دریائے سندھ حادثہ: ’ہمارا تو پورا گھر اور علاقہ خواتین سے خالی ہوگیا ہے‘


ریسکیو ٹیم
'ہمارا تو پورا گھر اور علاقہ خواتین سے خالی ہوگیا ہے۔ کسی نے اپنی ماں گنوائی ہے تو کوئی اپنی بیٹی کی تلاش میں ابھی بھی دریا کے کنارے کھڑا ہے۔ آج صبح نو جنازوں کی تدفین کی ہے۔ گزشتہ روز بارہ جنازوں کی تدفین ہوئی تھی۔ اس میں تین کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔'

یہ کہنا ہے رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے علاقے میں کشتی کے حادثے کا شکار ہونے والے بد نصیب خاندان کے سربراہ محمد حسین کا۔ اس واقعہ میں محمد حسین اپنی بہو اور تین بھانجیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق پیر کو دریائے سندھ میں پیش آنے والے اس حادثے کا سبب کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی تھی۔

حادثے میں ہلاک ہونے والی باقی خواتین بھی ان کی چچا زاد، تایا زاد، خالہ زاد بہنیں ہیں۔

محمد حسین کہتے ہیں کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے نو جنازوں کی تدفین کرکے فارغ ہوئے ہیں۔ دور دراز سے لوگ تعزیت کے لیے آ رہے ہیں۔ تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے ہم نے دو، تین لوگ گاؤں ہی میں چھوڑ دیے ہیں جبکہ باقی لاپتا ہونے والی خواتین کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سانحہ نے پورے علاقے کو اجاڑ دیا ہے: ‘ہمارے گھرکی رونقیں جو ہماری بیٹیاں، بہنیں اور مائیں تھیں۔ وہ اب موجود نہیں ہیں۔’

محمد حسین کہتے ہیں کہ چچا زاد بھائی سعود کی شادی کی بڑے عرصے سے تیاریاں کی جا رہی تھیں: ‘ہمیں کیا پتا تھا کہ ہم جو دھوم دھام سے شادی کی تیاریاں کر رہے ہیں وہ حقیقت میں اپنے علاقے میں جنازوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ جو کچھ ہم پر بیت رہی ہے خدا یہ دن کسی کو بھی نہ دکھائے۔’

اس علاقے میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں سے کوئی نہ کوئی جنازہ نہ اٹھا ہو یا اس کے گھر کی کوئی خاتون لاپتا نہ ہو۔

نماز جنازہ

ہلاک شدگان کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی

بھابھی کی تدفین، بھتیجی کی تلاش

عاشق سولنگی اس حادثے میں اپنی بہن، بھابھی اور بھتیجی سے محروم ہوگے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ بہن اور بھابھی کی تدفین کردی ہے۔ اب بھتیجی کی تلاش کے لیے دریا کے پاس موجود ہیں۔ کوشش اور دعا بھی کررہے ہیں کہ بھتیجی مل جائے۔ اتنا وقت پانی میں گزرنے کے بعد اس کے زندہ ہونے کی امید تو نہیں ہے۔ مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ لاش مل جائے۔

ان کا کہنا تھا، ‘میری بھابھی اور بھیتجی آپس میں ماں بیٹی ہیں۔ اس شادی کے بعد اب علاقے میں میری بھتیجی اور بہن کی شادی ہونا تھی۔ اس کے لیے دو ماہ بعد کا وقت رکھا گیا تھا۔

غوطہ خور

لاشوں کی تلاش میں غوطہ خوروں کو بھی دریا میں اتارا گیا

‘جب بارات جارہی تھی تو اس وقت میری بھابھی نے میری بھتیجی یعنی ماں نے اپنی بیٹی اور میری بہن یعنی اپنی نند سے کہا تھا کہ آج تم لوگ کسی کی بارات پر جارہی ہوں تھوڑے عرصے بعد تم لوگوں کی بارات بھی اسی طرح آئے گی۔’

عاشق سولنگی نے بتایا کہ ان کی بہن اور بھتیجی کی شادی کی تیاریاں تقریباً مکمل تھیں، بس کچھ فرنیچر وغیرہ باقی تھا۔ اب ان کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ جہیز کے اس سامان کا کیا کریں گے۔

دو مائیں کھو دیں

نصیر سولنگی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اس حادثہ میں اپنے گھر کی دو خواتین کو کھویا ہے۔ ‘اس حادثے میں، میں اپنی ماں اور چچی سے محروم ہوگیا۔ ماں کی تدفین تو کردی ہے مگر چچی کی ابھی بھی تلاش ہے۔ ہم لوگ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں۔ جب چچی کی ہمارے چچا سے شادی ہوئی تو اس وقت میں پیدا ہوا تھا۔ میری ماں گھر کی بڑی تھی۔ ساری ذمہ داریاں اس پر تھیں۔ اس لیے مجھے چچی نے اپنی گود میں بڑا کیا تھا۔’

نصیر سولنگی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی ایک ماں نہیں بلکہ دو مائیں ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر خیال رکھتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں اکثر اپنی ضرورت کے بارے میں چچی کو بتایا کرتےتھے۔ اور جب ماں کسی بات پر ناراض ہوتی تو چچی ان کا دفاع کرتی تھی: ‘وہ کہا کرتی تھی کہ نصیر میرا بیٹا ہے۔ تمھیں اس کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے۔’

نصیر سولنگی کا کہنا تھا کہ کچھ دن پہلے ہی ان کی منگنی ہوئی ہے، اور یہ رشتہ بھی چچی کی پسند سے کیا تھا۔ ‘شادی کچھ عرصہ بعد ہونا طے پائی تھی۔ چچی نے مجھ سے کہا تھا کہ میں خوب محنت مزدوری کرکے پیسے اکھٹے کروں تاکہ وہ میری شادی بہت دھوم دھام سے کرے’۔

امدادی سرگرمیاں

ریسیکو 1122 کے مطابق امدادی سرگرمیوں کا صبح سے آغاز کردیا گیا تھا۔ جس علاقے میں حادثہ پیش آیا ہے۔ وہاں پر دریا کے آدھا کلو میٹر تک کے علاقے میں ریسیکو 1122 اور مقامی رضا کاروں کی مدد سے تلاش کا آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

صبح سے دوپہر تک اس آدھا کلو میٹر کے علاقے کو چھان مارا گیا مگر کوئی کامیابی نہیں ملی۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت دریا کا بہاؤ بہت تیز ہے۔ تاہم جب تلاش کا دائرہ بڑھایا گیا تو حادثے کے مقام سے تقریباً تین کلو میٹر دور ایک اور لاش ملی جو لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp