بدترین آغاز کے بہتر انجام کی امید


مسلم لیگ (نون) کا واقعتا اگر کوئی سوشل میڈیا سیل ہے تو وہ منظم انداز میں متحرک نہیں۔اس جماعت کے چند حامی مگر اپنے تئیں کچھ جلوہ دکھانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ان میں سے چند ان دنوں مجھ سے بہت ناراض ہیں۔ٹویٹر کے لئے لکھے پیغامات کے ذریعے اس شبے کا اظہار کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب کو غالباََ میں چند ذاتی وجوہات کی بنا پر ناپسند کرتا ہوں۔ ان پر جارحانہ تنقید کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔پنجاب کے ضمنی انتخابات ہوجانے کے بعد انہیں تواتر سے استعفیٰ دینے پر اکسا رہا ہوں۔ ایسا کرتے ہوئے بھول جاتا ہوں کہ اگر انہوں نے ”ہمت ہار کر“ میدان خالی کر دیا تو پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہی نہ جا سکے گا۔ عمران خان صاحب اس کے بعد اپنی پسند کی ”عبوری حکومت“اور ”نیا“ چیف الیکشن کمشنر لگوا لینے کے بعد فوری انتخاب کی تاریخ حاصل کر لیں گے۔ مسلم لیگ (نون) کو انتخاب لڑنے کے لئے اپنے ”گڑھ“ یعنی پنجاب کے بے شمار حلقوں سے اس کی ٹکٹ کے خواہاں امیدوار بھی نہیں ملیں گے۔ بالآخر سابق وزیر اعظم دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزارت عظمیٰ کے منصب پر واپس لوٹ آئیں گے۔ اقتدار میں گج وج کر ہوئی واپسی انہیں ”مزید منتقم مزاج اور آمرانہ“ بنا دے گی۔

مجھ کوشہباز شریف صاحب کا ”متعصب ویری“ ٹھہراتے متوالوں کو میں وضاحتیں دینا ضروری نہیں سمجھتا۔خلوص دل سے بلکہ شکر گزار ہوں کہ ابھی تک انہوں نے فقط میرے دلائل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مجھے ”لفافہ“ قرار نہیں دیا۔ میری ذات اور خاندان کو سوشل میڈیا پر پھیلائی تصاویر کے ذریعے رسوا کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے۔ اسی باعث اصل موضوع پر توجہ مرکوز رکھنے کی آسانی میسر ہے۔

ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے میں دیانت داری سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ شہباز صاحب نے انتہائی مشکل حالات میں اقتدار سنبھالا ہے۔وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد مگر وہ جن مشکلات میں گھرے نظر آئے وہ ”اچانک“ نمودار نہیں ہوئی تھیں۔ گزشتہ برس کے نومبر میں یہ پیغام مل گیا تھا کہ عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ یعنی آئی ایم ایف شوکت ترین صاحب کے بنائے بجٹ سے مطمئن نہیں۔موصوف آئی ایم ایف کی تسلی کے لئے بالآخر ”منی بجٹ“ لانے کو مجبور ہوئے۔ اس کے باوجود ”ڈومور“ کا تقاضہ جاری رہا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے معاملات ابھی سنبھلے ہی نہیں تھے تو روس یوکرین پر چڑھ دوڑا۔ عالمی مبصرین کی اکثریت کا خیال تھا کہ دو یاتین ہفتوں تک جاری رہی پیش قدمی کے بعد روس اپنے ہدف کے حصول کے بعد ”فتح“ کا اعلان کردے گا۔ یوکرین نے مگر تاریخی مزاحمت دکھائی۔ امریکہ اور یورپ نے جدید ترین ہتھیاروں اور جاسوسی آلات کی فراہمی کے ذریعے اس مزاحمت کو توانا تر بنادیا۔ جنگ طویل ہونا شروع ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کا بحران اٹھ کھڑا ہوا۔مارچ میں یہ واضح ہوگیا کہ روس اور یوکرین کے مابین چھڑی جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی۔اس کی وجہ سے تیل ہی نہیں گیس اور روزمرہ استعمال کی بے شمار غذائی اجناس بھی عالمی منڈی سے غائب ہونا شروع ہو جائیں گی۔

عالمی معیشت کو شہباز صاحب اور ان کے وفادار مجھ سے کہیں بہتر طورپر سمجھتے ہیں۔ روس اور یوکرین کے مابین چھڑی جنگ کی وجہ سے جو بحران گھمبیر ترہورہا تھا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے انہیں عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنے کا ارادہ ترک کر دینا چاہیے تھا۔

عمران خان صاحب کو ہر صورت گھر بھیجنا ہی مقصود تھا تو ٹھوس اور وا ضح نظر آنے والے عوامل کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجانے کے بعد شہباز صاحب کو بطور وزیر اعظم فی الفور نئے انتخابات کا اعلان کردینا چاہیے تھا۔وہ مگر اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بابت پ±راعتماد رہے۔”ہم سنبھال لیں گے“ والا تاثر دیتے رہے۔شاید وہ چند معاملات سنبھال لیتے۔عمران خان صاحب نے مگر انہیں اقتدار میں ایک دن بھی ”سنبھلنے“نہیں دیا۔جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور اپنے دعوے کے مطابق اقتدار سے محروم ہو جانے کے بعد مزید ”خطرے ناک“ ہو گئے۔

عمران خان صاحب کی جانب سے اپنا ئی جارحیت نے بلکہ ہمارے ریاستی اداروں کو بھی حواس باختہ بنادیا۔شہباز صاحب تک یہ پیغام بھی پہنچا کہ رواں مالی سال کا بجٹ منظور کروا لینے کے بعد وہ زیادہ سے زیادہ اکتوبر 2022ء میں نئے انتخابات کی تیاری کریں۔ انتہائی تجربہ کار سیاستدان ہوتے ہوئے وزیر اعظم اور ان کے قریبی ساتھیوں کو بخوبی اندازہ تھا کہ وہ جو بجٹ تیار کررہے ہیں اس کی وجہ سے عوام تلملا اٹھیں گے۔ اکتوبر میں اگر انتخاب ہوئے تو وہ مسلم لیگ (نون) کے امیدواروں کو سبق سکھانے کو ڈٹ جائیں گے۔ بہتر یہی ہو گا کہ آئندہ انتخاب کو ہر صورت 2023ء کے اگست تک ٹالنے کی کوشش ہو۔

نئے انتخابات کو اگلے برس کے اکتوبر تک ٹالنا مگر اب ممکن نہیں رہا۔ ریاست کو دیوالیہ ہو جانے سے بچانے کے لئے موجودہ حکومت نے اپنے تئیں جو ”سیاسی خودکشی“ کی ہے مقتدر اور عدالتی حلقوں میں اس کی کماحقہ پذیرائی بھی نہیں ہورہی۔اسی وجہ سے پنجاب کی اسمبلی میں ”لوٹوں“ کی وجہ سے خالی ہوئی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانا پڑے۔ ان کے نتائج نے وفاقی حکومت کو مزید حواس باختہ بنادیا ہے۔حمزہ شہباز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر ہر صورت برقرار رکھنے کی خواہش مسلم لیگ (نون) کو ایسے ہتھکنڈے اختیار کرنے کو بھی مجبور کر رہی ہے جنہیں شہری متوسط طبقے کی اکثریت ”ہوس اقتدار“ کا اظہار ہی تصور کرتی ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی میں نظر آنے والی اکثریت کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ منتخب ہونے دیا جائے۔

یہ بات درست ہے کہ ”تخت لہور“ فتح کر لینے کے بعد چودھری پرویز الٰہی انتظامی مشینری کے ماہرانہ استعمال سے اپنے سیاسی مخالفین کی زندگی اجیرن بنادیں گے۔تخت یا تختہ والے معرکوں میں لیکن ایسا ہی ہوتا ہے۔وقت البتہ ایک سابھی نہیں رہتا۔ہر سیاست دان ”برے وقت“ کے لئے جبلی طورپرخود کو تیار رکھتا ہے۔ بدترین آغاز کے بہتر انجام کی امید کے ساتھ ”براوقت“گزار ہی لیتا ہے۔ انگریزی کا ایک لفظ ہے :Initiative-”پیش قدمی“ اس کا آسان ترین اردو متبادل ہو سکتا ہے۔ سیاست میں بالآخر ”سکندر“ وہی ثابت ہوتا ہے جو Initiative کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھے۔ فی الوقت اس پر عمران خان صاحب کا اجارہ نظر آ رہا ہے۔ اقتدار سے ہر صورت چمٹے رہنے کے بجائے شہباز شریف صاحب اگر نئے انتخابات کو آمادہ ہوجائیں تو Initiative ان کے ہاتھ منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے حصول کی کوشش کے بغیر انجام” سو جوتے اور سو پیاز“ کے علاوہ مجھے تو نظر نہیں آرہا۔

(بشکریہ نوائے وقت)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments