کیا آپ جشن آزادی منانے کے حقدار ہیں؟
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ 14 اگست کی آمد آمد ہے اور ہر طرف خوشی کا سماں ہے۔ لوگ ملک پاکستان سے محبت کے اظہار کے لیے سبز ہلالی پرچم خرید رہے ہیں۔
مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آپ بھی میری طرح اس پیارے ملک سے بے حد محبت کرتے ہیں لیکن میں یہ چاہتی ہوں کہ ہم لوگ اس ملک سے صرف محبت ہی نہ کریں بلکہ اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے دن رات ایک کر دیں۔ اس ملک کو حاصل کرنے کے مقصد کو پورا کریں۔ مگر افسوس 14 اگست میں پورے ملک میں چھوٹی نافذ ہو جائے گی اور صرف بارڈر میں رقص کی تقریبیں دکھائی جائیں گی۔
اصل میں یہ ملک ہمیں حلوے کی طرح پلیٹ میں نہیں ملا اسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ بزرگوں کی سنائی ہوئی باتیں آج بھی میرے ذہن میں ہتھوڑے کی طرح ٹکرا رہیں ہیں۔ ان سے باتیں سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ مجھے اور میری قوم کو ایسی آزمائش میں کبھی نہ ڈالنا جس طرح کی پریشانیوں کا سامنا میرے بزرگوں کو پاکستان بناتے وقت کرنا پڑا۔ ذرا سوچئے کیسا منظر تھا وہ، جب مسلمان اپنے مال و دولت اپنے پیاروں اور زمین و زر کی پروا کیے بغیر صرف پاکستان کی محبت میں ہجرت کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ لوگوں نے اپنی پوری زندگی کی محنت سے بنائے ہوئے گھر چھوڑ کر جہاں ان کے بچوں کی بچپن کی یادیں اپنے پیاروں کی بچھڑنے کا غم تھا مگر پاکستان آنا پسند کیا تھا۔ اور کتنا دردناک تھا وہ منظر جب ہندو اور سکھ مل کر مسلمانوں کے سر قلم اور بچوں کو ذبح کر رہے تھے اور حتی کہ عورتوں کی عزتوں سے کھیل رہے تھے اور مسلمان اپنے کٹے پھٹے جسموں سے پاکستان کی طرف بڑھ رہے تھے۔
میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ لازوال محبت کس لیے تھی؟ صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے یا اسلام کے نفاذ کے لیے؟ یہ ملک برابری مساوات اور بھائی چارے کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ملک اسلام کے نام پر اور قرآن کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ لیکن افسوس آج سب کچھ اس کے بر عکس ہو رہا ہے۔ لوگوں کی عزتیں محفوظ نہیں، غریب کو انصاف نہیں ملتا، سودی نظام رائج ہے اور کفار کے وفادار ملک پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ تو میں کہنے پر مجبور ہوں کہ یوم آزادی منانے کا فائدہ کیا ہے اور ہم کیا حق رکھتے ہیں کہ یوم آزادی منائیں؟ کیا ہم یوم آزادی اس لیے منا رہے ہیں کہ ہم کرپٹ حکمرانوں کے غلام ہیں یا اس لیے کہ جس مقصد کے لیے ملک حاصل کیا تھا آج تک صحیح معنوں میں پورا نہیں ہوا؟
ایک وقت تھا سکولوں میں استاد بچوں کو اس طرح پڑھاتے اور تربیت کرتے جیسے خدانخواستہ بچوں کے کم نمبر لینے یا فیل ہونے پر شرمندگی کی وجہ سے وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے مگر پھر سکولوں میں پڑھائی کا رجحان ختم، ٹیوشنز اور کمرشل ازم کا دور شروع ہو گیا۔
چنانچہ ایسے سکولوں، اساتذہ اور پرائیویٹ سکول مالکان کو جشن آزادی مبارک! مدرسوں میں دینی تعلیم اس طرح دی جاتی کہ طلباء نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے جبکہ اپنی زندگی بھی اسی انداز میں گزارتے۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا انداز گفتگو اور زندگی گزارنے کا طریقہ دیکھ کر ہر کوئی نہ صرف متاثر ہوتا جبکہ اسی انداز کو اپنانا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی مدارس اس قدر رسوا اور بدنام ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کا کوئی اندازہ نہیں۔
مفتیان کی حرکات و سکنات دیکھ کر شرم آتی ہے ایسے تمام لوگوں کو جشن آزادی مبارک! مساجد نہ صرف نمازوں کے لیے کھلی رہتیں جبکہ یہاں مذہب کے ساتھ ساتھ ادبی اور سماجی محافل بھی منعقد ہوتیں۔ مہذب گھرانے اپنے بچوں کے نکاح بھی یہاں کرواتے۔ اب مساجد صرف نماز کے اوقات کے لیے کھلتی ہیں۔ دیگر اوقات میں تالا لگا ہوتا ہے۔ صرف یہی نہیں واٹر کولر کے ساتھ گلاس کو ایک زنجیر سے باندھا جاتا ہے اور پانی کی ”ٹوٹیوں“ پر بھی حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں۔
مساجد کے ماحول کو یہاں تک پہنچانے والوں کو بھی جشن آزادی مبارک! کسی بھی دینی مسئلہ پر رائے طلب کرنے اگر دس مختلف مساجد میں جائیں تو سب کی رائے مختلف ہوگی۔ حتیٰ کہ گھومتے پھرتے آپ سعودی عرب اور ملائشیا چلے جائیں تو وہ جواب ملے گا جو یورپین دانش دیتے ہیں۔ ایسے سب قابل عزت عالموں کو جشن آزادی مبارک! اسلام اور شریعت محمدی ﷺ جس اچھے اخلاق کا درس دیتی ہے، حکم ملا، کم مت تولو، ملاوٹ مت کرو۔ جھوٹ بول کر سودا مت بیچو، دوسروں کے ساتھ، خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔
پاکستان حاصل کرنے کی وجہ کیا تھی کیوں اتنی جدوجہد کی گئی کیوں اتنے قربانیاں دی گئی کیا کبھی ہمیں یہ پڑھایا یہ سکھایا گیا یا کبھی ہم نے مصروفیات سے ہٹ کر سوچا؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو کبھی بتایا؟ کبھی نہیں۔
بلکہ اس دن سارے اداروں کی چھٹیاں ہوتی ہیں اور سب باہر رقص اور دھوم مچا رہے ہوتے ہیں کیا پاکستان کی آزادی کوئی شادی کا۔ پروگرام ہے جو رقص کیے جاتے ہیں؟ اگر اس سب کے باوجود بھی آپ کی ذہن میں یہ سوچ آتی ہے کے آپ آزادی ماننے کے حقدار ہیں تو
جشن آزادی مبارک۔

