کراچی میں بارش: ’آسمان دیکھو تو دل جھوم جائے، روڈ دیکھو تو دماغ گھوم جائے‘
سندھ حکومت نے حیدرآباد اور کراچی میں شدید بارشوں کے پیشِ نظر پیر کو عام تعطیل کا اعلان بھی کر دیا ہے جبکہ شہر کی واحد میٹرو بس سروس گرین لائن بھی پیر کو معطل رہے گی۔
کراچی میں اب گذشتہ کئی برس سے مون سون کے دوران شہر میں سیلابی صورتحال کا پیدا ہونا معمول بن چکا ہے اور رواں سال بھی ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں پیر کو بھی بارشیں جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ جولائی کے آخر میں مون سون کا ایک اور سپیل کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
https://twitter.com/sarfarazmet/status/1551325011192987655
حالیہ بارشوں کے پیش نظر کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی، اس سے ملحقہ کالجوں ،تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینیرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام نے پیر کے لیے طے شدہ امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔
اتوار کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت، کمشنر کراچی محمد اقبال میمن اور صوبائی وزراء کے ساتھ بارش کے دوران شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی آب کے کاموں کی نگرانی کی۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ صدر کے علاقوں میں 150 ملی میٹر تک بارش ہو چکی ہے جس کے باعث مشکلات درپیش ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شہر کی کئی سڑکوں کا دورہ کرتے نظر آئے۔
اُنھوں نے جہاں اپنی ٹویٹس میں یہ بتایا کہ کئی سڑکیں کلیئر ہیں تو کئی نالوں کی ویڈیوز بھی شیئر کر کے لوگوں کو یہ دیکھنے کی دعوت دیتے رہے کہ سڑکوں سے نالوں میں پانی کتنی تیزی سے جا رہا ہے۔
https://twitter.com/murtazawahab1/status/1551265904004108288
کراچی میں بارش کے بعد سڑکوں اور گلیوں کا پانی سے بھر جانے کی وجہ کئی ماہرین صدیوں سے قائم قدرتی نالوں پر تجاوزات کے قیام کو بتاتے ہیں جس کی وجہ سے پانی کو فوری طور پر سمندر میں جانے کا راستہ نہیں مل پاتا۔
گذشتہ چند برسوں میں حکومت کی جانب سے ہر کچھ عرصے بعد نالوں کی صفائی اور ان پر سے تجاوزات کے خاتمے کی نوید سنائی جاتی ہے مگر ہر بارش میں سڑکوں کی حالت میں کسی پچھلی بارش کے مقابلے میں کوئی زیادہ تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیے
`آپ کراچی میں ہیں تو گھر سے باہر نہ جائیں‘
کراچی میں بارشیں: سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے والا نوجوان
مون سون پاکستان میں داخل: معمول سے زیادہ بارشیں کیوں متوقع ہیں؟
’حکومتی اہلکار کراچی میں گھومتے رہے مگر انھیں چلو بھر پانی نہیں ملا‘
سوشل میڈیا پر کراچی کی سڑکوں کی کئی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی جاتی رہی جس میں عوام پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ واضح رہے کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا تعلق بھی پی پی پی سے ہی ہے۔
ٹوئٹر پر جاری ویڈیوز میں لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں کی ویڈیوز پوسٹ کر کے بظاہر نکاسی آب کے حکومتی دعووں کی نفی کی اور کچھ لوگوں نے اس مشکل وقت میں بھی مزاح کا پہلو نکال ہی لیا۔
شاہد علی نے کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک طارق روڈ کی ویڈیو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کی جس میں سڑک پر پانی جمع دیکھا جا سکتا ہے۔
https://twitter.com/ShahidAliTweet/status/1551237745204510723
فیصل رحمان نامی صارف نے کراچی کے ایک تھانے کی ویڈیو پوسٹ کی جس میں اسلحہ بردار پولیس اہلکار کمر تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے لکھا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، مرتضیٰ وہاب، وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے بارشوں کے دوران فوٹو شوٹ کروانے کا کیا مقصد، یہ کام تو بارش سے پہلے ہونا چاہیے نہ کہ بارش کے دوران۔
https://twitter.com/journorehman/status/1551247388450357251
رات کو تین بجے کے قریب کراچی کے ضلع ملیر، وسطی اور جنوبی سمیت کئی علاقوں میں ایک اور مرتبہ تیز بارش شروع ہو گئی اور ٹوئٹر پر کئی صارفین نے لکھا کہ وہ اب خوف کے شکار ہیں۔
صحافی فرح ناز زاہدی نے لکھا کہ کراچی سے آج رات خوف محسوس ہو رہا ہے۔
https://twitter.com/FarahnazZahidi/status/1551330692759293952
https://twitter.com/MuhammadAteeb4/status/1551338520362586120
اریحہ فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ کراچی والوں کی ادھوری خواہش ہے کہ وہ کبھی فکر کے بغیر بھی بارش کا مزہ لیں۔ اُنھوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ کراچی کے ممکنہ طور پر سب سے مہنگے رہائشی علاقے ڈی ایچ اے میں اُن کے رشتے داروں کو اپنا گھر خالی کرنا پڑا کیونکہ کچھ ہی گھنٹوں کی بارش کے بعد اُن کے گھر میں پانی آ گیا اور بجلی کی تاروں تک پہنچنے لگا۔
https://twitter.com/arihafatimah/status/1551339694247534598
احسن نواب نامی صارف نے لکھا کہ اس بارش میں کراچی کی اصل شکل نکل آئی ہے اور اب یہ شہر مزید بارش برداشت نہیں کر سکتا۔
https://twitter.com/TheAhsanNawab/status/1551340424912113665
اور ایک ٹوئٹر صارف نے اس ساری صورتحال کا خلاصہ کچھ یوں پیش کیا کہ آسمان دیکھو تو دل جھوم جائے، روڈ دیکھو تو دماغ گھوم جائے۔
https://twitter.com/yas7619/status/1551320814850433024

