مرحوم کا حق ہے کہ اس کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے


میڈیکل کالج کے سال اول میں دیکھا ہوا ایک منظر ذہن پر نقش ہو گیا۔ دوپہر میں جب پوائنٹ کی بسیں طلباء کی اکثریت کو ان کے گھروں پر چھوڑنے روانہ ہو چکی تھیں اور کالج میں نسبتاً سناٹا تھا۔ اچانک اناٹومی لیکچر ہال کے عقب میں بنے مردہ خانے سے پانچ چھ افراد نمودار ہوئے جنہوں نے ایک بے جان بزرگ کو اٹھایا ہوا تھا۔ نعش پر لپٹی ہوئی چادر سے بمشکل ستر پوشی ہو رہی تھی۔ یہ افراد میت کے لواحقین تھے جو لاش کی بے حرمتی کے خیال سے پوسٹ مارٹم نہیں کرانا چاہتے تھے۔

گھبراہٹ میں یہ جماعت کالج کے صدر دروازہ کے بجائے اس کونے کی طرف نکل گئی جہاں اسکواش کورٹ اور اس کی پشت پر بینک تھا۔ یہاں کالج کی دیوار کوئی دس بارہ فٹ اونچی تھی۔ ان افراد نے پہلے اسے پھلانگنے کی کوشش کی۔ ناکامی پر انہوں نے لاش کو اس پر سے اچھال کر دوسری طرف پھینک دیا جہاں کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ ہے۔ ایک دوسرے کو سہارا دے کر یہ لوگ کسی طرح دیوار عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ خبر اگلے دن کے تمام اخبارات میں شائع ہوئی کہ کس طرح متوفی کے سگے رشتہ داروں نے جان پر کھیل کر لاش کو پوسٹ مارٹم کی تکلیف اور بے حرمتی سے بچا لیا۔

پوسٹ مارٹم کی تاریخ

مردہ جسم کے مطالعے کی تاریخ بہت پرانی ہے اور طب کے ارتقاء میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ سب سے پہلا شخص جس کا پوسٹ مارٹم تحریر کیا گیا وہ جولیس سیزر تھا جسے سینیٹ کے اجلاس کے دوران قتل کیا گیا تھا۔ اس کے جسم پر خنجر سے 23 گھاؤ ملے۔ پوسٹ مارٹم سے اس مہلک زخم کی نشاندہی ہوئی جس نے دل سے نکلنے والی شہ رگ کو قطع کر دیا تھا۔

انگلستان میں بارہویں صدی سے کورونر کا دفتر قائم کر دیا گیا تھا جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ ملکی سرحدوں میں غیر معمولی حالات میں موت یا بلا شناخت نعش ملنے کی تحقیق کرے۔

طب کے متعلق انسانی علم کا سب سے اہم ذریعہ مردہ انسانی اجسام کی جراحت ہی ہے۔ اسی سے ہمیں پتہ چلا کہ انسان اور دیگر حیوانات کے جسم میں کیا تفاوت ہے اور ہمارے اعضاء کیسے کام کرتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم صرف ہمیں موت کے سبب کے بارے میں ہی نہیں بتاتا بلکہ اس سے بیماریوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، نئی بالخصوص وبائی امراض کا سراغ ملتا ہے، وراثتی عوارض کا علم پتہ چلتا ہے۔ ادویات، علاج اور جراحت کے جسم پر اثرات کی وضاحت اسی طرح ہوئی۔ انسان نے زہریلے مواد کی تاثیر یہیں سے سمجھی ہے۔

برطانیہ میں پوسٹ مارٹم کتنا عام پروسیجر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 2019 ء میں انگلستان اور ویلز میں پانچ لاکھ تیس ہزار اموات رجسٹر ہوئیں جن میں سے 82 ہزار کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجا گیا یعنی تمام مرنے والوں میں سے پندرہ فیصد متوفی اس عمل سے گزرے۔

ابراہام لنکن سمیت کئی امریکی صدور کا پوسٹ مارٹم ہوا۔ صدر کینیڈی کی موت گولی لگنے سے ہوئی جسے ساری دنیا نے ٹی وی پر دیکھا اس کے باوجود ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ موقع پر ہلاک کیے جانے والے ان کے مبینہ قاتل لی ہاروے آسوالڈ کا بھی پوسٹ مارٹم ہوا۔ سازشی تھیوریاں ایجاد کرنے والوں نے افواہ پھیلا دی کہ آسوالڈ کی قبر خالی ہے چنانچہ اس کی موت کے اٹھارہ سال بعد قبر کشائی کر کے ایک دفعہ پھر تصدیق کی گئی کہ قبر میں موجود باقیات آسوالڈ کے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں مائیکل جیکسن کی موت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ عوامی دلچسپی کا باعث بنے جس نے موت کی ذمہ داری جیکسن کے ذاتی ڈاکٹر کی غفلت پر عائد کی۔

پاکستان میں پوسٹ مارٹم کے متعلق جاننے کے لئے ہم نے کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید سے گفتگو کی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

س۔ پوسٹ مارٹم کیا ہوتا ہے؟

ڈاکٹر سمعیہ: پوسٹ مارٹم کا مطلب ایک بے جان جسد انسانی کا بیرونی اور اندرونی معائنہ کرنا ہے۔ بیرونی معائنے میں جسم میں پائے جانے والے نشانات کا جائزہ اور تصاویر لی جاتی ہیں جبکہ اندرونی معائنے میں جسم سے اعضاء کے چھوٹے چھوٹے نمونے لئے جاتے ہیں۔ مختلف جسمانی رطوبتیں بھی جمع کرلی جاتی ہیں اور یہ سب ہسٹوپیتھالوجسٹ اور ماہر زہریات یعنی ٹوکسیکالوجسٹ کو بھیجا جاتا ہے جو ان کا تفصیلی خوردبینی اور کیمیائی مطالعہ کرتے ہیں۔ تاکہ موت کی وجہ اور طریقہ کا تعین ہو سکے۔

س: پوسٹ مارٹم کون کرتا ہے؟
ڈاکٹر سمعیہ: حکومت کے متعین کردہ میڈیکل افسر یا میڈیکو لیگل افسر پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
س: کیا ان افراد کو خصوصی ٹریننگ دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ: ماضی میں کوئی خصوصی ٹریننگ نہیں ہوتی تھی البتہ آپ اور ہم سب نے دوران تعلیم فورینسک میڈیسن کا مضمون لازمی پڑھا ہے۔ اسی کے عملی اطلاق اور تجربہ سے میڈیکو لیگل افسر مہارت حاصل کرتے جاتے تھے۔ پچھلے کچھ برسوں سے ہم نے جدید قسم کی تربیت کا آغاز کیا ہے۔ میں خود ماسٹر ٹرینر ہوں اور میڈیکو لیگل افسر جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں کو کئی کورسز کروا رہی ہوں۔

س: یہ ایم ایل او کس قسم کے واقعات میں رائے دیتے ہیں؟

ڈاکٹر سمعیہ: ہر قسم کا جسمانی و جنسی ایذا رسانی، ایکسیڈنٹ، زہر خورانی، بڑی تباہی ماس ڈزاسٹر، قتل، خودکشی، صنعتی حوادث اور ہمہ اقسام تشدد، اچانک اور غیر متوقع موت جیسے واقعات کو ایم ایل او کے علم میں لانا لازمی ہے۔

س: پوسٹ مارٹم کے لئے کون رجوع کرتا ہے؟

ڈاکٹر سمعیہ: پولیس یا جوڈیشل مجسٹریٹ طے کرتے ہیں کہ کس متوفی کا پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔ پولیس کی زیر حراست افراد کی موت کا پوسٹ مارٹم لازمی کرایا جاتا ہے۔

س: کیا پاکستان میں برطانیہ کی طرح کورونر کا نظام ہے؟
ڈاکٹر سمعیہ: جی نہیں
س: کیا میت کے ورثاء کو پوسٹ مارٹم سے انکار کرنے یا مزاحمت کرنے کی اجازت ہے۔

ڈاکٹر سمعیہ: تکنیکی طور پر مرنے والے کا جسم ریاست کی ملکیت ہوتا ہے اس لئے انکار کی گنجائش نہیں ہوتی۔

خرم: ایک جدید ریاست زندہ انسان کی زندگی کا تحفظ کرتی ہے چاہے اس کے اپنے اہل خانہ خون کے پیاسے ہوچکے ہوں۔ اسی طرح مشکوک موت کی صورت میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سبب کا تعین کرے اور متوفی کو انصاف فراہم کرے۔

س: کیا آپ سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی استعمال کرتے ہیں؟

ڈاکٹر سمعیہ: ایکس رے کا استعمال تو بہت عام اور پرانا ہے جبکہ جہاں ضرورت پڑے اور دستیاب ہو تو سی ٹی اسکین بھی بروئے کار لاتے ہیں۔ اب تک ہم نے ایم آر آئی سے استفادہ نہیں کیا لیکن ہمارا ارادہ جلد ورچوئل آٹوپسی شروع کرنے کا ہے۔ یاد رہے کہ ورچوئل آٹوپسی باقاعدہ جسمانی جراحت کا پوری طرح متبادل نہیں۔

س: قبر کشائی کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ ایک مخصوص عرصے کے بعد جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت سے شواہد اور علامات رفتہ رفتہ معدوم ہونے لگتے ہیں لہذا پوسٹ مارٹم کا التواء مناسب عمل نہیں؟

ڈاکٹر سمعیہ: میں آپ کے اس تصور کی اصلاح کرنا چاہوں گی۔ مناسب ماہرین اور سہولیات کی موجودگی میں تکفین و تدفین کے بہت عرصے بعد بھی ہم پوسٹ مارٹم سے اہم اور نتیجہ خیز معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments