سماج کہانی حصہ 2


ٹیکسلا پہاڑوں کے درمیان گھرا ہوا شہر ہے۔ ان میں بلیک لائم سٹون جو تعمیراتی کام میں سب سے اعلی کوالٹی کا تصور کیا جاتا ہے۔ خانپور روڈ پر تین چار کلومیٹر خانپور کی طرف جائیں تو کے پی کے ( KPK ) صوبہ کی حدود شروع ہو جاتی ہے۔ دریا ہرو کی وجہ سے پانی کی فراوانی تھی جس کی وجہ سے مالٹا اور لیچی یہاں کی مشہور تھی۔ یہ دریا کا نام ہرو اصل میں سکندر اعظم کے ساتھ آنے والا جرنیل کا نام تھا جسے سکندر اعظم یہیں چھوڑ گیا تھا اسی جرنیل کے نام سے اس دریا کا نام ”ہرو“ ”Hero“ پڑا اور یہ ہرو فیملی نام آج بھی یونان میں موجود ہے۔ 1973 میں ایک انجینئرنگ یونیورسٹی اردگرد کی انڈسٹری کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی۔ انجینئرنگ یونیورسٹی سارے ملک سے سٹوڈنٹ لے کر آئی۔

سب سے پہلے ایچ ایم سی سے ریٹائر ہونے والے ملازمین جو ملک کے مختلف علاقوں سے آئے تھے تیس سال یہاں رہنے سے یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ان کے بچے یہیں پڑھے بڑے ہوئے ان کا پیچھے سے آبائی علاقوں کے لوگوں اور رسم و روایات سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ حطار میں مستحکم سیمنٹ فیکٹری بنی اور اس میں بھی سارے ملک سے لوگ کام کے لیے آئے اور تیس تیس سال یہاں رہنے کی وجہ سے یہ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے مارگلہ بلیک سٹون کو کنسٹرکشن میں استعمال کے لیے کرش مشینیں لگیں اور ان میں کام کرنے کے لیے زیادہ تر لوگ پشتون بیلٹ سے آئے۔ ان سب لوگوں نے ٹیکسلا کی معیشت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کرسچن ہسپتال جو مشنری ہسپتال تھا اور قیام پاکستان سے پہلے تعمیر کیا گیا اس نے بھی ٹیکسلا شہر کو ایک نام اور مقام دیا۔ شاید اس وقت تک پاکستان کے اس حصے میں آنکھوں کا موتیا کی بیماری کے حوالے سے یہ ایک منفرد ہسپتال تھا۔ یہ ہسپتال مسیحی برادری کو کئی علاقوں سے کھینچ کر لایا۔ یہاں تک کہ اس دور میں ختنے کے حوالے سے جان ڈینیل مشہور و معارف شخصیت تھیں۔ یہ ختنے دین ابراہیمی کی روایت ہے جو یہود، مسیحی اور مسلمانوں میں موجود ہے۔ مسلمانوں میں اس لیے کہ قرآن مجید نے رسول اللہ ﷺ کو دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع کا حکم دیا۔

پی او آف واہ کینٹ کا قیام تو لاکھوں لوگوں کو ملک کے کونے کونے سے کھینچ کر لایا اور پھر شاید ہی کوئی واپس اپنے آبائی شہر گاؤں واپس گیا ہو۔ بلکہ اس کے قیام نے تو رقبے کے لحاظ سے ٹیکسلا کو ایک محلے جتنا بنا دیا۔ واہ کے اندر سکولوں کالجوں کا جال بچھا دیا گیا جن میں زیادہ تر فیڈرل بورڈ سے منسلک تھے۔ اسی واہ کینٹ کی بدولت ٹیکسلا پورے ملک میں سب سے زیادہ تعلیمی معیار کا سمجھا جاتا ہے۔

جو نئی کالونیاں بنی ان میں جی ٹی روڈ پر وحدت کالونی اور کوہسار کالونی، ایچ ایم سی روڈ پر ماڈل ٹاؤن کالونی بنی۔ اور پی او آف واہ کے لوگوں کے لیے واہ ماڈل ٹاؤن وغیرہ۔ اسلام آباد سے نزدیک ہونے کی وجہ سے بھی بہت سے لوگ اس شہر کی طرف متوجہ ہوئے۔

2002 تک ایک تاریخی شہر ہونے کی وجہ سے بدھا تہذیب کے آثار دیکھنے کے لیے ساری دنیا سے سیاح ٹیکسلا آتے تھے۔ اکثر رات کو یہیں قیام کرتے کہ یہ اسلام آباد سے قریب بھی ہے اور اسلام آباد کی نسبت سستا بھی، دوسرے بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے یہاں رات کا قیام ایک مذہبی اہمیت بھی رکھتا تھا۔ ان میں نمایاں جاپانی سیاح ہوتے تھے۔ جنہیں کھنڈرات کی سیر کے دوران مقامی لوگ اپنے پتھر کے بنائے ہوئے بدھا کے مجسمے پرانے کہہ کر بیچتے تھے۔

ٹیکسلا میوزیم میں ایک برگد کے درخت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس کی قلم اسی درخت سے لی گئی جس کے نیچے بیٹھ کر بدھا نے دھیان گیان کیا تھا۔ متوقع آثار سے لوگوں نے افرادی طور پر کھدائی کی اور پھر وہ قیمتی خزانہ جاپان اور مغرب کی نجی آرٹ گیلریوں میں پہنچ گیا۔ بہت سے لوگ اس سے فیض یاب ہوئے لیکن یہ علاقہ قیمتی تاریخی خزانہ سے محروم ہو گیا۔

سماجی اور اخلاقی لحاظ سے سب سے پہلے جو تبدیلی نوٹ کی گئی وہ ایچ ایم سی کالونی اور واہ سے کینٹ سے تھی۔ اس وقت تک لینڈ لائن ٹیلی فون عام ہو گیا تھا اور ٹیکسلا میں ٹیلی فون ایکسچینج بھی بن چکا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب مذہبی پیشوائیت اور سکولوں کو اخلاقی تربیت پر زور دینے کی ضرورت تھی۔ لیکن اس دور میں مذہبی پیشوائیت اپنے مدارس اور خانقاہیں کھڑے کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھی اور تعلیمی ادارے کاروبار کو بڑھنے کا سوچ رہے تھے۔

حکومت تعلیم صحت کے اخراجات سے جان چھڑا رہی تھی اور افغان جنگ ہمارے پاس اسلحہ اور منشیات کی فراوانی لے کر آ رہی تھی۔ اسلحہ انجنیئرنگ یونیورسٹی تک موجود تھا اور منشیات انجنیئرنگ یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات بھی استعمال کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ چرس عام سگریٹ کی طرح نشہ بن گیا جس کے استعمال پر حیرت کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا۔ ہیروئن پینے والے گلی محلوں میں موجود تھے اور جہاز کہلاتے تھے۔ مارگلہ کی پہاڑیاں جہاں کرش مشینیں لگی ہوئی تھیں منشیات کا سٹور بن گئیں۔

اور ایک دفعہ منشیات کے سرغنہ کو پکڑا گیا تو اس کے کارندوں نے مارگلہ کی پہاڑیوں کے اوپر کھڑے ہو کر گاڑیوں کے لیے جی ٹی روڈ بند کر دیا۔ اس کے بعد شاید انتظامیہ اور ان کے درمیان خاموش معاہدہ ہو گیا۔ انتظامیہ بھی کیا کرے، پولیس کے لیے بجٹ میں رکھا کیا جاتا ہے کہ وہ نئے دور کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں، پولیس کا سپاہی سڑک پر کھڑا ہو کر کسی گاڑی موٹر سائیکل والے سے لفٹ لینے کی کوشش میں ہوتا ہے اور پولیس گاڑیوں کے لیے پیٹرول بھی یہاں وہاں سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔

موبائل کی آمد نے اخلاقی لحاظ سے سماج کے سٹرکچر میں خاص تبدیلیاں شروع کر دیں۔ اور یہ تبدیلیاں ایسی کہ ان کو کوئی مثبت رخ دینے کے لیے کسی کے پاس کوئی تیاری ہی نہیں۔ بات اخلاقی پہلو سے نکلتے نکلتے الحاد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بظاہر لوگ حرمت رسول ﷺ پر جان دینے والے، اسلامی نظام نافذ کرنے والے اور اسلام کے محافظ بہت مل جائیں گے لیکن اخلاقیات جسے عمل صالح کہا گیا وہ معاشرے سے غائب ہو گئے۔ یعنی ظاہری اعمال سے معاشرہ لبریز نظر آئے گا لیکن اندر سے کھوکھلا۔

حق تلفی، ناحق زیادتی، زنا، شرک اور خدا پر جھوٹ باندھنا جنہیں قرآن نے کھانے پینے کے علاوہ حرام کی فہرست میں گنوایا ہے یہ افراد کے لیے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتیں۔ اور نہ ان کے بارے میں جمعہ کے ممبر پر کبھی سنجیدگی سے بات کی گئی اور نہ ہی کبھی سکولوں میں ان کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا۔ سوسائٹی کا اگلا سٹیج کیا ہو گا اس سے سارے خوف زدہ تو ہیں لیکن مشکل حل کے لیے نہ کسی کے پاس تیاری ہے اور نہ ہی یہ مشکل کام کوئی کرنا چاہتا ہے۔ کہ خود کی اخلاقی تربیت کرنا پھر اپنی اگلی نسل کو اس کے لیے تیار کرنا۔ یہ ایک صبر آزما کام ہے لیکن اس کے سوا کوئی حل نہیں۔

Latest posts by شاکر ظہیر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments