کیا عمران خان پاکستانی سیاست کے ”مولا جٹ“ ہیں؟

دیکھنے والے اس کی ان حرکتوں پر عش عش کرتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ وہ مولا جٹ اور ایسے کرداروں کو ایک ایسے مسیحا کے روپ میں دیکھ رہے ہوتے ہیں جو کہ مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کا نمائندہ بن کر طاقتوروں کے خلاف برسر پیکار ہوتا ہے۔ اس لیے جتنی زیادہ بڑھکیں وہ مارتا ہے، جتنا زیادہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے، اسے اتنی ہی زیادہ داد ملتی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں اگر آپ کو ”مولا جٹ“ کے کردار کی جھلک دیکھنی ہو تو آپ کو عمران خان صاحب کی صورت وہ نظر آئے گی۔ عمران خان صاحب کی شخصیت میں یہ خصوصیات، آپ کو ان کے سیاست میں بھی آنے سے قبل نظر آئیں گی۔ جب وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ تب بھی ان کا رویہ ہر وقت جا رہا نہ رہتا تھا اور وہ ہر چیز میں اپنی من مانی کرتے تھے۔ اسی روش کو عمران خان صاحب نے سیاست میں آ کر بھی اپنائے رکھا۔
اگر ان کی اب تک کی سیاسی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ہم اس کو تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے قبل، اقتدار کے دوران اور اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ۔ اقتدار میں آنے سے قبل ان کی سیاست ہمیں احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچ کی صورت میں نظر آتی ہے۔ جس میں وہ کنٹینر پر چڑھ کر جا رہا نہ انداز میں اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ وہ میڈیا چینلز پر اپنے انٹرویوز میں بھی اسی طرزعمل کو اپنائے ہوئے نظر آتے رہے۔
جب 2018 میں وہ اقتدار میں آئے تو بہت سے سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ شاید وزیراعظم بننے کے بعد وہ اپنا جارحانہ طرز عمل ترک کر دیں گے۔ مگر توقعات کے بر عکس عمران خان صاحب نے اپنے بطور وزیراعظم، تقریباً چار سالوں میں بھی جا رہا نہ طرزعمل ہی اپنائے رکھا اور جب بھی ان کو موقع ملتا تھا وہ ”مولا جٹ“ کی طرح اپنے سیاسی مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کرتے تھے۔
پھر جب اس سال اپریل میں ان کو عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا گیا تب تو انہوں نے اپنے جارحانہ پن میں مزید اضافہ کر دیا۔ اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف چور، ڈاکو کے بیانیے میں انہوں نے ”بیرونی سازش“ ، ”غداری“ اور ”مذہب کارڈ“ کا بھی بھرپور اضافہ کر دیا۔ مگر جو چیز کئی تجزیہ کاروں کے لئے مختلف تھی، وہ عمران خان صاحب کی ریاستی اداروں، خاص طور پر عسکری اسٹبلشمنٹ پر تنقید تھی۔ کیونکہ ان کی سیاسی تربیت اور ان کو اقتدار میں لائے جانے کا سہرا بھی مبینہ طور پر کچھ ریاستی اداروں اور ان سے متعلقہ کچھ شخصیات کے سر ہی باندھا جاتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود عمران خان صاحب نے ”مولا جٹ“ کے انداز میں سپریم کورٹ کے ججز سے لے کر فوج کے جرنیلوں تک کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ اس بیانیے کے پرچار کے لئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال بھی کیا۔ ان کے اس طرزعمل پر عمومی طور پر رائے یہ پائی گئی کہ انہیں اس کا نقصان ہو گا اور پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں وہ اس کا خمیازہ بھگتتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کیونکہ پاکستانی سیاست میں ریاستی اداروں پر کھلی تنقید کا مطلب ”آ بیل مجھے مار“ کے مترادف ہوتا ہے۔
لہذا اسی لیے بہت سے سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ کاروں نے پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی بیس سیٹوں میں سے محض چار سے پانچ سیٹوں پر ہی ان کی جماعت کی کامیابی کے دعوے کیے۔ لیکن سیاست کے ”مولا جٹ“ نے بھرپور طریقے سے کی گئی انتخابی مہم کے ذریعے بیس میں سے پندرہ سیٹیں لے کر سب اندازے ایک بار پھر غلط ثابت کر دیے اور سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا۔
اس طرح سے عمران خان صاحب نے یہ باور کروا دیا کہ اگر آپ جارحانہ انداز اپنا کر ہر ایک کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ ایک پاپولر بیانیہ بنائیں، جس میں خود کو مسیحا اور ہیرو کے طور پر پیش کریں اور اپنے تمام سیاسی مخالفین اور ریاستی اداروں کو ولن کے طور پر پیش کریں تو اقتدار میں رہتے ہوئے ناقص کارکردگی کے بغیر بھی لوگ آپ کی باتوں پر یقین کریں گے اور اس کا اظہار انتخابات میں ووٹ دے کر آپ کی کامیابی کی صورت میں کریں گے۔
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کامیابی کے بعد وہ خوشی کا اظہار کرتے، اسے اطمینان بخش قرار دے کر مستقبل میں بھی اسی طرح کامیابی کا عزم کرتے۔ مگر یہاں پر بھی ان کے اندر کا مولا جٹ ہی غالب آیا۔ اور انہوں نے مجموعی طور پر شفاف اور پر امن انتخابات کے انعقاد کروانے کے باوجود بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ بلکہ یہ تک کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ہوتے ہوئے وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ شاید ان کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ ان کا یہ ”مولا جٹ“ والا انداز ایک طرف عوام میں پذیرائی حاصل کر رہا ہے تو دوسری طرف اس سے تمام ریاستی ادارے بشمول عسکری اسٹبلشمنٹ بیک فٹ پر چلے جاتے ہیں۔ لہذا آنے والے وقت میں بھی ہمیں عمران خان صاحب شاید یہی روش اور طرز عمل اپناتے ہوئے ہی نظر آئیں گے اور ہو سکتا ہے کہیں کسی موقع پر ان کی طرف سے ”مولا جٹ“ فلم کا مشہور ڈائیلاگ ”مولے نوں مولا نہ مارے، تے مولا نہیں مردا“ بھی سننے کو مل جائے۔ (مولے کو مولا نہ مارے تو مولا نہیں مرتا)
ہاں یہاں پر ایک امر قابل ذکر ضرور ہے کہ ”مولا جٹ“ کا یہ روپ شاید عمران خان صاحب کا ہی قبول کیا جاتا ہے، ورنہ اس سے قبل جن سیاسی رہنماؤں نے بھی اس کو اختیار کرنے کی کوشش کی ان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا، پھر چاہے وہ میاں نواز شریف تھے یا آصف علی زرداری۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید ابھی بھی پس پردہ کہیں ان کے لئے وہ ہمدردیاں موجود ہیں جن کی سہولت غالباً دیگر سیاسی رہنماؤں کو میسر نہیں ہے۔

