شہاب نامہ اور شہاب بیتی سے لوحِ ایام تک

مختار مسعود پاکستان کے ایک اعلی ترین سفارتکار تھے جو امام خمینی کی قیادت میں بپا کردہ انقلاب ایران کے وقت ایران میں سینئر سفیر تعینات تھے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی ”لوح ایام“ ۔ ان کی اس کتاب میں انقلاب ایران اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی سیاستدانوں اور ملک کے حالات کا جو احوال اور تجزیہ درج ہے وہ یقیناً بصیرت افروز ہے۔
خان عبدالغفار باچا خان، خان عبدالولی خان، مختار مسعود اور شہاب الدین رحمت اللہ کی آپ بیتیاں پڑھ کر پاکستان کے موجودہ حالات کا تجزیہ انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔ شہاب الدین رحمت اللہ نے اپنی آپ بیتی میں خان عبدالولی خان کی کتاب ”حقائق حقائق ہیں“ میں بیان کیے گئے دعووں میں سے اکثر کی نفی و تردید کی ہے مگر یہ تردید بغیر کسی حوالے کے بس لفظوں کے سہارے کی گئی ہے۔
مختار مسعود کی کتاب میں بیشک انقلاب ایران اور پاکستان کا ملکی اور پاکستانی سیاستدانوں کا شخصی تجزیہ سو فیصد درست نہ ہو مگر یہ تو طے ہے کہ انہوں نے ضرور کچھ نہ کچھ ایسا دیکھا ہو گا جس کی بنا پر وہ اتنا کچھ لکھنے پر مجبور ہوئے۔ انقلاب ایران کے حوالے سے انہوں نے جو احتیاط اختیار کر کے قلم چلایا ہے وہی احتیاط پاکستان کے ملکی و شخصی حالات پر بھی اختیار کی ہے۔
شہاب الدین رحمت اللہ کی کتاب ”شہاب بیتی“ پڑھنا شروع کی ہے، کتاب ابھی زیر مطالعہ ہے مگر ہر صفحے پر ایک نیا چونکا دینے والا واقعہ درج ہوتا ہے جو نہ صرف چونکا دیتا ہے بلکہ بعض اوقات دماغ کو جھنجھنا بھی دیتا ہے۔ وضاحت کرتا چلوں کہ یہ قدرت اللہ شہاب کے کچھ نہیں لگتے، ایسا نہ ہو کہ ناموں کی مناسبت سے کوئی ان کو بھائی سمجھ بیٹھے۔
یہ شہاب الدین رحمت اللہ برطانوی زیر تسلط ہندوستان میں کل ہندوستان سول سروس کا امتحان دے کر کامیاب ہونے والے چھ امیدواروں میں سے پانچویں نمبر پر آئے اور سول سروس جوائن کر لی۔ برطانیہ کے زیر تسلط ہندوستان میں موجودہ انڈیا میں اہم عہدوں پر براجمان رہے اور تقسیم کے بعد پاکستان آپٹ کر آئے۔ پاکستان میں آپٹ کرنے والے اولین آئی سی ایس افسر و بیوروکریٹ تھے۔ پاکستان میں مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں بہت ہی اہم عہدوں پر متمکن رہے۔
انہوں نے قلم کا آزادانہ استعمال کیا ہے اور ایسے ایسے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن کو جاننا پاکستان کے موجودہ حالات کے تجزیے کے لیے انتہائی لازم ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر سقوط ڈھاکہ تک انہوں نے جو کچھ حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور جس طرح اشخاص کو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے دیکھا، سب کچھ بلا کم و کاست اپنی کتاب میں درج کر دیا۔ ان کا انداز تحریر، الفاظ کا چناؤ اور جملوں کی بناوٹ شدید سخت قسم کی ہے۔
شہاب الدین رحمت اللہ نے ”شہاب بیتی“ قدرت اللہ شہاب کی کتاب ”شہاب نامہ“ کے جواب میں لکھی تھی۔ جس وقت انہوں نے یہ کتاب لکھنا شروع کی اس وقت ان پر ضعف طاری تھا مگر انہوں نے عوام کو حقیقت اور خواص کو آئینہ دکھانے کے لیے دن رات ضعف و علالت کے باوجود کام جاری رکھا۔ وہ اپنی اس کتاب کو چھپتا تو نہیں دیکھ سکے مگر وہ جو کچھ اس کتاب میں چھوڑ گئے ہیں یقیناً اس سے سبق سیکھا جا سکتا ہے اور جانا جا سکتا ہے کہ حمام میں سب ننگے کیوں، کس وقت اور کس لیے ہو جاتے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں جس طرح سے خود کو اور اپنے جیسے باقی ساتھیوں کو فرشتہ بہشت ثابت کیا ہے، شہاب الدین رحمت اللہ نے اسی طرح قدرت اللہ شہاب سمیت ان کے تمام ساتھیوں کی اندرونی کہانیاں لکھی ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کی کہانیوں کا یکسر متضاد شہاب الدین رحمت اللہ نے بیان کیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کتاب میں بھی مبالغے موجود ہوں مگر ان مغالطوں یا مبالغوں کو نکال کر جو تھوڑا سا سچ بچتا ہے وہی بہت بھیانک ہے اور خوفزدہ و غمزدہ کر دینے کے لیے کافی ہے۔
شہاب الدین رحمت اللہ نے اپنی کتاب کے اولین صفحات میں قدرت اللہ شہاب کی جانب سے ادیبوں کی ایک تنظیم قائم کرنے کا ذکر کیا ہے جس کا کام ایوب خان کے حق میں افسانے، کہانیاں تخلیق کر کے رائے عامہ کو ہموار کرنا تھا۔ اس دور میں اور موجودہ دور میں بس فرق اتنا آن پڑا ہے کہ اس وقت من گھڑت، جھوٹے قصے لکھ کر اہل اقتدار کے بارے میں رائے عامہ ہموار کی جاتی تھی، عوام کو صبر کا درس اور جنت کی بشارت دی جاتی تھی اور آج کل کروڑ سوا کروڑ میں ایک گانا بنا کر خود ہی اس معاملے میں خود کفیل ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ کتا اس وقت بھی کنویں میں پڑا تھا اور آج بھی کنویں میں ہی پڑا ہے۔
جناب اس حمام میں سب ننگے ہیں، اس کتاب نے سب ننگوں کی قبروں کو بھی ننگا کر دیا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے پس پردہ اسباب و عوامل، مہاجرین سے نفرت اور اس نفرت کا باقاعدہ پراپیگنڈہ، ضرورت کے وقت ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا، اقتدار و طاقت کے حصول کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جانا، پر خلوص و ایماندار سول سروس افسران اور سیاستدانوں کے خلاف بدنامی کی باقاعدہ منظم مہمات چلائے جانا، ان سول سروس افسران اور سیاستدانوں سمیت نامور سماجی رہنماؤں کو منظر عام اور کار عمل سے ہٹا دینا الغرض اس کتاب میں ایسا وسیع مواد ہے جو تاریخ کے بند دریچوں کو کھولنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ وہ لوگ جن کو ہم آج قومی ہیرو سمجھتے ہیں، اس کتاب میں ان پر سے تقدس کا لبادہ بڑی دیدہ دلیری اور سفاکیت سے نوچا گیا ہے۔
رحمت اللہ شہاب لکھتے ہیں :
قائد اعظم ایک با اصول اور بہادر انسان تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ایک آئی سی ایس افسر نے، کانگریس کے مجوزہ تقسیم پلان کی ایک حساس دستاویز چوری کر لی اور قائد کو دکھائی۔ قائد نے دستاویز دیکھ کر فوراً ہی ناخوشگوار رد عمل دیا اور کہا ”بری بات ینگ مین۔ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔“ موصوف سمجھ رہے تھے کہ قائد ان کو شاباشی کے ساتھ ساتھ کوئی بڑا انعام بھی دیں گے مگر قائد نے ان کے سارے خواب ملیا میٹ کر دیے۔
موصوف اس وقت سے قائد کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ اور وہ ہستی قدرت اللہ شہاب تھے۔ جنہوں نے بعد میں ایوب خان کے بارے میں اتنی رطب اللسانی سے کام لیا کہ شہاب الدین رحمت اللہ کے مطابق سول سروس میں حالات سے واقفیت رکھنے والے کچھ لوگ انہیں ریاست پاکستان کا نہیں بلکہ ایوب خان کا ذاتی ملازم قرار دیتے تھے۔
ایک اور واقعہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک بار ان کی موجودگی میں قائد نے کسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ تو یقین تھا کہ پاکستان کا قیام ممکن ہے مگر اتنا جلدی اور میری زندگی میں ہی ہو گا یہ معلوم نہیں تھا۔ زیادہ تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی، خود ہی کتاب پڑھیں اور اس جملے کے پس پردہ محرکات کا کھوج لگائیں۔
شہاب الدین رحمت اللہ اپنی آپ بیتی میں یہ تذکرہ بار بار کرتے ہیں کہ عوام کو روز اول سے ہی حقائق اور حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ شروع سے ہی افسر شاہی کی جانب سے یہ روش اپنائی گئی ہے کہ عوام کو رعایا یا غلام کی سی حیثیت میں زندہ رکھا جائے اور زیادہ سے زیادہ وسائل و اختیارات پر افسر شاہی کا غلبہ قائم رہے۔ بیان فرماتے ہیں کہ اول دن سے ہی افسر شاہی نے چوری چھپے یہی پلان ترتیب دیا تھا اور اس پر اب تک عمل جاری ہے۔ یاد رہے کہ ان کی کتاب انیس سو چھیاسی میں چھپی تھی اور اس وقت تک وہ ملک عدم سدھار چکے تھے۔
تو شہاب بیتی پڑھیے، لوح ایام پڑھیے یا قدرت اللہ شہابیوں کے بقول فیلڈ مارشل ایوب خان کی آپ بیتی پڑھیے۔ حالات جوں کے توں ہیں، وہیں کے وہیں ہیں جو پہلے روز تھے۔ حالانکہ ایوب خان نے اپنی آپ بیتی میں خود کو نیک دل، پارسا حکمران اور فرشتہ بے بدل ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر مسائل وہی کے وہی ہیں اور حالات وہیں کے وہیں ہیں۔ ہم ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے۔

