غم میں شکرگزاری


جب کوئی اپنا چھوڑ جائے تو بہت تکلیف ہوتی ہے، نیند روٹھ جاتی ہے، اداسی چھا جاتی ہے، بھوک اپنا احساس کھو دیتی ہے، اور پرانے غم بھی تازہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی خوشی کی خبر ملے تو سب سے پہلے اپنوں کا خیال آتا ہے، جو پلٹ گئے، جو بچھڑ گئے، وقتی طور پر ہم بھول جاتے ہیں کہ اب وہ ہم میں نہیں، دل کرتا ہے کہ خوشی کی خبر انہیں سنائیں، ان کو دیکھیں، باتیں کریں، پھر یاد آتا ہے کہ جدائی تو مقدر بن چکی ہے، کوئی آنسو بہاتا ہے، کوئی آنسو چھپاتا ہے، ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ مرد روتے نہیں، اس لئے کچھ مرد آنسو کا رخ موڑ دیتے ہیں، انسان اپنی بے بسی پر بے بس ہوتا ہے، کسی کو نظر آ جاتا ہے اور کسی سے چھپ جاتا ہے۔ بڑی بڑی مشکلات سے کامیابی کے ساتھ لڑنے اور جیتنے والا، دنیا کی نظر میں مضبوط انسان، خود کو کمزور محسوس کرنے لگتا ہے۔ میرے اپنے کچھ اشعار آپ کی خدمت میں پیش ہیں :

خیال جو آئے کوئی تو یاد نہیں رہتا ہے
گزر گیا ہے وہ شخص، یاد نہیں رہتا ہے
کہنا چاہوں کچھ نیا تو بھول جاتا ہوں
تلاشتا ہوں جسے اب یہاں نہیں رہتا ہے
حالت نیند میں اکثر وہاں چلا جاتا ہوں
بیداری میں وہ اب جہاں نہیں رہتا ہے
ترک تعلق کا سبب میں جاننا چاہتا ہوں
مرے ایک تو دوسرا کیوں نہیں رہتا ہے
دل جو ہے بے چین شہزادؔ بتانا چاہتا ہوں
ہے الگ دنیا میں مگر یہاں نہیں رہتا ہے

غم اور مشکلات کی خاص بات ہے کہ یہ انسان کو مضبوط بناتے ہیں، مزید تکالیف کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت دیتے ہیں، ضرورت ہوتی ہے توکل کی اور اس یقین کی کہ اللہ جو کرتا ہے ہماری بھلائی میں کرتا ہے۔ ہمیں بس یہ سمجھنا ہے کہ اس دنیا کی زندگی اصل زندگی کی تیاری کے لئے وقتی قیام ہے۔ غم اور پریشانیاں زندگی کا لازمی حصہ ہیں، کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا ہے کہ اس کی پوری زندگی فکر اور رنج سے پاک رہی ہے۔ بقول شاعر:

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں

عیش اور غم ساتھ ساتھ ہیں، جہاں آرام وہاں بے سکونی، جہاں خوشی وہاں دکھ، جہاں زندگی وہاں موت، اور جہاں طاقت وہاں کمزوری ہے۔ زندگی کبھی ایک جیسی نہیں رہتی، انسان کی بھول ہے اگر اسے مستقل سمجھ بیٹھے، یہ تو بس اذان اور نماز کا درمیانی وقفہ ہے، آمد ہوئی تو کان میں اذان اور رخصتی ہے تو نماز کے ساتھ، پھر بھی ہم اپنی حقیقت بھول بیٹھتے ہیں۔

اچھے حالات میں زندگی بہت خوبصورت لگتی ہے، اصل امتحان تو ہے جب مشکلات میں بھی رب کا شکر ادا کیا جائے جس نے آزمائش کے قابل سمجھا اور پھر برداشت کی ہمت دی۔ جتنی بڑی آزمائش اتنا زیادہ اجر، بس صبر اور شکر کو تھامے رکھنا ہے۔ اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی:

لیکن انسان تو ایسا ہے کہ جب اسے اس کا رب آزماتا ہے پھر اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت بخشی ہے۔ لیکن جب اسے آزماتا ہے پھر اس پر اس کی روزی تنگ کرتا ہے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ (سورۃ الفجر 15,16 )

ایک انسان کا دوسرے انسان کا شکر گزار ہونا خوشی میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔ تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ جو لوگ ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے رہتے ہیں ان کی صحت پر بہت مثبت اثرات ہوتے ہیں، افسردگی میں کمی اور ڈپریشن کی کیفیت سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔ یہ بات صرف دو انسانوں کے حوالے سے ہے۔ اب ان فوائد کا سوچیں جو رب کے شکر کی صورت میں اس عظیم ترین ذات کی طرف سے حاصل ہوتے ہیں جس کی قدرت میں سب کچھ ہے، اور جس نے خود وعدہ کیا ہے :

اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں ) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہے (ابراہیم، 14 : 7 )

غم کی حالت میں شکر گزاری اور اللہ کی فرمانبرداری کے حوالے سے کچھ گفتگو عیدالاضحی پر قربانی کے فلسفے کے حوالے سے کرتے ہیں۔ کچھ ہی دن ہوئے ہیں عید گزرے، جانوروں کے نت نئے نام بھی آپ نے سنے ہوں گے۔ دکھاوا، مقابلہ، وزن، تعداد، اور قیمت، پھر مزے مزے کے کھانوں کی منصوبہ بندی اور دعوتیں۔ یہ سب کیا ہے، کیا یہی قربانی کا مقصد ہے؟ ہر گز نہیں، عید قربان پر جانور کی قربانی ہمیں سکھاتی ہے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکانا جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کیا۔ ہر حال میں شکر کرنا، صبر اور برداشت کرنا، شکوے سے دور رہنا اور اللہ کی مخلوق سے محبت کرنا، یہی قربانی کا پیغام ہے، رشتے داروں اور ہمسایوں کا خیال کرنے کا نام ہے، اپنا فریزر بھرنے کا نہیں۔ اگر سمجھیں تو اسی میں حقوق اللہ کا بھی درس ہے اور حقوق العباد کی تلقین بھی۔

تو تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔

(البقرہ 152 ، 153 )

آئیں ابھی سے کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کے شکر گزار بندوں میں شامل ہو سکیں اور اس پاک ذات کی مدد سے اپنی زندگیوں کے غم اور مشکلات کو برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت پائیں، نماز، صبر اور شکر کے ذریعے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments