اورحان پاموک، پرخطر رستوں کا مسافر

نوبل انعام الفریڈ نوبل سے وابستہ ایک ایسا انعام ہے جو طبیعیات، طب، معاشیات، امن اور ادب کے میدان میں ان لوگوں کے دامن میں ڈالا جاتا ہے جو ایسا کارنامہ سر انجام دیں جو کہ نہ صرف لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرے بلکہ اس کام کی نوعیت اس کے متعلقہ میدان کے دیگر شہ سواروں سے الگ اہمیت بھی رکھتی ہو۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں نوبل انعام کو احمقانہ کوشش اور موت کے بوسے جیسے الفاظ سے بیان کیا جاتا رہا، مگر اکیسویں صدی کی ابتداء کے ساتھ ہی اس کی اہمیت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ اسے بین الاقوامی عزت و وقار کی علامت سمجھا جانے لگا۔
یہ انعام حاصل کرنا ہر ذی روح کے بس کی بات نہیں اس کے اصول کے لئے ایسے ان دیکھے راستوں پر محو سفر ہونا پڑتا ہے جو تاریکی میں ڈوبے ہونے کے ساتھ ساتھ خاردار جھاڑیوں سے اٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ کئی لوگ اس راہ میں محو سفر ہوئے مگر تاریکی میں اپنی ذات پر قابو نہ رکھ سکے اور حواس باختہ ہو کر کسی کھائی میں گر کر زندگی کے مقصد کو بھلا بیٹھے اور زمانے کی گرد نے انہیں فراموش کر دیا۔ مگر کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے راستے کی تاریکی میں منزل کا نشان پانے کی خاطر اپنی ذات کو شمع کی مانند جلا ڈالا اور ماتھے پر بہادری کا جھومر سجائے اپنی ذات سے پھوٹنے والی روشنی میں آگے بڑھتے رہے اور آخر کار ان کا نام بھی نوبل انعام یافتہ لوگوں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔
اگر بات کی جائے ادب کے میدان میں نوبل انعام یافتہ لوگوں پر تو ان کی فہرست خاصی طویل ہے۔ بہت سے لکھاری قلم تھام لیتے ہیں، انگلیوں کو قلم کا عادی بھی بنا لیتے ہیں، مگر عمر بھر وفا نبھانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ کئی لکھاری نوبل انعام کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں مگر طبیعت کی کاہلی اور غیر سنجیدگی، معاشی اور سماجی مجبوریوں یا رجحانات کے بدلاؤ کے ہاتھوں مجبور ہو کر رخ بدل جاتے ہیں۔ نتیجے میں زمانہ کی سفاکی کا شکار ہو کر گمنامی کی گہرائی میں گرتے چلے جاتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایک مرتبہ قلم تھام کر اس سے تاحیات وفا کا رشتہ استوار کیے رکھتے ہیں، آخر نوبل انعام یافتہ کہلاتے ہیں۔
انہیں لوگوں میں سے ایک نام اورحان پاموک کا ہے۔ لکھاری کے لیے لکھنا، لمبے عرصے تک لکھنا اور دس دس گھنٹے مسلسل لکھنا، شوق کی کڑی آزمائش ہے اور اس آزمائش سے تیس سال سے زائد عرصہ تک کامیابی سے نبرد آزما ہونا اورحان پاموک کا ہنر اور خاصہ ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2006ء میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
لکھاری معاشرے کا دماغ اور اس کا قلم معاشرے کی زبان ہوتا ہے۔ بے باک اور باہمت دماغ سے حکم وصول کرنے والی زبان وہی بولتی ہے جو دماغ سوچتا، سمجھتا اور تجزیہ کرتا ہے۔ یہی اصول اورحان پاموک پر صادق آتا ہے۔ اورحان پاموک ترکی کا پیدائشی اور ترک قومیت کا حامل ہے۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے ترکی کے متنازعہ مسائل کو اپنے ناولوں کا موضوع بناتے ہوئے ترک سفاک پن کی سچی تصویر دنیا کے سامنے رکھی، اور یہ بیان کیا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران ان کے ملک میں تیس ہزار کرد اور دس لاکھ آرمینیائی باشندوں کا قتل عام ہوا۔
لیکن کسی نے بھی اس حقیقت کو ریاستی پابندی کی وجہ سے عیاں نہ ہونے دیا۔ اس پر انہیں ریاست اور قومی اسمبلی کی توہین کے الزام میں مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر انہوں نے اپنے سفر کو جاری رکھا۔ ان کے کچھ ناول جیسا کہ My Name Is Red، White Castle، Snow اور حال ہی میں Other Colors اردو کے قالب میں ڈھالے جا چکے ہیں۔ ان کے دو ناولوں Snow اور My Name Is Red کے اردو تراجم بالترتیب ”جہاں برف رہتی ہے“ اور ”سرخ میرا نام“ میری نظر سے گزرے۔
”سرخ میرا نام“ ایک شاندار ناول ہے جس میں تاریخ، فن اور تہذیب کو اکٹھا کر کے ایک شاندار کہانی تشکیل دی گئی ہے۔ اس ناول میں جہاں تہذیبی تصادم اور دنیاوی کینوس میں آدم ذات کی اہمیت اور اس کے کردار کو تمثیلی کرداروں سے واضح کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے، وہاں پر ترکی کے اس عروج کی تصویر کشی بھی نظر آتی ہے جب وہ جمود کا شکار ہو چکا تھا۔ بنیادی طور پر اس ناول میں اہل ترک کو خبردار کرتے ہوئے اورحان پاموک نے ان حقائق سے پردہ اٹھانے کی سعی کی ہے جو سلطنت عثمانیہ کے زوال کی وجہ قرار پائے۔ فن مصوری کو جس کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے وہ اورحان پاموک کے مشاہدہ کی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
”جہاں برف رہتی ہے“ اورحان پاموک کا ایک اور بہترین ناول ہے جس کا اصل موضوع تہذیبی تصادم میں مذہب کا کردار ہے۔ اس ناول میں اورحان پاموک نے مذہب کی اختراع ”سیاسی مذہب“ کو پس منظر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ مسائل کی اصل جڑ، مذہب کی غلط تشریح اور تشہیر ہے۔ اورحان پاموک کے نوبل انعام حاصل کرنے میں اس ناول کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اورحان پاموک ایک باکمال اور حقیقی معنوں میں فنکار شخصیت کا حامل ہے، ریاستی پابندی کے باوجود متنازعہ مسائل کو دنیا کے روبرو پیش کرنا اس کا خاصہ اور اس کی بے باکی، حوصلہ مندی، اور ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جن قارئین کو قدرتی مناظر سے لگاؤ ہے اور معاشرے کے متنازعہ مسائل کے ساتھ ساتھ تہذیبی تصادم، فن مصوری، سیاسی مذہب اور ترک تاریخ کے متعلق کچھ جاننا چاہتے ہیں، انہیں ”جہاں برف رہتی ہے“ اور ”سرخ میرا نام“ ایک بار لازمی دیکھنے چاہئیں۔


