جاکھی بندر در اصل دیبل بندر ہے


پاکستان کے صوبہ سندھ کی سرزمین قدیم زمانے سے خشکی کے راستوں کے علاوہ سمندری راستوں کے ذریعے دنیا کے مشرقی اور مغربی ممالک کے ساتھ تجارت میں مصروف تھی۔ سندھ میں سمندر کے کناروں پر قدیم زمانے سے بہت سی بندرگاہیں تھیں جو دنیا سے تجارت کے حوالے سے اہم تھیں۔ تاجر اور جہاز ران اس زمانے کی حکومت کے مقرر کردہ سرکاری کارندوں کی نگرانی میں خاندانوں کے ساتھ بندرگاہوں کے قریب رہتے تھے۔ ان بندرگاہوں کے قریب غیر ملکی حملہ آوروں کے ممکنہ حملوں سے دفاع کے لئے چھوٹے بڑے قلعے بنائے گئے تھے۔ ان میں سے جاکھی بندرگاہ اور قلعہ بھی ایک ہے۔

موجودہ وقت میں مقامی لوگ اس کو جاکی یا جاکھی بندر اور قلعہ کہتے ہیں۔ سیاحوں کے بیانات کی روشنی میں مورخین کا خیال ہے کہ یہ لاہری (لاہڑی) یا لاڑی بندر ہے۔ لاڑ سندھ کے جنوبی علاقے کو کہا جاتا جو سمندر کے ساحل سے ملتا ہے۔ شاید اس لئے جاکھی بندرگاہ کو لاہڑی یا لاڑی کہا گیا جاکھی بندر اس وقت کراچی سے مشرق و جنوب کی طرف تقریباً 50 کلومیٹر اور بھنبھور سے جنوب مغرب کی طرف تقریباً 20 کلومیٹر کے سفر پر سمندر کے اندر واقع ہے۔

جب کہ یہ ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل میرپور ساکرو کے لیٹ قصبے سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع ہے۔ میں نے اس بندرگاہ اور قلعہ کے کھنڈرات موٹر بوٹ کے ذریعے جاکر دیکھے ہیں۔ یہ بندرگاہ اب ایک جزیرے پر واقع ہے جو سمندر کے بڑے پانی سے گھرا ہوا ہے۔ دریا پیر لنگر خانے سے جاکھی بندر تک موٹر بوٹ کے ذریعے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے۔ جاکھی بندر قلعہ دریا پیر ہاربر سے گہرے سمندر میں مغرب کی طرف آبی راستے سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

موجودہ جاکھی بندر قلعہ تقریباً چار ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی دیواروں کی چوڑائی تقریباً 5 فٹ ہے۔ اسے سرخ اینٹوں سے بنایا گیا ہے۔ کچھ اینٹوں کی پیمائش ایک فٹ چورس ہے۔ کچھ اینٹیں لمبائی میں ایک فٹ سے بڑی ہیں۔ قلعہ کی بنیاد پتھر کے بڑے سلیبوں سے بنائی گئی ہے۔ قلعہ کا مرکزی دروازہ مشرق کی طرف ہے۔ مین گیٹ پر دو مورچے یا برج بنائے گئے ہیں جبکہ قلعہ کے ہر کونے پر بھی مورچے یا برج بنائے گئے ہیں۔

قلعہ کے احاطے میں دوسری عمارتوں کی تعمیر کے آثار بھی ہیں لیکن سمندری لہروں کی زد میں سب خستہ حال ہو چکی ہیں۔ قلعہ کی دیواریں زیادہ تر ختم ہو گئی ہیں۔ محض نشان رہ گئے ہیں۔ قلعہ کے باہر جنوب مشرق کی طرف بھی کچھ تعمیرات کے نشانات ہیں جو اس وقت کے عام لوگوں کی رہائش گاہیں اور دکانیں یا بزاریں معلوم ہوتی ہیں۔ یہاں بھی دفاعی مورچہ یا برج بنا ہوا ہے۔ ان بیرونی تعمیرات کے قریب مختلف ادوار کے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے بڑے پیمانے پر بکھرے پڑے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلے سمندر کے کنارے پر تھا بعد میں سمندر نے اس علاقے اور قلعہ کو گھیر لیا۔ اب یہ سمندر کی طاقتور لہروں کی قوت سے لڑ رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اسے شکست ہی ہو گی اور مستقبل قریب میں یہ مکمل طور پر سمندر میں ڈوب جائے گا۔

پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے رسالے ”پاکستان آرکیالوجی“ ، ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف ایشین سولائزیشن کے ”جرنل آف ایشین سولائزیشن“ ، محقق ہمانشو کی کتاب ”آرکیالوجی آف سی فیرنگ“ اور رتھ اور ڈیوڈ کی کتاب ”شپس اینڈ میریٹائم ٹکنالوجی آن انڈین اوشین“ میں لکھا گیا ہے کہ یہ لاہوری (لاہوڑی) ، لاہڑی یا لاڑی بندر ہے جس کا ذکر نویں صدی عیسوی میں البیرونی اور ابن بطوطہ نے اپنے سفر ناموں میں کیا ہے۔

مورخین کے درج بالا حوالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آج کے جاکھی بندر کو پہلے لاہڑی یا لاڑی بندر کہا جاتا تھا۔ بعض مورخین کے نقطہ نظر کے مطابق لاہڑی یا لاڑی بندر دراصل دیبل تھا۔ ممکنہ طور پر یہ بات قابل اعتبار ہے کہ جاکھی بندرگاہ دیبل ہی تھا۔ چچنامے میں موجود ایک خط سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیبل ہی تھا۔ راجا داہر نے بن قاسم کو خط لکھا تھا جس کا متن یہ ہے کہ، ”دیبل بڑا دفاعی قلعہ نہیں۔ یہ محض تجارتی بندرگاہ اور قلعہ ہے۔ اسے فتح کر کے سندھ فتح کرنے کا خواب مت دیکھو۔“

علاوہ ازیں چچنامہ میں یہ بھی بیان ہے کہ، ”بن قاسم دیبل فتح کرنے کے بعد ساکرہ سے نیرون کوٹ کی طرف بڑھا تھا۔ ساکرو جسے سندھ میں تالپور دور حکومت میں میرپور ساکرو کہا گیا تھا جو آج بھی ضلع ٹھٹھہ کا شہر اور تحصیل ہے اور اس تحصیل کی سرحدوں میں جاکی یا جاکھی بندر ہے۔ یہ محل وقوع اوپر مضمون میں شامل ہے۔ چچنامہ کے اس بیان کی روشنی میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جاکھی بندر ہی دیبل تھا۔

اس بندرگاہ کو سندھ میں عرب اور سومرہ حکومت دور میں آنے والے کچھ سیاحوں نے دیبل اور کچھ نے لاڑی لکھا ہے۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ بعد میں جلال الدین خوارزمی نے دیبل کو جلایا تھا۔ اس کے بعد ممکنہ طور پر دیبل کو لاہڑی یا لاڑی بندر کہا گیا۔ پھر یہ لاڑی بندر جاکی یا جاکھی بندر کے نام سے مشہور ہوا ہو گا۔ دیبل کو لاڑی بندر کہنا کس قدر سمجھ میں آتا ہے کہ سندھ کے لاڑ کے علاقے میں تھا مگر اس بندرگاہ یا قلعہ کو کب اور کس پس منظر میں جاکی یا جاکھی بندر کہا گیا؟ اس سلسلے میں تاریخ خاموش ہے۔

بلاشبہ، جاکھی بندر سندھ کا قدیم شہر اور بندرگاہ تھا۔ جب البیرونی اور ابن بطوطہ نے سندھ کا سفر کیا تھا اس وقت جاکھی بندر (دیبل یا لاڑی بندر) پہلے ہی موجود تھا اور انہوں نے ہی اس بندرگاہ کو لاڑ میں ہونے کی وجہ سے لاہڑی یا لاڑی کہا تھا اور اسے دیبل سمجھنے کا مبہم اشارہ دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جاکی یا جاکھی (لاہڑی یا لاڑی) بندر ان سیاحوں کے آنے سے پہلے ہی بہت مصروف بندرگاہ اور قلعہ تھا جو دیبل کو ہی ظاہر کرتا ہے۔

جاکی یا جاکھی بندر کو دیبل سمجھنے کے لیے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قلعہ کی تعمیر میں استعمال کردہ پکی اینٹوں پر ہڑپہ یا موہنجو دڑو کے دور کے بعد کی قدیم تحریریں کندہ ہیں۔ غالباً، اینٹوں پر یہ تحریریں قدیم براہمی رسم الخط کے علاوہ یہاں سندھ میں مروج لوہانو رسم الخط یا گرمکھی رسم الخط یا کسی اور مروجہ مقامی رسم الخط میں نقش کی گئی ہیں۔

جاکھی بندرگاہ پر قلعہ کی تعمیر میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اینٹوں پر نقش کی گئی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بندرگاہ اور قلعہ قدیم اور سندھ میں اسلامی دور سے پہلے موجود تھا۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ جاکی یا جاکھی بندر در اصل دیبل بندر ہی تھا۔

Facebook Comments HS