مومند صاحب کی تحریر اور برق صاحب کی کتاب میں نام نہاد پوسٹ مارٹم


چند روز قبل مکرمی شمس مومند صاحب کی تحریر ”چند اسلامی نظریات کا پوسٹ مارٹم“ شائع ہوئی۔ اس میں مومند صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ:

”اس مرتبہ اپنی کتاب (پختون) میں سعد اللہ جان برق نے مسلمانوں کے چند بنیادی نظریات کی دھجیاں اڑا دی ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کالم کی اشاعت سے ایک صحت مندانہ مباحثہ شروع ہو گا۔“

خاکسار صحت مندانہ مباحثہ کی خواہش کی تو قدر کرتا ہے لیکن مباحثہ دلائل کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس تحریر میں مومند صاحب نے محض برق صاحب کے دعوے درج فرمائے ہیں لیکن ان دعووں کی کوئی خاص دلیل تو بیان کی ہی نہیں۔ خاکسار یہ بحث نہیں کر رہا ہے کہ برق صاحب کے دعوے درست ہیں یا غلط یا ان میں سے کچھ غلط ہیں اور کچھ صحیح۔ مناسب ہوتا اگر صرف ایک دو دعوے درج کر کے ان کے دلائل بھی بیان کیے جاتے۔

بہر حال اس تحریر میں لکھا ہے

”برق صاحب لکھتے ہیں تاریخ کی کتابیں مستند نہیں ہیں کیونکہ وہ اشرافیہ کی تاریخ ہوتی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ قرآنی آیات کے حوالے دیے ہیں اور ان میں سے بعض کی تشریح اور تفسیر بھی پیش کی ہے مگر احادیث سے رجوع نہیں کیا ہے۔ بلکہ ایک جگہ احادیث کی صحت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔“

ان جملوں سے جو تاثر ابھرتا ہے اسے انگریزی میں sweeping statementsکہتے ہیں۔ مجھے اردو میں اس کا متبادل یاد نہیں آ رہا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ بغیر کسی استثنا کے تاریخ کی کتب مستند نہیں ہوتیں۔ اگر یہ مفروضہ تسلیم کر لیا جائے تو یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ تاریخ کا سارا علم بیکار ہے کیونکہ جب تاریخ کی کوئی کتاب ہی مستند نہیں تو تاریخ کے علم کا کیا فائدہ؟ اگر آج کوئی من چلا یہ دعویٰ کر دے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ سکندر اعظم دنیا فتح کرنے نکلا تھا اور ایران اور پنجاب تک پہنچ گیا تھا۔ بلکہ وہ بیچارا تو کبھی مقدونیہ ہی سے باہر ہی نہیں نکلا تھا۔ اسی وطن کی گلیوں میں کھیلتا ہوا جواں مرگی کا شکار ہوا۔ تو ہم اس کی تردید نہیں کر سکتے کیونکہ ہمیں سکندر اعظم کے جن حالات کا علم ہے ان کی بنیاد تاریخی کتب پر ہی ہے۔

اگر آج کوئی یہ دعویٰ کرے کہ بابر کا وسطی ایشیا سے کیا تعلق، وہ تو روانڈا کے ٹٹسی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور سیاہ فام افریقی تھا تو ہم اس کی تردید کیسے کریں؟ کیونکہ برق صاحب نے تو یہ فرما دیا ہے کہ تاریخ کی کتابیں مستند نہیں ہوتیں۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص یہ مضمون لکھے کہ اکبر ہمایوں کا بیٹا نہیں بلکہ اس کا باپ تھا۔ تو فرمائیے کہ تاریخی کتب کے علاوہ ہمارے پاس کیا ذریعہ جس سے ہم اس دعوے کی تردید کر سکیں۔ بہتر ہوتا اگر اس تحدی کی بجائے یہ واضح کیا جاتا کہ تاریخ کی کون سی کتب مستند ہیں اور کون سی غیر مستند؟ یا تاریخ کی کتب پر کس حد تک اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کے بعد دوسرے شواہد کو بھی پرکھنا چاہیے اور ان نظریات کے حق میں کچھ دلائل پیش کیے جاتے۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خود میرے محترم سعد اللہ جان برق صاحب نے تاریخ پر کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اگر ساری تاریخ ہی غیر مستند ہے تو پھر تاریخ پر کتب تصنیف فرمانے کا کیا جواز تھا؟ مومند صاحب کی جس تحریر کا جو حوالہ اوپر درج کیا گیا ہے، اس سے یہی تاثر پڑتا ہے کہ برق صاحب یا مومند صاحب علم تاریخ کو اور علم حدیث کو ایک ہی سمجھتے ہیں۔ اگر میرا تاثر درست ہے تو یہ ایک غلط مفروضہ ہے علم حدیث اور علم تاریخ علیحدہ علیحدہ علوم ہیں اور دونوں کا دائرہ کار، مقاصد اور روایت کا معیار کئی لحاظ سے بالکل مختلف ہیں۔ احادیث نبوی ﷺ کا بہت کم حصہ تاریخ کے متعلق ہے۔ صحیح بخاری کے ابواب کے ناموں پر ہی نظر ڈال لیں آپ کو بہت کم ابواب ایسے نظر آئیں گے جنہیں تاریخی روایات قرار دے سکتے ہیں۔

مومند صاحب نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ برق صاحب نے اپنی کتاب میں احادیث کا ذکر نہیں کیا بلکہ احادیث کی صحت پر سوال اٹھایا ہے۔ اپنی ذات میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اہل قرآن احادیث کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں اور ان کی صحت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اور وہ بھی سارا استنباط قرآن مجید سے کرتے ہیں۔ جس طرح غلام احمد پرویز صاحب بھی اسی سوچ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور دوسری طرف اہل حدیث احادیث پر زیادہ بنیاد رکھتے ہیں۔

لیکن معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ جو جملہ مومند صاحب نے تحریر فرمایا ہے، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ برق صاحب علم حدیث سے واقفیت نہیں رکھتے۔ کیونکہ مومند صاحب نے لکھا ہے کہ برق صاحب نے احادیث کی صحت پر سوال اٹھایا ہے۔ یہ ایک اور sweeping statementہے، جس کے ساتھ کوئی دلیل بیان نہیں کی گئی۔ اس کالم میں اعتقادات کی کوئی بحث نہیں کی جائی گی۔ صرف علمی اعتبار سے چند گزارشات پیش کی جائیں گی۔

سب سے پہلے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے نزدیک احادیث کی بالکل کوئی اہمیت نہیں؟ یا پھر وہ ضعیف احادیث پر انحصار کرنے کے مخالف ہیں؟ یہ واضح نہیں۔ لیکن یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ علم احادیث کا علم تو ہے ہی وہ علم جس کے ذریعہ مختلف زاویوں سے کسی حدیث کی صحت کا جائزہ لیا جائے۔ کسی بھی حدیث کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک سند اور دوسرا اس کا متن۔ سند میں راویوں کا بیان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر صحیح بخاری کی پہلی حدیث کی سند یہ ہے امام بخاری نے یہ حدیث حمیدی سے حمیدی نے سفیان سے، سفیان نے یحییٰ بن سعید انصاری سے اور یحییٰ نے محمد بن ابراہیم تیمی سے اور انہوں نے علقمہ بن وقاص لیثی سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔

جب اس حدیث کی سند کو پرکھا جائے گا تو ان راویوں کے حالات پر ایک وسیع لٹریچر موجود ہے کہ کیا ان راویوں کا حافظہ مضبوط تھا؟ کیا ان سے کبھی کوئی غلط بیانی تو منسوب نہیں ہوئی؟ ان کی علمی حیثیت مضبوط تھی کہ نہیں؟ کیا وہ عربی پر اتنا عبور رکھتے تھے کہ احادیث نبوی میں موجود الفاظ کا مطلب سمجھ سکیں؟ ان سے کتنی روایات بیان کی گئی ہیں؟ اس حدیث کا مضمون ایسا تو نہیں جس کے بارے میں اس راوی کی جانبداری واضح ہو؟ ایک راوی جس دوسرے راوی سے روایت کر رہا ہے، کیا ان دونوں کی ملاقات ثابت ہے؟ کیا یہ حدیث صرف ایک راوی سے بیان کی گئی ہے یا پھر یہ حدیث بہت سے راویوں نے بیان کی ہے؟ اسماء الرجال کے اس علم کو جرح و تعدیل کہا جاتا ہے۔

اس طرح حدیث کے متن پر تحقیق کو ’درایت‘ کہا جاتا ہے۔ علماء حدیث یہ پرکھتے ہیں کیا اس روایت میں کسی قرآنی آیت یا دوسری احادیث سے متضاد مفہوم تو بیان نہیں ہو رہا۔ اگر ایسا ہو تو ایسی حدیث کو شاذ کہا جاتا ہے۔ اگر بظاہر ایسا نظر بھی آئے تو حدیث کے ماہرین اس کا ایسا مطلب اخذ کرتے ہیں جن سے دونوں میں مطابقت پیدا ہو۔ اور ہر حدیث کو تمام دوسری متعلقہ احادیث سے موازنہ کر کے نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ پھر اس مضمون پر ایک وسیع لٹریچر موجود ہے کہ ہر حدیث کا سیاق و سباق اور موقع محل کیا تھا؟ اور ایسے کئی معیار جن پر پرکھ کر اس علم کے ماہرین مختلف روایات کو صحیح، حسن، ضعیف یا موضوع قرار دیتے ہیں۔ یا کسی حدیث کی تشریح کرتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ علم ایک وسیع علم ہے اور ایک ہزار سال سے زائد عرصہ میں ان موضوعات پر بیسیوں نہیں سینکڑوں کتب لکھی گئی ہیں۔ اور یہ علم اپنی ذات میں ایک سائنس ہے۔ ان حقائق کی موجودگی میں یہ جملہ کہ برق صاحب نے احادیث کی صحت کے بارے میں سوال اٹھایا ہے کہ کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک یہ وضاحت نہ کی جائے کہ انہوں نے کس معین پہلو کے بارے میں سوال اٹھایا ہے اور کیا دلیل بیان کی ہے۔ محض چند مبہم خیالات پر تو بحث نہیں کی جا سکتی۔

اس کالم میں صرف چند نکات کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کی گئی ہیں۔ باقی موضوعات مثال کے طور پر اسرائیلیات کے موضوع کے بارے میں کسی آئندہ کالم میں کچھ حقائق پیش کیے جائیں گے۔

 

Facebook Comments HS

2 thoughts on “مومند صاحب کی تحریر اور برق صاحب کی کتاب میں نام نہاد پوسٹ مارٹم

  • 22/07/2022 at 11:27 صبح
    Permalink

    وہی مولویانہ جوڑ توڑ لکھ ڈالی ہے۔ حدیث، روایت، اسماءالرجال پتہ نہیں کیا کیا وہی کچھ لکھنا پڑتا ہے مولوی یا مولویانہ سوچ والوں کو۔ اب آگے بھی چلو پلیز۔ عربوں کی سینکڑوں سالہ لکھت پڑھت کو کیوں اپنے اوپر زبردستی بار کی ہوئی ہے۔

    • 22/07/2022 at 12:42 شام
      Permalink

      لفظ مولویانہ لکھنا کافی نہیں۔ جس طرح احادیث کے راویوں کے حالات پر تحقیق کر کے شائع کیے گئے تھے تاکہ ہر کوئی روایت کی صحت کا جائزہ لے سکے ۔ اور اس علم کو سائنسی بنیادوں پر اسوار کیا گیا تھا۔ اگر اتنی تحقیق کسی اور نے کی ہے تو اس کی مثال پیش کریں میں ممنون ہوں گا۔

Comments are closed.