نوپور شرما کے قتل کے ارادے سے سرحد پار کرنے والا شخص گرفتار


نوپور شرما
انڈیا کی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کیا ہے جس نے مبینہ طور پر انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق ترجمان 'نوپور شرما کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے' بین الاقوامی سرحد عبور کی ہے۔

واضح کر دیں کہ نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے خلاف ایک ٹی وی پروگرام میں توہین آمیز تبصرہ کیا تھا، جس کی وجہ ہے انڈیا کو ایک سفارتی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

مقامی پولیس نے آج شام اعلان کیا کہ مبینہ پاکستانی شہری رضوان اشرف کو 16 اور 17 جولائی کی درمیانی شب میں ریاست راجستھان کے ضلع سری گنگا نگر سے گرفتار کیا گیا۔

https://twitter.com/ANI_MP_CG_RJ/status/1549359965835366402?s=20&t=oIsWgLSIaIJFaiKpFwWOBQ

پولیس کے مطابق اس 24 سالہ شخص کے والد کا نام محمد اشرف ہے اور وہ پاکستان کے کتھیال شیخ کا رہنے والا ہے۔

اشرف کو انڈیا کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے گرفتار کیا اور مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔ مقامی پولیس نے اس کے خلاف فارینرز ایکٹ، پاسپورٹ ایکٹ اور آرمز ایکٹ جیسے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سری گنگا نگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آنند شرما نے بتایا کہ اشرف کے پاس سے دو چاقو، پانی کی بوتل، کپڑے اور ‘کچھ مذہبی جیسے لیٹریچر’ برآمد ہوئے۔

پولیس نے ان سے پوچھ گچھ کے لیے ایک جوائنٹ انٹروگیشن سیل (جے ائی سی) بنایا ہے۔

شرما نے بتایا کہ ‘اس نے پوچھ گچھ میں بتایا کی وہ آٹھویں پاس ہے، بجلی وغیرہ کا کام کرتا ہے اور اس کو نوپور شرما کے بیان سے چوٹ پہنچی تھی۔ اس لیے وہ نوپور شرما کو مارنے کے لیے آ رہا تھا’۔

اس سے پہلے انڈیا کے تفتیشی ایجنسیوں نے الزام لگایا تھا کہ نوپور شرما سے متعلق پوسٹ لکھنے پر شہر ادے پور میں ایک درزی کا قتل کرنے والے ملزم کا پاکستان سے رابطہ رہا تھا۔ پولس کا کہنا تھا کہ 2014 میں غوث محم نامی یہ ملزم کراچی میں دعوت اسلام کے دفتر گیے تھے۔

سری گنگانگر پولیس نے بتایا کہ اشرف نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے سرحد عبور کی ہے یا کسی کے کہنے پر آئے ہیں۔

شرما نے کہا، ‘اس سے پوچھا کہ تمھیں معلوم ہے وہ (نوپور شرما) کہاں رہتی ہے اور تمہیں کہاں جانا ہے تو اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کی انڈیا میں کون سے ضلعے کون سی ریاست میں ہیں۔ لیکن اسکا [خیال] تھا کی مجھے قسمت پہنچا دے گی’۔

انڈیا اور پاکستان کی سرحد کو غلطی سے عبور کرنے کے قصے اکثر سامنے آتے ہیں اور بعض اوقات ذہنی مریض بھی سرحد عبور کر جاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق اشرف ذہنی طور پر ٹھیک ہیں۔ تاہم شرما کہتے ہیں کہ ‘لیکن وہ ان لوگوں جیسا ہے جو کہ کافی انتہا پسند ہوتے ہیں’۔

واضح کر دیں کہ نوپور شرما بی جے پی کی ترجمان تھیں جنہوں نے ایک ٹی وی چینل کے مباحثے میں پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا تھا جس نے انڈیا اور کئی مسلم ممالک میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور انڈیا کے لیے ایک سفارتی بحران پیدا کر دیا۔ اس ہنگامے کے بعد بی جے پی نے انہیں پارٹی سے معطل کر دیا۔

مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں ان کے خلاف ملک بھر میں متعدد مقامات پر مقدمات درج ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نوپور شرما کا بیان اور انڈین تارکینِ وطن: ’ایسا نہ ہو کہ آئندہ انڈینز کو خود کو پاکستانی کہنا پڑے‘

پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان انڈیا اور اسلامی دنیا کے تعلقات کا ٹیسٹ کیس کیسے بنا؟

بی جے پی رہنما کا پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان، قطر کا انڈیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ

سعودی عرب اور انڈیا تعلقات تجارت سے آگے اب سٹریٹجک تعاون تک پہنچ گئے ہیں

انہوں نے ان تمام ایف آئی آر کو ایک ساتھ ایک عدالت میں لانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالتوں اور قانون سے متعلق معاملات پر رپورٹنگ کرنے والی ‘لائیو لا’ نامی پورٹل کے مطابق نوپور شرما کی طرف سے بحث کرتے ہوئے ان کے وکیل منندر سنگھ نے آج سہ پہر سپریم کورٹ کو ‘پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص’ کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے کہا، ‘پچھلے حکم کے بعد [جب عدالت نے اس معاملے کی آخری بار سماعت کی تھی] کچھ پیش رفت ہوئی ہیں۔ سنگین خطرات ہیں۔ پاکستان سے ایک شخص کے آنے کی اطلاعات ہیں’۔

https://twitter.com/LiveLawIndia/status/1549326097942122496?s=20&t=oIsWgLSIaIJFaiKpFwWOBQ

پولیس کا کہنا ہے کہ اشرف سے جے آئی سی کی پوچھ گچھ پانچ روز تک جاری رہے گی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp