اشکوں کی پکار
”معاف کردو استاد!“ ، دوبارہ نہیں ہو گا ”۔ وہ روتے سسکتے، ہاتھ جوڑتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
ایک لحیم شحیم سا مرد اسے ایک بڑے سے ڈنڈے سے پیٹے جا رہا تھا۔
”بتا پھر کرے گا یہ؟“
”نہیں ہو گا استاد، اس باری معاف کر دو!“
بارہا معافیاں مانگنے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔
راشد اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنی سلگتی، زخمی کمر کا بوجھ اسے اس گیراج میں لادے جانے والے گاڑیوں کے بھاری پرزوں سے بھی بھاری لگا۔ اس کی کمر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ اور بھیگی آنکھیں اور ایک بوجھل دل لئے ایک کونے میں بیٹھ کر سسکنے لگا۔ قصور ہی کیا تھا اس کا۔ بس ایک گاڑی کے شیشے کے ایک حصے پہ چند لکیریں پڑ گئی تھیں۔ جو کہ اس کے مالک کو ناگوار گزریں۔
راشد سر جھکائے آنسو پینے لگا۔ ان آنسوؤں میں سوال تھے۔ کئی استفسار تھے، اور کچھ حسرتیں بھی۔ وہ سڑک پہ یونیفارم پہنے اسکول جاتے بچوں کو دیکھنے لگا۔ دل کے نہاں خانوں میں چھپی چند مزید خواہشات نے زور پکڑا۔
اپنی پیٹھ کا درد اسے مزید محسوس ہوا۔ اور اپنے حلیے اور گیراج پہ ایک نگاہ ڈال کر اس کا دل سلگ اٹھا۔
*******
شام ڈھلے جب پرندے اپنی پناہ گاہوں کی جانب محو پرواز تھے، آسمان نارنجی و ارغوانی رنگ میں رنگ رہا تھا، گلیوں اور سڑکوں پہ لگی ہوئی بڑی بڑی بتیاں روشن ہونے لگی تو بارہ سالہ راشد گھر لوٹنے کو تھا۔ اپنی افلاس کی بستی میں۔ جہاں بچے تو بہت تھے۔ مگر بچپن سے محروم تھے۔ یہاں رہنے والے تمام بچے کم و بیش راشد کے ہی جیسے کسی نہ کسی ورکشاپ یا گیراج میں کام کرتے تھے۔ جو آئے روز استاد کی مار پیٹ، گاڑیوں کے حادثوں کا بھی شکار ہو جاتے تھے۔ ان میں زیادہ تعداد ان یتیم و بے سہارا بچوں کی تھی جو کسی رشتے دار کے ہاں پناہ گزین تھے۔ حتیٰ کہ جب وہ کسی سانحہ کا شکار ہو جاتے تو شکر کا کلمہ پڑھا جاتا کہ ایک فرد کی روزی کم ہوئی۔
رستے میں گھر کو لوٹتے راشد کی نگاہ ایک بچے پہ پڑی جو اپنے باپ کا ہاتھ تھامے غبارے خریدنے کی ضد کر رہا تھا۔ اور اس بچے کا والد ہنستے ہوئے اسے انتظار کرنے کا کہنے لگا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر مسکرا اٹھا۔ مگر دل میں ایک محرومی کا احساس ہوا، وہ ان کے پاس سے سر جھکا کر گزرنے لگا تو بچے کے والد نے کچھ دس دس کے نوٹ اس کی جانب بڑھا دیے جو اس نے بلاتامل تھام لئے۔
راشد آج کی مار کا درد بھولنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے، بہانا سوچنے لگا کہ اپنے چچا کو کم اجرت کی کیا وجہ بتائے گا۔
پھر گہری سانس بھر کر۔
اپنے سخت گیر، معذور چچا کو دینے کے لئے آج کی اجرت نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تھا۔ اور چند سو کے نوٹ نکال کر چچا کے حوالے کیے جو اس نے جھپٹ کر لے لئے اور گننے لگا۔
عمر میں کم تھا۔ مگر راشد سمجھ گیا تھا کہ آج فاقہ نہیں کرنا پڑے گا۔ کچھ نہ کچھ پیٹ کی جلتی آگ بجھانے کو مل ہی جائے گا۔ وہ کھانے کا پوچھنے ہی والا تھا کہ اس کا چچا پکارا۔
”ابے او راشد، تری اجرت کم کردی ہے استاد بالے نے کیا؟“
”نہیں چاچا، آج وہ کام پہ کچھ غلطی ہو گئی تھی تو استاد نے کم اجرت دی ہے“
راشد کا چچا اٹھا اور بولا : ”تجھے اسکول سے اس لئے اٹھوایا تھا کہ تو کام میں دل نہ لگا؟“
بندے دا پتر بن جا، گھر کی روزی روٹی تیرے حوالے ہے اب، مجھ لنگڑے میں اب دم باقی نہیں رہا ”
راشد بس سر ہلاتا رہ گیا۔
”جی چاچا آئندہ خیال رکھوں گا“
بول کر سخت فرش پہ سر رکھ کر لیٹ گیا۔
چھت کو گھورتے اور خیالات میں جانے کیا کیا نقش و نگار بناتے اور نجانے کن جہانوں کا خود کو باسی تصور کر کے، دکھتی کمر پہ کراہتے، وہ کروٹیں بدلنے لگا۔
اپنی اماں کی اسی ں ے طرح یاد آئی، وہ ہوتیں تو اس کو مرہم لگا دیتی، بلکہ نہیں۔ وہ ہوتیں تو راشد اس کمر کے درد میں مبتلا ہی نہ ہوتا۔
اس نے سوچا۔
چند ایک آنسو بھی حسرت بن کر چھلک پڑے تھے۔
******
رات گزر گئی اور صبح نے سورج طلوع کر کے اہل زمیں کو دن کے آغاز کا عندیہ دیا۔ خلق خدا اپنے اپنے کاموں کی جانب گامزن ہونے لگی تھی۔
راشد بھی حسب معمول بنا کچھ کھائے پیئے جانے لگا تھا گیراج پہ۔ ملگجے سے حلیے میں، وہ پیادہ پا روانہ تھا۔ اس کا ننھا ذہن اب بھی بس یہی جانتا تھا کہ گھر کے حالات ٹھیک نہیں تھے اور وہ کام کر کے اسے ٹھیک کردے گا۔ اپنے چچا کا سہارا بنے گا، شاید کسی دن وہ اسکول بھی جا سکے گا، جیسے پہلے جاتا تھا۔ مگر باہر کا جہاں ظالم تھا، اس کے گھر کے اندر سے بھی زیادہ۔ وہ ابھی تلک نہ سمجھ سکا تھا۔ وہ تو بس روز معذور چچا کو اپنی اجرت دینا چاہتا تھا۔
راشد سڑک پار کرنے لگا تھا۔ کافی مصروف شاہراہ تھی۔ وہ جلدی میں آگے بڑھنا لگا تھا مبادا دیر نہ ہو جائے اور استاد پھر سے غصہ ہو جائے، سامنے سے آتی لاری اسے دیکھ کر بھی نہ رکی اور اسی پہ چڑھ دوڑی۔ راشد نے ایک چیخ ماری اور لاری اسی بھی تیزی سے گزر گئی۔
بارہ سالہ راشد لہو لہان زمین پہ کٹا پٹا پڑا تھا۔ سڑک اس کے سر سے بہتے خون سے سرخ ہو چکی تھی۔ اسے ایک ہجوم نے گھیر لیا۔
”ارے اٹھاؤ اسے“ ایک آواز۔
”کون ہے یہ؟“ متجسس لہجہ۔
”کوئی مزدور بچہ ہے یہاں“
اوہ اچھا، ہاں نا یہ تو۔ بالے استاد کا شاگرد ہے ”کسی نے راشد کو پہچان لیا تھا۔
طرح طرح کی آوازیں، راشد درد سے ادھ مرا ہو رہا تھا۔
ہجوم چھٹنے لگا تھا کہ اس بے جان وجود کی شناخت ہو گئی تھی، ”مزدور بچے“ کے نام سے۔
راشد تکلیف کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں ملک الموت کو سونپ چکا تھا۔
اور ایک اور بچپن، چند مزید خواب سپرد خاک ہوچکے تھے۔

