پاکستان کے نظام سیاست کو بدلنا ہو گا


 آج پنجاب اسمبلی میں کیا ہوا ہے یہ آنے والے وقتوں میں تباہی کی گھنٹی ہے۔ کیسی جمہوریت ہے 186 ووٹ حاصل کرنے والا ہار گیا اور 179 ووٹ حاصل کرنے والا جیت گیا۔ چوہدری شجاعت نے تو اپنا ضمیر بیچتے ہوئے اپنی پارٹی اور سیاست کا سیاسی قتل کر ڈالا۔ نوٹوں کی چمک نے فوری فیصلہ تبدیل کروا دیا یقیناً ریٹ زیادہ لگا ہے اس خط کا نوٹوں کی چمک نے بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا پرویز الہی اور ان کے ساتھیوں نے ساتھ نہیں چھوڑا انہوں نے مرد مجاہد کی سیاست کی آج پاکستان تحریک انصاف کو عوام کی طرف سے ایک اور ٹاسک ملا ہے آہستہ آہستہ اسی طرح یہ سیاسی پارٹیاں اپنا یوں ہی سیاسی قتل عام کریں گیں۔

اور پھر ایک جماعت تحریک انصاف ہی رہ جائے گی جو عوامی ترجمانی کی جماعت ہوگی۔ پنجاب اسمبلی میں جو آج سارا ڈرامہ کیا گیا ہے سب کچھ پہلے سے طے تھا۔ پی ڈی ایم اے اگر اچھی جماعت ہوتی تو ضمنی الیکشن میں 20 حلقوں میں برتری سے جیت ہوتی۔ عمران خان اور ان کی ٹیم نے ملک بچانے کی پوری کوشش کی ہے لیکن یہ کوشش کامیاب ضرور ہوگی۔ جب انسان اپنے لئے اپنی خواہشات کے تناظر میں نیا گھر بناتا ہے تو اسے پہلے گھر کو توڑنا پڑتا ہے ایک ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے یہاں تک کہ نئے گھر کے لئے بنیادوں کو بھی نئے سرے سے بنانا پڑتا ہے تب جاکر ایک مضبوط گھر بنتا ہے۔

ٹھیک اسی طرح ملک پاکستان کی بنیادوں میں بھی پانی پڑ چکا ہے اور ملک دن بدن گرتا جا رہا ہے اب اس کی مرمت کے لئے دوبارہ سے اس کی بنیادوں کو مضبوط کر کے اسے پھر سے کھڑا کرنا ہو گا۔ اس ملک کو کھڑا کرنے کے لئے حوصلہ والے لوگ چاہیں جو ایماندار، فرض شناس، نڈر، مستقل مزاج اور حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں جن کو پیسے کی ہوس نہ ہو جن کے اکاؤنٹ اور جائیدادیں اس ملک میں ہوں اور جو اپنا اور دوسرے کا احتساب کرنا جانتا ہوں جو غلط کو غلط اور جھوٹ کو جھوٹ کہیں، جو ملاوٹ نہ کرتے ہوں، جو لوٹ مار نہ کرتے ہوں، جو قومی خزانے کی رقم کو اپنے گھر کی رقم سمجھتے ہوں ایسے افراد کی ضرورت ہے۔ تب جاکر ملک مضبوط ہو گا۔ مہنگائی نے عوام۔ کی چیخیں نکال دی ہیں۔ بجلی، گیس، پیٹرول، ڈیزل، گوشت اور اشیاء خرد و نوش عامر شہری کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ اگر ملک کا یہ ہی حال رہا تو لوگ یہاں سے ہجرت کرنا شروع کر دیں گے۔ حالات سے تنگ لوگ عدم برداشت، پریشانی، ذہنی دباؤ، چڑچڑا پن کا شکار ہو گئے ہیں۔ اب ملک میں حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پانچ سالوں میں دو بار پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی کو منتخب کرنے کا الیکشن ہو چکا ہے لیکن عام آدمی کے حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں۔

لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی نشستوں کی سرعام خریدوفروخت ہارس ٹریڈنگ نے حکومت سے عام شہری کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔ شاید وہ مثال بہتر سمجھی جائے ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ آج لاٹھی بھی تو پی ڈی ایم اے کے پاس ہے خوب لاٹھیاں کما کر تھوڑی سی لاٹھیاں بانٹ دینا سمجھداری کی بات ہے جہاں ایک اور مثال یاد آتی ہے کہ ”دھن سارا جاتا دیکھے تو ادھا دیجئے بانٹ“ جس سے کم از کم آدھا دھن تو بچ جائے۔ اگر آج پاکستان تحریک انصاف جیت جاتی تو کچھ لوگوں کا سارا دھن چلا جانا تھا کیونکہ ان کو بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ان کی کرپشن واضح ہو جانی ہے۔ بجلی کے بل دیکھ کر تو اب شہری عدالت کا رخ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اب وہ حق بھی چھن چکا ہے۔ لیکن ملک میں موروثی سیاست کے خاتمہ اور ایک ہی خاندان کی حکومت کو عوام اب ختم کرنا چاہتی ہے لیکن اب ان لوگوں کے پاس پیسہ ہی اتنا ہے کہ اس مافیا کو ختم کرتے کرتے بھی شاید وقت لگے۔ حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب عام شہری بدلے گا خود فیصلے کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے اس ملک کا ۔

Facebook Comments HS