحر بحکم رب قمر سلامت رہو۔ جان من احیاناً اگر ک
کوئی خطا ہم سے سرزد ہوئی تو معاف ہو، قصہ اگلا پچھلا سب صاف ہو۔ ہم سے اطاعت میں سر مو فرق نہیں ہوا، عشق بازی اپنا شعار رہا۔
غمگسار من! ہجر کٹھن بلا ہے۔ فراق کا ذائقہ بہت برا ہے، دل آزمائی اس قدر اچھی نہیں ہے، خلاف رسم و آئین ہے۔ الجھے ہوؤں کو نہ ستایا کرو، لے دیکھو ہم کو نہ آزمایا کرو۔ واہ واہ صاحب تمہارے عجب چلن ہیں، کھوٹے کھرے پر کچھ موقوف نہیں بڑے فن ہیں۔ اب ہمارا دل دکھتا ہے، کلیجہ پھٹتا ہے۔ آگ دل میں بھر گئی ہے، طبیعت ہر گئی۔ یہ نئی بازی ہے، کچھ نہیں، کچھ نہیں، نری جعلسازی ہے۔ پھر نام عشق ہو گا، ایسا دھوکا۔ کیوں کیوں جی اب تمہارا کیا حال کریں، اور تو کیا ہم اپنے کیے کا ملال کریں۔
(تاریخ مشغلہ، مکتوب 26 )
***اور پھر مکرر سہ کرر لکھتا ہوں کہ میرے سر کی قسم زنہار زنہار خرچ کی طرف سے ذرہ برابر بھی تشویش اور تردد نہ کرنا اور میری اچھی اچھی ملکہ جواب خط کا میرے جلدی لکھ کر مع مکان کے پتے سمیت بھیجنا کہ اب میری زندگی وابستہ تمھارے خط بھیجنے پر ہے اور کوئی سہارا سوائے ذات خدا اور آئمہ اطہار یا لاٹ صاحب بہادر موصوف کے میرا نہیں ہے اور میں بالکل بے خطا اور بے قصور ہوں۔
(سیم التواریخ مکتوب 1 )
***اور یہ جو تم نے لکھا کہ اوروں نے اپنا وسیلہ سرکار کمپنی میں کیا اور میں تمھی پر بیٹھی ہوں۔ بیوی! میں اور سرکار انگریز بہادر کچھ جدا نہیں ہیں۔ فقط یہ ہماری تقدیر کا پھیر ہے کہ وہ ہم سے کچھ شبہ اپنے جی میں رکھتے ہوں۔ ہم تو اباً عن جدً مطیع اور منقاد رہے اور جب تک دم میں دم ہے فرماں بردار رہیں گے۔ خواہ سرفراز فرمائیں، خواہ نہ سرفراز فرمائیں۔ تم کو لازم ہے کہ میری طرح تم بھی اطاعت گورنمنٹ ہندگان میں کرو اور ضرور چیف کمشنر بہادر لکھنؤ کو جن کا نام مبارک مٹنگمری صاحب بہادر ہے اور رحیم اور حلیم اور عادل اور خدا شناس اور حق دوست بے رو اور رعایت احدی ہیں، اپنا سارا حال پر ملال لکھو اور کہو کہ ہمارے شوہر نے ہم کو اجازت دی ہے اپنے حال کہنے کی اور جیسا کچھ وہ جواب دیں، خواہ معرفت میری واجد علی کی، خواہ مرد کارگزار ہوشیار کی وہ پھر مجھ کو لکھو کہ یہ حکم سرکار ہمارے باب میں صادر ہوا ہے۔
(سیم التواریخ مکتوب 3 )
واجد علی شاہ اختر کے خطوط کے مطالعہ سے نہ صرف شاہ اودھ کی شخصیت، مشاغل، ادبی مہمات کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ تاریخ اودھ کی بہت سی کڑیاں بھی ملتی ہیں۔ جس طرح غالب۔ کے خطوط سے دہلی کی تہذیب کا مرقع نقش ہوتا ہے، اسی طرح واجد علی شاہ اختر اور ان کی بیگمات کے خطوط سے بھی لکھنوی تہذیب کے خال و خط اور روز و شب کی رنگینیاں بھی جھلکتی ہیں۔ مکتوباتی و حبسیاتی ادب اور نثر کے ارتقاء میں واجد علی شاہ اختر کے خطوط کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ان خطوط کے حوالے کے بغیر اردو نثر کا سفر تشنہ کام رہے گا۔
حواشی :
1۔ تاریخ مشغلہ، مرتبہ :۔ محمد اکرام چغتائی، لاہور، پاکستان رائٹرز کواپریٹو سوسائٹی، اشاعت اول، جون 1985 ء
2۔ سیم التواریخ، مرتبہ :۔ محمد اکرام چغتائی، لاہور، پاکستان رائٹرز کواپریٹو سوسائٹی، طبع اول، 2013

