گال ٹیسٹ : پاکستان جیت سے صرف 120 رنز دور، عبداللہ شفیق کی سنچری


چوتھی اننگز میں بیٹنگ کا خوف پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اکثر شکست سے دوچار کرتا رہا ہے لیکن اگر آغاز اچھا ہوجائے تو اختتام بھی خواہش کے عین مطابق ہو ہی جاتا ہے۔

سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے 342 رنز کا ہدف ملا ہے جس طرح امام الحق اور عبداللہ شفیق نے 87 رنز کی بنیاد فراہم کردی اور اس کے بعد بابراعظم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی ، امید یہی کی جاسکتی ہے کہ آنے والے بیٹسمین ان کی محنت پر پانی نہیں پھیریں گے۔

پاکستانی ٹیم نے چوتھے دن کھیل کا اختتام 222 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔گویا جیت کے لیے اسے آخری دن صرف 120 درکار بنانے ہیں اور اس کے ہاتھ میں سات وکٹیں ہیں۔

پاکستانی ٹیم کی بدقسمتی یہ رہی کہ اختتامی لمحات میں کپتان بابراعظم 55 رنز بناکر پراباتھ جے سوریا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ سری لنکا کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔

عبداللہ شفیق اپنی دوسری ٹیسٹ سنچری مکمل کرتے ہوئے112 رنز بناچکے ہیں۔ دوسرے ناٹ آؤٹ بیٹسمین محمد رضوان 7 رنز پر کھیل رہے ہیں۔

امام الحق اور عبداللہ شفیق پر قسمت بھی مہربان رہی۔تیسرے اوور میں پراباتھ جے سوریا کی گیند پر عبداللہ شفیق کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل امپائر نے مسترد کی۔سری لنکن ٹیم نے ریویو لیا جو بیٹسمین کے حق میں گیا۔

امام الحق 3 کے انفرادی اسکور پر دو بار اپنی وکٹ بچاگئے۔ پہلی مرتبہ کاسون راجیتھا کی گیند پر امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو دے دیا ۔ریویو پر فیصلہ امام الحق کے حق میں رہا۔ راجیتھا کے اگلے ہی اوور میں امام الحق کا ایک مشکل کیچ چندی مل کے ہاتھ نہ آسکا۔

سری لنکا کو پہلی کامیابی بہرحال امام الحق کی وکٹ کی شکل میں ہی ملی جو 35 رنز بناکر آف اسپنر رمیش مینڈس کی گیند پر ڈک ویلا کےہاتھوں اسٹمپڈ ہوگئے۔

عبداللہ شفیق کی مستقل مزاج بیٹنگ انہیں پانچویں نصف سنچری کی طرف لے گئی جسے انہوں نے اعتماد کے ساتھ دوسری ٹیسٹ سنچری میں تبدیل کردیا۔

بابر اعظم

پہلی اننگز میں سنچری کے بعد دوسری اننگز میں بابر اعظم نے سنچری سکور کی

اظہرعلی چوتھی اننگز میں غیرمتاثرکن

اظہرعلی اپنے مخصوص خاموش دفاعی خول میں بیٹنگ کرتے نظر آئے لیکن 32گیندوں پر6 رنز بنانے کے بعد وہ پراباتھ جے سوریا کی گیند پر دھنن جایا ڈی سلوا کو کیچ دے گئے۔

اظہرعلی نے آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے پنڈی ٹیسٹ میں185 رنز کی بڑی اننگز کھیلنے کے بعد لاہور ٹیسٹ میں 78رنز اسکور کیے تھے۔ سری لنکا کے دورے سے قبل انہوں نے کاؤنٹی کرکٹ میں ایک ڈبل سنچری اور تین نصف سنچریاں بھی اسکور کیں تاہم گال ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں وہ بری طرح ناکام رہے۔

اظہرعلی جیسے تجربہ کار بیٹسمین کے کریئر میں یہ بات بہت مایوس کن نظرآتی ہے کہ ان کا ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں ریکارڈ متاثرکن نہیں ہے۔وہ اپنی مجموعی 19 سنچریوں میں سے چوتھی اننگز میں 42 مرتبہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریاں بناپائے ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط محض 25 ہے۔

ایک بار پھر بابراعظم

104 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد بابراعظم ایک بار پھر پاکستانی بیٹنگ کا محور بن گئے۔ جے سوریا کی گیند پر مڈآن پر چوکے سے اننگز شروع کرتے ہوئے انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ پراباتھ جے سوریا پر اٹیک کرکے ہی وہ سری لنکا کی بولنگ کو اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔ اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے جے سوریا کے ایک ہی اوور میں مڈوکٹ پر چھکا اور چوکا لگایا۔

چائے کے وقفے پر پاکستانی ٹیم دو وکٹوں پر 147 رنز تک پہنچ چکی تھی۔

آخری سیشن میں بابراعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے تین ہزار رنز بھی مکمل کیے ۔انہوں نے عبداللہ شفیق کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 101 رنز کا اضافہ کیا۔

پاکستانی اسپنرز کی کارکردگی

سری لنکا کی ٹیم چوتھے دن اسکور میں زیادہ سے زیادہ اضافے کے لیے دنیش چندی مل کی طرف دیکھ رہی تھی جو گزشتہ روز 86 رنز بناکر پویلین لوٹے تھے لیکن میزبان ٹیم اپنے اسکور میں صرف 8 رنز کا اضافہ کرسکی۔دن کے چوتھے اوور کی آخری گیند پر نسیم شاہ پراباتھ جے سوریا کو بولڈ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

دنیش چندی مل نے اگرچہ ہر اوور میں صرف ایک یا دو گیندوں کو جے سوریا کے لیے رکھ چھوڑا تھا لیکن جے سوریا اس آخری گیند پر اپنی وکٹ نہ بچاسکے جس کی وجہ سے چندی مل بھی اپنی چودہویں ٹیسٹ سنچری سے صرف چھ رنز دور رہ گئے۔

چندی مل کے لیے یہ سال بہت اچھا رہا ہے اور وہ صرف پانچ ٹیسٹ میچوں میں دو سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 618 رنز بناچکے ہیں۔

دنیش چندی مل آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے اور پہلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں معمولی اسکور پر آؤٹ ہوئے تھے لیکن ٹیم منیجمنٹ کی طرف سے ملنے والے اعتماد کی بدولت وہ آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ناقابل شکست ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب رہے تھے جس نے سری لنکا کی جیت کی بنیاد رکھی تھی۔

کاش پاکستانی ٹیم منیجمنٹ بھی ایسا ہی اعتماد فواد عالم کو صرف چار خراب اننگز کے بعد فراہم کردیتی۔

سری لنکا کی دوسری اننگز میں کیے گئے 100 اوورز میں سے 74 اوورز اسپنرز نے کیے۔ ریگولر اسپنرز یاسر شاہ اور محمد نواز نے زیادہ تر بوجھ اٹھاتے ہوئے اگرچہ آٹھ وکٹیں حاصل کیں لیکن یاسر شاہ نے اپنے 29 اوورز میں تین وکٹوں کے لیے122 رنز دے گئے۔

نعمان علی پر فوقیت پاکر چھ سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں جگہ پانے والے لیفٹ آرم اسپنر محمد نواز نے پانچ وکٹوں کے حصول کے لیے 88 رنز دیے۔

یاسر شاہ کی کارکردگی پچھلے کچھ عرصے سے اتارچڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ وہ اگست 2021 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے بعد پاکستانی ٹیم سے باہر تھے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ سری لنکا کے دورے کے لیے ٹیم میں واپسی سے پہلے وہ صرف ایک فرسٹ کلاس میچ گزشتہ دسمبر میں کھیلے تھےجس میں انہیں 14 اوورز میں 66 رنز دینے کے باوجود کوئی وکٹ نہیں ملی تھی۔ یہی وہی اننگز تھی جس میں محمد ہریرہ نے ٹرپل سنچری بنائی تھی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp