خواتین دہشتگرد


رواں سال کراچی یونیورسٹی میں ایک وین پر خودکش حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین چینی اساتذہ سمیت متعدد ہلاکتیں ہوئیں، اس خودکش حملے کی

ذمے داری بلوچ عسکریت و علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے قبول کی گئی۔ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں چینی شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والی خودکش حملہ آور خاتون شاری بلوچ عرف برمش تھیں۔

آئیں پہلے جانتے ہیں یہ شاری بلوچ کون ہیں؟

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خود کش حملہ آور خاتون نے 2014 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کیا، انہوں نے 2015 میں بلوچستان یونیورسٹی سے زولوجی میں ایم ایس سی بھی کیا ہوا تھا۔ وہ بلوچستان کے ضلع تربت میں واقع گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کلاتک میں استاد کے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ شاری بلوچ دو بچوں کی ماں تھیں۔ جن کی عمریں پانچ برس کے لگ بھگ ہیں۔

بلوچستان لبریشن آرمی کے مطابق شاری بلوچ گزشتہ دو برسوں سے ان کے مجید بریگیڈ کا حصہ تھیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی کا دعویٰ ہے مجید بریگیڈ میں اس وقت کثیر تعداد میں بلوچ خواتین فدائین شامل ہیں۔ شاری بلوچ چھ ماہ پہلے بلوچستان کے علاقے کیچ سے کراچی منتقل ہوئی تھیں، بدقسمتی سے پاکستان میں خاتون خود کش بمبار ہونا یا دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی بہت سے ایسے واقعات ہوچکے ہیں، آئیں ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں

چھ نومبر 2000 کو روزنامہ ’نوائے وقت‘ میں واقع کراچی دفتر پر ایک بم حملہ جو کراچی اور پاکستان میں ہونے والا ’پہلا خودکش حملہ‘ قرار دیا جاتا ہے، جو ایک خاتون نے کیا تھا۔

اس حملے میں مبینہ ’حملہ آور خاتون‘ اور روزنامہ نوائے وقت کے تین ملازمین سمیت چار افراد ہلاک اور دو ملازموں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔

ایسی ہی ایک اور مثال 2005 میں ملتی ہے جب سکیورٹی اہلکاروں نے ایک آپریشن کے دوران دو بہنوں عارفہ بلوچ اور صبا بلوچ کو انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے لیے خودکش حملے کے لیے ٹریننگ حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کیں

ایک خاتون خودکش حملہ آور نے دسمبر 2010 میں خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ (سابقہ باجوڑ ایجنسی) میں حملہ اس وقت کیا جب ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت مقامی افراد میں خوراک تقسیم کی جا رہی تھی۔ اس حملے میں 43 افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے۔

2010 ہی میں 12 سالہ افغان پناہ گزین لڑکی مینہ گل نے سکیورٹی اہلکاروں کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ طالبان کی جانب سے اسے خودکش حملے کے لیے تربیت دی گئی، اس نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے متعدد سیل موجود ہیں جہاں لڑکیوں کو خودکش حملوں کی تربیت دی جاتی ہے۔

25 جون 2011 میں ایک ازبک جوڑے نے ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس اسٹیشن کے قریب خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا تھا۔

جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد پر 2012 میں مومند ایجنسی پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں حملہ آور خاتون تھیں۔ قاضی حسین احمد اس حملے میں محفوظ رہے جبکہ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

جون 2013 میں خاتون حملہ آور نے سردار بہادر خان یونیورسٹی کی بس کو کوئٹہ میں نشانہ بنایا جس میں خواتین سمیت 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔

ساؤتھ ایشین ٹیرر ازم پورٹل کے مطابق 2002 سے 2017 کے درمیان پاکستان میں 460 خودکش حملے ہوئے جس میں سے چھ خواتین حملہ آوروں کی جانب سے کیے گئے۔

2008

میں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے ایک بازار میں بارودی مواد کے ذریعہ دھماکہ کیا گیا تھا جس کو نصب کرنے میں خواتین نے کردار ادا کیا تھا۔

لاہور میں خودکش حملہ کرنے کی ارادہ رکھنے والی نورین لغاری جنھیں حملے سے پہلے گرفتار کر لیا گیا اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 2015 میں ایک حملے میں ہلاک ہونے والی پاکستانی نژاد امریکی شہری تاشفین ملک شامل ہیں۔

یہ دونوں خواتین نہ صرف خود تعلیم یافتہ تھیں بلکہ ان کا تعلق پڑھے لکھے خاندان سے تھا۔ تاشفین ملک ایک بچی کی ماں تھیں اور ان کی ہلاکت کے وقت ان کی بچی کی عمر چھ ماہ تھی، رواں سال مئی میں سی ٹی ڈی مکران کی جانب سے

ایف آئی آئی آر درج کرائی گئی، جس میں میں کہا گیا ہے کہ ایک حساس ادارے کو اطلاع ملی ہے کہ نورجہاں نامی خاتون اپنے ایک ساتھی (جس کا تعلق کالعدم بی ایل اے کی ذیلی شاخ مجید بریگیڈ سے ہے ) بھاری اسلحہ و بارود اور خود کش جیکٹ کے ساتھ ہوشاپ کے ایک گھر میں موجود ہے، جن کا ارادہ اہم مقام پر خود کش حملہ کرنے کا ہے۔ اس اطلاع پر لیڈی کانسٹیبلوں اور حساس ادارے کے اہلکاروں نے ہوشاپ میں مذکورہ گھر پر چھاپہ مارا اور دونوں کو اپنی تحویل میں لیا

شدت پسند تنظیموں کی جانب سے خواتین خودکش حملہ آوروں کا استعمال اس لئے بھی کیا جاتا ہے تاکہ یہ واقعہ جلد از جلد اور ہر پہلو سے میڈیا ہائپ کے لئے نمایاں رہے، ہلاکتوں کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلے اور خاتون حملہ کی وجہ سے مزید اہم خبر کا پہلو سمجھا جائے کیا جاتا ہے،

پاکستانی معاشرے میں خواتین کے پردے کا احترام کرتے ہوئے ان کی زیادہ تلاشی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے یہ خواتین حملہ آور نہ صرف اپنے کپڑوں میں دھماکہ خیز مواد چھپانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں بلکہ اکثر سکیورٹی چیک پوائنٹس سے بغیر تلاشی بھی گزر جاتی ہیں۔ ’

اس طرح خواتین بمبار ٹارگٹ کے قریب جا کر زیادہ تباہی مچا سکتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بہت سے عناصر شاری بلوچ کو باہمت خاتون بنا کر پیش کر رہے ہیں، درحقیقت یہ تخریب کارانہ عناصر کی جانب سے نوجوان خواتین کی ذہن سازی کا منظم طریقہ ہے، تاکہ وہ ان کے مقاصد پورے کرنے میں ان کے لئے معاون ثابت ہو، حکومت اور اداروں کو سوشل میڈیا پر جاری اس قسم کی تخریبی ایکٹیویٹی کی فوری روک تھام کرنی چاہیں، تاکہ ہم مزید نقصان سے بچیں، پبلک سروس مسیجز، اساتذہ، علما کرام کے ذریعے سے اس قسم کے لیکچر اور پیغامات دلوائے جائیں جس سے تخریبی سوچ حاوی نہ ہو، سوشل میڈیا پر اس قسم کے پیجز بنا کر نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کیا جائے جس سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک ٹوٹے، ان کا فعال کردار، غیر فعال ہو

یقیناً شاری بلوچ یا اس جیسی خواتین و حضرات کو کوئی تخریب کار ذہن ہی لیجنڈ یا ہیرو قرار دے سکتا ہے، کسی شفاف ذہنیت کے حامل فرد کے نزدیک وہ سفاک اور بھیانک مجرم ہیں

ہم ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کے خواہاں ہیں، اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے ہمیں متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیں، کوئی بھی ایسی شخصیت یا ایکٹیویٹی ہوتی دیکھیں جو مشکوک لگے تو فوری سیکیورٹی اداروں کے علم میں لائیں، اپنی پولیس، رینجرز، فوج سمیت ہر سیکیورٹی ادارے کو اپنا محافظ سمجھتے ہوئے ان کا احترام کریں، شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سب سے پہلے اپنی جذباتیت کو قابو میں لانے کی کوشش کریں، کسی بھی سیاسی، مذہبی یا کسی اور سوچ کے تحت اپنے محافظین کو نشانہ تضحیک مت بنائیں، اگر ایسا ہو گا تو جان لیں آپ اپنے وطن کے دشمن کو مضبوط کرنے میں سہولت کاری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، کیونکہ اپنے اداروں پر ہزرہ سرائی کرنا، ان کے مورال کو ڈاؤن کرنا جانے انجانے میں دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہے، جو خانہ جنگی کا سبب بنتی ہے، یہ ہی عمل علیحدگی پسند قوتوں کو بھی فعال کرتا ہے،

جس سے ریاست انتشار اور افراتفری کا شکار ہوتی ہے، اس کا استحکام متزلزل ہوتا ہے، جس کا سب سے پہلا جھٹکا معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ ملک سے اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری سکڑنے لگتی ہے، جس کا نقصان صرف اور صرف ریاست کو ہوتا ہے، خدارا برا گندا سوچ کو جھٹک کر، محرومیوں کی حسرت کو بالائے طاق رکھ کر، اداروں کی تضحیک بند کر کے، شخصیت پرستی کے سحر سے نکل کر، بچا لیجیے پاکستان کو۔

Facebook Comments HS