لاہور میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب: ’مجھے دفتر جاتے ہوئے جوہر ٹاؤن کا دریا اور ماڈل ٹاؤن پارک کی ندی عبور کرنا پڑی‘
محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں 238 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات لاہور کے چیف میٹرولوجسٹ شاہد عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ بارش لاہور کے علاقے تاج پورہ میں 238 ملی میٹر ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حساب سے شہر میں تقریباً آٹھ انچ بارش برس چکی ہے۔
تیز اور مسلسل بارش کے باعث جہاں شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے وہیں ٹریفک کی روانی اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
لاہور کی اہم شاہراؤں سمیت شادمان، مزنگ، مسلم ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن میں بھی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تیز اور مسلسل بارش کے باعث پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو گیا۔
چیف میٹرولوجسٹ شاہد عباس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں لکشمی چوک، کوپر روڈ، دوموریہ پل، ایک موریہ، فردوس مارکیٹ، جی پی او چوک، نابھہ روڈ، بھاٹی گیٹ، جناح ہپتال اور ٹکا چوک سے واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ رات سے جاری بارش کا سلسلہ اس وقت کچھ دیر کے لیے تھم گیا ہے تاہم ابھی مزید چند دن بارش کی پیش گوئی ہے۔
شاہد عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی میڈیا پر چلنے والی خبریں کہ بارش کے حالیہ سپیل نے ریکارڈ توڑ دیے، درست نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مون سون کے سیزن میں لاہور شہر میں اس سے زیادہ بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
اس سوال پر کہ کیا محکمہ موسمیات نے اتنی شدید بارش کی پیش گوئی کی تھی ان کا کہنا تھا کہ بالکل بارش کا یہ حالیہ سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہنے کی توقع ہے اور اس حوالے سے لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں اربن فلڈنگ کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے صارفین بارش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر بات کر رہے ہیں۔
https://twitter.com/semolucious/status/1550021159583989760
ایک صارف نے بارش میں اپنے سفر کی روداد بتاتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے اس بارش میں دفتر جاتے ہوئے جوہر ٹاؤن کا دریا اور ماڈل ٹاؤن پارک کی ندی عبور کرنا پڑی۔‘
جبکہ ایک صارف نے لاہور پر سڑکوں پر پانی جمع ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’حمزہ شہباز شریف کل وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہے لیکن آج انتظامیہ کہاں غائب ہے؟‘
https://twitter.com/axa_here/status/1550014856207556609
جبکہ چند صارفین لاہور کے تاج پورہ میں ہونے والی شدید بارش کے باعث کھڑے ہونے والے پانی پر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں اور صوبے میں جاری سیاسی عدم استحکام کا حوالہ دے رہے ہیں۔
جہاں ایک جانب صارفین بارش کے باعث ہونے والی مشکلات پر بات کر رہے ہیں وہیں کچھ لوگ اس موسم سے لطف اندوز ہوتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر شان رضوی نامی ایک صارف نے موسم سے لطف اندوز ہوتے کچھ یوں ٹویٹ کیا۔
https://twitter.com/Drshanrizvi/status/1549906023967870976
یہ بھی پڑھیے
مون سون پاکستان میں داخل: معمول سے زیادہ بارشیں کیوں متوقع ہیں؟
پاکستان کے کن شہروں میں کتنی بارش ہو گی اور اربن فلڈنگ کے خدشات کہاں کہاں ہیں؟
’آدھا کراچی پانی میں، آدھا اندھیرے میں‘
شدید بارش میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟
شدید بارش میں حادثات سے بچنے کے لیے کیا احتیاطی اقدامات اٹھانے چاہیے اس بارے میں بات کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ شاہد عباس کا کہنا تھا کہ شدید بارش میں ٹریفک حادثات اور بجلی کا کرنٹ لگنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘شدید بارش میں موٹر سائیکل سواروں کو تیز رفتاری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سڑک پر پھسلن ان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
اسی طرح جن علاقوں میں پانی کھڑا ہے وہاں پانی سے گزرتے ہوئے بجلی کے کھمبوں کو ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ اس سے کرنٹ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔’
شاہد عباس کا کہنا تھا کہ ایک طریقہ کار کے تحت جب بھی محکمہ موسمیات بارش کی پیش گوئی کرتا یا شدید بارش کے حوالے سے الرٹ جاری کرتا ہے تو واسا اور واپڈا سمیت متعلقہ محکمہ شہر میں نکاسی آب کے حوالے سے اپنی حکمت عملی ترتیب دے دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا شدید بارش کے دوران کچے مکانات اور دیواروں سے فاصلہ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہیے کے مون سون کے دوران باقاعدگی سے وہ اپنے گھروں کی چھتوں پر پانی کے اخراج کے لیے پرنالوں کی صفائی کریں تاکہ شدید بارش کی صورت میں ان کے گھر محفوظ رہیں۔


