خدارا پاکستان پر رحم کریں
خدارا پاکستان پر رحم کریں، اب تو رحم کر لیں، کچھ تو عقل کے ناخن لیں، کوئی ایک ادارہ تو اس ملک و قوم کے ساتھ وفا کرے، ایک لمبے عرصے کے بعد کچھ لکھنے کی جسارت بھی اسی وجہ سے کر رہی ہوں کہ اب مجھ سے ٹیلی ویژن پر یہ سیاسی ڈرامے دیکھ کر رہا نہیں جاتا، کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ ٹیلی ویژن لگایا ہو اور کوئی عوامی خبر آ رہی ہو، جیسے ہم عوام کے سب مسائل حل ہو جائیں گے اگر پاکستان تحریک انصاف کو دوبارہ حکومت مل گئی، اگر شہباز شریف وزارت عظمی کی گدی پر تخت نشین رہے، اگر حمزہ شہباز پنجاب کے وزیر اعلی رہ گئے، اگر مریم نواز نے ایک اور پریس کانفرنس کردی، اگر فواد چوہدری نے موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بات کردی۔
یعنی ہماری زندگیوں کے مسائل انہی لوگوں کی انہی باتوں سے حل ہونے ہیں تو ٹھیک ہے، پھر ہمارے ساتھ ٹھیک ہو رہا ہے، عوام کو ایک طرف رکھ دیں، کھیلتے رہیں سیاست سیاست۔ اس ملک میں یہی تو رہ گیا ہے، ہمارا کھانا نہ ہضم ہو اگر ہم یہ نہ دیکھیں اور سنیں۔ خدا کا نام مانیں، اب تو کچھ ڈر لیں۔ ارے آ جائیں گے واپس میاں نواز شریف، نہ بھی آئے تب بھی مجھے اور مجھ جیسے مڈل کلاس لوگوں کو نوکری پر جانا ہی ہے، کرپشن کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے نہ تھا نہ ہو گا، ہم نے کمانا ہے اور کھانا ہے، ہمارے بچوں کے اخراجات بھی اسی وقت پورے ہوں گے جب ہم گھروں سے باہر نکلیں گے۔ اور کیا ہم اور آپ نہیں جانتے کہ پاکستان 7 دہائیوں سے نازک دور سے گزر رہا ہے؟
اب کچھ تو کر لیں، آپ نے سیاست کرنا ہے کریں، خوشی سے کریں، لیکن یہ ملک رہے گا تو سیاست بھی کریں گے، ورنہ آپ لندن میں عام بسوں پر ہی سفر کرتے ہیں، یہی ملک ہے جو آپ کو وی آئی پی کے مزے دیتا ہے۔
ملک بھر میں بادلوں کا راج ہے، مون سون اپنے عروج پر ہے، بادل برس رہے ہیں اور برستے چلے جا رہے ہیں، جیسے ہمیں رب کائنات کا پیغام دے رہے ہوں، کہ اٹھو اور پانی محفوظ کرنے کے لیے کچھ کرلو، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، کس حد تک ہم پانی ضائع کر رہے ہیں، ہم لوگ پتلی تماشا دیکھ رہے ہیں، جن لوگوں کو ہم ووٹ دیتے ہیں، امیدیں لگاتے ہیں، وہ لوگ بعد میں ہمارے مسائل کی طرف دیکھنا تو دور اس جگہ سے گزرنا گوارا نہیں کرتے، انہیں کیا معلوم کہ بارش سے کس حد تک صورتحال خراب ہوتی ہے، گھروں کی چھتیں ٹپکنا ایک عام بات ہے، لیکن کیا یہ سیاست دان، یہ ہماری قسمت کا فیصلہ کرنے والے جانتے ہیں کہ جس تکلیف سے عوام گزر رہے ہیں، کیا انہیں خبر بھی ہے کہ بلوچستان کے دور دراز سے آئے علاج کے لیے کئی خاندانوں کی طرح ایک خاندان جناح ہسپتال کے باہر موجود ہے جو چھوٹے بچوں کے ہمراہ اس طوفانی بارش میں بھیگنے پر مجبور ہے، کیونکہ گجر کا سربراہ ہسپتال میں داخل ہے، خدا جانے اس کا حال کیا ہو گا۔
کیا یہ سیاست دان، یہ عدلیہ یہ میڈیا سب جانتے ہیں کہ جن راستوں سے ہو کہ میں اور آپ روزانہ گزرتے ہیں، اپنے روز مرہ کے کام کرتے ہیں ان راستوں پر کس حد تک گڑھے پڑھ گئے ہیں کہ وہاں سے گزرنا کسی اذیت سے کم نہیں۔ کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ گھر کے باہر پانی جمع ہو جائے یا سیوریج کا پانی اگر پانی کی ٹینکی میں مل جائے تو اس کی صفائی کس حد تک مشکل کام ہے، کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ بارش میں 40 ہزار ماہانہ کمانے والے انسان کی اگر چھوٹی گاڑی خراب ہو جائے تو اس کی سروس پر کتنا خرچہ آتا ہے، کیا یہ سیاست دان جانتے ہیں کہ نالے کا پانی جب سڑکوں پر تیرتا ہے تو ساتھ کتنی ہی بیماریاں اس کے ساتھ تیرتی ہیں؟
یہ سب میرے مسائل ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ سب آپ کے بھی مسائل ہوں گے ، لیکن صبح سے ٹیلیویژن پر میں ایک خبر کا انتظار کر رہی ہوں جس میں بتایا جائے کہ عوام کس حد تک مشکل مین ہے، الٹا وزیر اعلی سندھ ڈیفنس کلفٹن کی سڑکیں ناپ رہے ہیں، کسی نے گولیمار کے اندرون علاقوں کا رخ کیا، کسی نے قائد آباد کی گلیوں کا رخ کیس جہاں میرے اور آپ جیسے کتنے لوگ رہتے ہیں، چلیں کراچی چھوڑیں، راولپنڈی راجہ بازار کو دیکھ لیں، وہاں کروڑوں کا نقصان ہو گیا، پورا بازار پانی میں ڈوب گیا، کوئی داد رسی؟ کوئی ہمدردی کے دو بول؟ نہیں؟
چلیں اب سب سے اہم خبر کی طرف آتے ہیں۔ جس سے ہماری زندگی میں روشنی لوٹ آئے گی، سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کے درخواست مسترد کردی ہے۔ مزہ نہیں آیا۔ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے والا ہے۔ یہ بھی نہیں۔ تو سستے مسخرے بھی صبح سے رات تک ٹیلیویژن پر ڈیرہ جمائے نظر آتے ہیں۔ نہیں آتا تو کوئی عوام کے مسئلے اجاگر کرنے نہیں آتا، ہمیں صحت نہیں چاہیے، سیاست چاہیے، تعلیم نہیں چاہیے، سیاست چاہیے۔



بہت صحیح کہا آپ نے۔۔۔۔۔ یہاں کوئ ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جو عوام کے مسائل کے حل کے بارے میں سوچے کیونکہ ان کے پاس وقت ہی نہیں، بس عوام ہی فارغ التحصیل ہے جو ان کی سیاست دیکھنے میں مگن ہے۔