موسم برسات سے استفادہ کیجیئے


موسم برسات شروع ہو چکا ہے۔ ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر سال یہ موسم اپنی خوبصورتی اور شدت سمیت ہمیں معمولی فائدہ اور زیادہ نقصان دے کے چلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ہماری کمزور منصوبہ بندی اور اس بہترین موسم کے فوائد سے نا واقفیت ہے۔

اگر ہم یہ جان لیں کہ یہ موسم ہمارے ماحول کے لیے کس قدر اہم ہے اور ہم اس سے کس طرح استفادہ کر سکتے ہیں تو پانی کی کمی سمیت بہت سارے مسائل پہ قابو پایا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں اس موسم کو فقط چائے پکوڑے اور رومانوی شاعری اور موسیقی تک ہی محدود کر دیا گیا ہے۔

سارا سال ہم پانی کی کمی، زرخیز زمین کے کٹاؤ، سیلاب کی وجوہات، فضائی آلودگی، زہریلی گیسوں کی زیادتی اور آکسیجن کی کمی پہ بات تو کرتے ہیں لیکن کم لوگ ہی ان مسائل کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

آئیے اس موسم برسات سے کماحقہ افادہ حاصل کریں اور اپنے اپنے شہر یا علاقے میں شجرکاری مہم کا آغاز کریں۔

شجرکاری کے لیے یہ موسم بے انتہا مناسب ہے اسے ضائع مت کریں۔
شجرکاری کے لیے چند بنیادی باتیں اپنے پاس محفوظ کر لیں۔

1۔ شجرکاری مہم فقط تصویریں بنا کے سوشل میڈیا پہ لگانے کے لیے نہیں ہوتی کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پودے لگانے والے بعد میں پودے کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر پاتے یوں شجرکاری کے دوران لگائے جانے والے پودے ایک ہفتے کے اندر مر جاتے ہیں۔ لہذا اگر آپ کوئی پودا لگاتے ہیں تو اس کی سردردی کے ساتھ دیکھ بھال بھی کیجیے۔

2۔ شجرکاری کے لیے ماحول دوست پودوں کا انتخاب کیجیے۔
3۔ کوشش کیجیے کہ پودے پھل دار ہوں علاوہ ازیں سایہ دار پودوں کا انتخاب کریں۔

4۔ کوشش کریں کہ سڑک کے کنارے قدآور اور سایہ دار درخت بننے والے پودے لگائے جائیں کیونکہ پست قد پودے یا پھیلنے والے درخت حادثات کا باعث بنتے ہیں۔

5۔ گھر کے صحن یا بالکنی میں پھول دار پودے لگائے جائیں۔ سکول، قبرستان یا کھیل کے میدانوں میں پھل دار قدآور درخت لگانا مناسب ہے۔

6۔ پودے لگانے کے لیے زمین کو آمادہ کرنا، پانی کی رسائی یقینی بنانا، اور جانوروں سے بچاؤ کا انتظام کرنا نہایت ضروری ہے۔

7۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کو، خاص طور پہ اپنے گھر کے افراد کو شجرکاری کی اہمیت اور اس کے فوائد کی طرف متوجہ کیجیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کار خیر میں شریک ہو سکیں۔

8۔ اگر آپ خود نرسری جا کے پودا خرید کے نہیں لگا سکتے تو بے شمار انجمنیں موجود ہیں جو ہر سال شجرکاری مہم چلاتی ہیں۔ آپ ان کو کم از کم ایک پودے کی قیمت ادا کر سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کی طرف سے اس زمین کو ایک پودے کا تحفہ دے سکیں۔

9۔ ہمیں متوجہ ہونا چاہیے کہ بے شمار احادیث میں ہمیں درخت لگانے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہاں تک فرمایا کہ درخت لگانا صدقہ ہے اور صدقہ بھی ایسا جو ہمیشہ جاری رہے۔

10۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے آرٹیکلز پڑھ کے آگے نہیں بڑھ جانا بلکہ ان تمام باتوں پہ عمل کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments