شہباز شریف، عمران خان کی پکی دوستی کا قصہ
کہنے والے کہتے ہیں کہ گئے وقتوں میں دو زمینداروں دین محمد اور فیض بخش کے درمیان بہت شدید جھگڑا تھا۔ دین محمد اپنی کسی حرکت سے فیض بخش کا کھیت خراب کر دیتا تو فیض بخش اپنی حکمت سے دین محمد کا پانی چوری کر لیتا، فیض بخش کبھی دین محمد کے جانوروں میں سانپ چھوڑ دیتا تو دین محمد پگڑ باندھتا فیض بخش کے دروازے کے سامنے بندوق کی نالی تان کر کھڑا ہو جاتا اور یہ جا وہ جا دو چار فائر تڑاخ تڑاخ کرتا مگر کبھی ایسے وقت میں فیض بخش بھی اپنی دو نالی اٹھا کر دین محمد کی چھاتی یا جسم کے کسی دوسرے حصے کو نہ نشانہ بناتا، اس ساری صورت میں سب سے زیادہ پریشان دین محمد کا بھائی رحیم بخش ہوتا تھا، جس کے کھیت کھلیان ان دو ازلی دشمنوں سے جڑے اور ہر خرابے کے برابر کے حصے دار ہوتے اور مال مویشی کا بیڑا بھی سانجھا ہونے کے سبب سے دین محمد کی دشمنی کے کارن غرق ہوتا، جس سے رحیم بخش کے بھاری نقصان ہوتے تھے۔
فیض بخش لاکھ بھائی کو سمجھاتا، اسے اپنے نقصان کا احساس دلاتا، دو بھائیوں میں بٹوارے کی بات کرتا مگر دین محمد ہٹ کا پکا اور دھن کا سچا تھا جو کسی صورت فیض بخش کا دھیان اپنی طرف سے کسی اور طرف نہیں ہونے دیتا تھا اور بھائی کی ہر بات کو کسی نہ کسی صورت ٹال دیتا، آخر ایک دن دین محمد کے بھائی رحیم بخش نے چاہا کہ وہ ان دونوں ہمسایہ زمینداروں کی صلح کرا دے تاکہ اس دشمنی کی وجہ سے آئے روز ہونے والے مال مویشی کے نقصان اور فصلات کے اجاڑے کو روکا جا سکے مگر وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہا کہ جب وہ دین محمد اور فیض بخش کو آمنے سامنے لا کر پنچایت کا مطالبہ کرنے لگا تو ان دونوں نے کمال لاپروائی سے اپنی اپنی مونچھ کو تاؤ دیا اور یک زبان بولے یہ ہم دونوں کی لڑائی ہے بھا جی!
آپ اس آگ سے دور رہو اور پھر طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے چوپال سے اٹھ کر اپنی اپنی سرخ ریشمی دھاگوں سے بنی دھوتی کے پلووں کو دونوں ٹانگوں کے عین اوپری حصے پر سے، جو ناف سے تھوڑا نیچے ہوتا ہے، درست کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ رحیم بخش نہ سمجھ پایا کہ انہوں نے دھوتیاں درست کیں ہیں کہ اپنی اپنی قوت مردانہ کا اظہار کیا ہے؟ اور اگر یہ قوت مردانہ کا اعلان ہے تو اس کی یہاں کیا ضرورت کہ جب دونوں دشمن تین تین زوجگان پر مردانگی جتانے کا لائسنس رکھتے ہیں جبکہ گاؤں کی کمی کمین اور نچلی ذات کے عورتوں کی فراوانی اس کے علاوہ تھی؟
اسی رات دین محمد نے فیض بخش کے دھان کے کھیت کو آتے پانی کا راجباہ رات کے اندھیرے میں بیلے میں توڑ کر ضائع کر دیا تو دوسری رات فیض بخش نے دین محمد کے کٹے خشک مکئی کے ڈھیر کو آگ لگا دی، طرفہ تماشا یہ کہ پہلی واردات میں پانی بیلے کی حد پار کرتا رحیم بخش کی تازہ بیجی سورج مکھی کی نو آمدہ فصل کی جان لے گیا تو دوسری طرف جلتی خشک مکئی کے کھیت سے متصل، رحیم بخش کے کھیت میں بھرپور اگی ہوئی مونگی سرے سے مرجھا گئی مگر دین محمد اور فیض بخش کو اپنی دشمنی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا باوجود اس کے کہ رحیم بخش کو کبھی شک گزرتا یہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ دوست ہیں اور اس کے دو متفقہ دشمن ہیں جنہوں نے باہمی دشمنی کے خول میں خود کو چھپا رکھا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں گزشتہ دہائی بہت اہمیت کی حامل ہے 2013 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز نے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی جس پر ہمہ وقت عمران خان کے احتجاج، دھرنوں، جلسوں کے خوف منڈلاتے رہے، گالی گلوچ، بد تہذیبی اور ایک دوسرے کی بے توقیری کا نظام ثقافتی نشان کی صورت قائم ہوتا گیا تو دوسری طرف معاشرے میں کچھ قدرتی طور پر پست قامت منصف بھی بڑے اہم اور تاریخ ساز فیصلوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وفاق میں نواز شریف کی حکومت کی کشتی ہمہ وقت ہچکولے کھا رہی تھی تو پنجاب میں میاں شہباز شریف پوری توانائی کے ساتھ حکمرانی کے مزے اڑا رہے تھے اور اپنے دوست عمران خان کی سیاست پر کبھی کبھار ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتے کہ اس سے بڑے بھائی مشکلات سے دوچار تھے۔ وقت گزرتا رہا اور 2018 کے الیکشن میں عمران خان نے پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنائی۔
عمران خان کے حکومت بنانے کی دیر تھی گویا نواز شریف پر قیامتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، بظاہر یہ مشکلات چھوٹے میاں صاحب یعنی میاں محمد شہباز شریف کے لیے بھی تھیں جنہیں خان صاحب روزانہ کی بنیاد پر بار بار یاد کرتے، انہیں بظاہر برا بھلا کہتے لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ملک کی سر زمین نواز شریف اور اس کی اولاد پر تنگ پڑی، حتی کہ اس کی منکوحہ کو ملک فرنگ میں جان جان آفریں کے سپرد کرنا پڑی، جس کے جنازے میں شرکت کی اجازت نواز شریف نہ پا سکے جبکہ عمران خان کے ظاہری زبردست دشمن میاں شہباز شریف لاہور سے پنڈی کے ہوائی اور زمینی راستوں میں معلق رہے۔
عمران خان کی حکومت کے ابتدائی تین برسوں میں بزدار کی محبت اور خٹک کی وفاداری مشکوک نہ ہو سکی تو شہباز شریف پوری ایمانداری کے ساتھ عمران خان کے ساتھ اپنی دشمنی کا رشتہ نبھاتے رہے۔ مہنگائی ہوئی، بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا، جہانگیر ترین، علیم خان، فرح گوگی ارب پتی ہوئے تو پرانی اطلاعات پر خان صاحب کو تحفے میں ملنے والے بنی گالا کے ایک بڑے رقبے کو قانونی رسی سے مضبوط کیا گیا، عام آدمی کی چیخیں نکلنے لگیں، تن خواہ دار طبقہ بلند فشار خون کا مریض ہوا کیونکہ دونوں دوست عمران شہباز اپنے کام کے علاوہ سارے سرکاری ملازمین کو اضافی اور حکومت ہر بوجھ سمجھتے ہیں، یہ سب روز بروز ہوتا رہا مگر نہ ہوا تو شہباز شریف عمران خان کے درمیان تعلق خراب نہ ہوا اور نہ نواز شریف کے لیے دو کمروں کی سی گنجائش وطن غریب میں نکلی۔
لوگ عمران خان کی حکومت سے تنگ اور اس کے طرز حکمرانی سے سخت نالاں تھے جس کی وجہ سے خان صاحب اور ان کے ساتھی بہت زیادہ پریشان تھے حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب خان صاحب کے جانثاروں کی اپنی جان میاں نواز شریف پر نثار ہونے لگی اور یہ منظر شہباز شریف کے لیے ناقابل دید تھا۔ نواز شریف کی شبانہ روز بڑھتی اس آندھی مقبولیت اور خان کی حد سے زیادہ عدم مقبولیت کا سب سے زیادہ فائدہ شہباز شریف کو ہوا، جس کے حصول کے لیے انہوں نے اپنے اور زیادہ پرانے حریف آصف علی زرداری کو دوست بنا لیا۔ یہ دونوں طنزیہ ہنسی ہنستے تو مجھ ایسے کتنوں کو دین محمد یاد آنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی لیکن بہت بعد میں کھلا کہ شہباز شریف کی اصل دوستی تو عمران خان سے ہے۔
بے حد غیر مقبول، معیشت کو دیوالیہ پن تک پہنچانے والے اور عوام کی نظروں میں صفر سے کمتر ہونے والے عمران خان کو نواز شریف جیسے گھاگ سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک اچھے دوست کی ضرورت تھی جس کے لیے بظاہر رات کے اندھیروں میں پانی توڑنے والے دین محمد نے قدم آگے بڑھایا اور نواز شریف کی لاکھ مخالفت اور جنرل الیکشن کی مانگ کے باوجود زمام حکومت سنبھال لی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ موجود حالات میں اور کوئی الیکشن جیتے نہ جیتے ان کے دوست عمران خان انتخابات میں شکست کھائیں گے۔
لہذا شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی دو کام نہایت اعلی کیے جس سے لوگوں کی توجہ ایک ہی وقت میں بزدار کی ناکامیابی اور شوکت ترین کی نا اہلی سے ہٹ گئی اور شہباز شریف اپنی تیس سالہ رفاقت نبھانے کے گر سے آگاہ تھے، ایک طرف حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا گیا تو دوسری طرف مفتا اسماعیل کو وزیر خزانہ برائے وفاق بنا دیا گیا وہی مفتا اسماعیل جو ہیں تو شاید کراچی کے لیکن ان کی مصنوعات سے ملک بھر کی دکانیں اور کریانہ فروش اپنے ریک کے ریک بھرے رہتے ہیں۔
یہ دو ایسے نابغۂ روزگار تھے جو شہباز شریف کی حکمت عملی سے خان کی دوستی کا بھرم رکھنے کی فطری صلاحیت سے مالا مال تھے کہ لوگ مفتاح کی بے حسی اور حمزہ شہباز کی ویسٹ کوٹ سے ایسے متنفر ہوئے کہ انہیں عمران خان نہایت معصوم اور وطن پرست محسوس ہونے لگے۔ یہی وقت تھا کہ شہباز شریف ترپ کا پتہ کھیلیں جو جلتی پر تیل کا کام کرے اور ان کے دوست عمران خان کی ڈوبتی نیا کچھ کنارے لگے، تو انہوں نے ایک طرف دس فیصد سے زیادہ مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالا، تن خواہ دار طبقے کے معاملے میں خان صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی، بجلی گیس عام آدمی کی پہنچ سے دور کیے اور اس پر بے حسی سے ہنستے وزیر خزانہ کو ٹی وی پر بٹھا دیا جو چار بھائیوں کو ایک روٹی کھانے کا مشورہ دے اور بجلی نہ ہونے کو وقتی مصلحت کا تقاضا کہے۔
وہ تو بھلا ہو ”بزرگوں کا“ جنہوں نے ایک طرف مخصوص لوگوں کو ٹکٹ دلائی اور ادھر سے میڈیا پر ان کے خلاف کمپین چلائی کہ لوگ عمران شہباز دوستی کا راز نہ جان سکیں۔ غدار، لوٹے، بکاؤ، چور، جمہوریت دشمن، محسن کش سمیت ایسے ایسے حوالے سے 7 سے 11 کے درمیان ذہن سازی کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا اور حقیقی دانشوری کے زور پر لوگوں کی توجہ شہباز عمران دوستی کی طرف سے توجہ ہٹائے رکھی گئی۔ جبکہ واقفان حال سب جانتے ہیں۔
اور پھر وہ دوستی نبھانے کا دن آیا۔ 17 جولائی کا دن جب پنجاب بھر میں مریم نواز اور نواز شریف کی محبت یا سیاسی وابستگی کا حقیقی چہرہ سامنے آیا تو کوئی بھی معمولی فہم رکھنے والا آدمی جان سکتا ہے کہ پنجاب میں یہ سیاسی صورت حال کس نے بنائی اور کس تیزی سے بنائی؟ محض تین مہینے میں شہباز شریف نے دن رات کی کوشش سے پورے پنجاب کے ذہن پر جمے نواز محبت کے جالے صاف کیے اور اپنے دوست عمران خان کو پندرہ مشکوک نشستوں کا تحفہ دینے کے ساتھ ساتھ ملتان میں اپنی پوری جماعتی توانائی کو بروئے کار لا کر مخدوم شاہ محمود قریشی کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے صاحب زادے کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنائیں اور پنجاب میں حق حکمرانی حاصل کریں کہ دوسری صورت میں مریم نواز ایک مستقل خطرے کی صورت آئے روز جلسوں میں گرجتی برستی تھی۔ یہ جمع ساز عورت روز بروز سیاسی بصیرت حاصل کرتی آگے بڑھتی جا رہی تھی جبکہ حمزہ شہباز اپنی ”ذہنی شرافت“ کے بوجھ تلے دبے سسکیاں لے رہے تھے۔ دور سمندروں کی منہ زوری سے بے بس میاں نواز شریف کچھ تو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
رحیم بخش نہیں جانتا کہ وہ کیا کرے جس سے دین محمد اور فیض بخش کی دشمنی دوستی میں بدلے ورنہ نہیں معلوم کب تک اس کی مونگی کے کھیت یونہی کملاتے سسکتے رہیں گے۔
آپ یہ مت سوچیں کہ شہباز شریف عمران خان کے دوست ہیں بلکہ وہ گفتگو کریں جس سے آپ کو آئندہ دنوں میں سیاسی صورت حال کی کچھ سمجھ آئے گو یہ اپنی سطح پر مشکل تر چیز ہے جسے عمران خان اور شہباز شریف ایسے دوست ہی سمجھ سکتے ہیں۔

