کیا ایک عام شہری نہیں بلکہ صرف سیاست دان اہم ہیں؟


سیاست دانوں کو نوکری کرنے دیں، ان کے پیچھے اپنے گھر نہ برباد کریں۔ پہلی بار جب میں نے اپنے گھر میں سیاسی بحث ہوتے دیکھی، اس وقت بھی میرا موقف یہی تھا کہ دیکھیں یہ سیاست دان ہیں، جیسے طبی ماہرین ہوتے ہیں، جیسے بڑھئی ہوتا ہے، جیسے رنگ ساز ہوتے ہیں، جیسے اداکار ہوتے ہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاست ان کا شعبہ ہے، یہ نوکری کر رہے ہیں، خدارا آپ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے لیے دلوں میں رنجشیں نہ لائیں۔

اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی، ماشااللہ خان صاحب کے ٹائیگرز ہمارے گھروں میں بھی موجود تھے، میرا رجحان سیاست کو لے کر زمانہ طالب علمی سے یہی ہے کہ یہ نوکری کر رہے ہیں، جیسا کہ ہم اور آپ گزر بسر کے لیے نوکری کرتے ہیں، ان کا کام ہے سیاست کرنا، یہ آج عمران خان کے ساتھ ہیں یہ کل آپ کو کسی اور جماعت میں جلوہ گر ہوتے دکھائی دیں گے، لیکن میرے اہل خانہ مجھے سرٹیفائیڈ پٹواری کہتے تھے، شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کہ پٹواری پوسٹ کے لیے میں نے جتنے جتن کیے اور کمیشن کے امتحانات دیے، اتنا شاید ہی کسی نے محنت بھی کی ہو، وہ تو میرے سوہنے رب کی مرضی کہ مجھے ایک چھوٹی دنیا عنائیت کردی اور میں پٹواری یا تحصیل دار بنتے بنتے ماں کے درجے پر فائز ہو گئی۔

تو بات ہو رہی تھی، سیاست کی، جیسے ملک میں آج اعلی عدلیہ کی جانب سے فیصلہ آیا ہے کہ حمزہ شہباز وزیر اعلی نہیں رہے، یقین جانیئے دو دن گو مگو میں رہنے کے بعد مجھے لگا کہ اس سے میری زندگی کے تمام مسائل حل ہو گئے، اور اس سے اعلی عدلیہ کا 127 واں نمبر کا بد نما داغ بھی دھل گیا۔ میرے مطابق تو ہماری عدلیہ کو 130 ویں نمبر پر آنا چاہیے تھا، جس حساب سے ایک فیصلے کے لیے جج صاحبان نے جان لگا دی، یقین جانیں اگر اپنی 5 فیصد بھی کوشش یہ کسی اور فیصلے میں لگاتے، کوئی عوامی مفاد میں ایک فیصلہ کر دیتے تو آج عوام منہ اٹھا کہ ان کی طرف غیر یقینی سے نہ دیکھ رہے ہوتے، لیکن اعلی عدلیہ کے فیصلے کے آگے کون کیا کہے گا۔

چلیں اللہ اللہ کر کے پرویز الہی وزیر اعلی بنے، اب ٹویٹر پر جنگ شروع ہو گئی ہے، ٹیلی ویژن پر سیاست دان آ کر جمہوریت، سیاسی استحکام، آئینی طریقے سے کام کرنا ان جیسی کئی حکایات سنائی دیں گی۔ ایک نہیں تو یہ نہیں، کہ مہنگائی کم کرنے کے کیا طریقے ہیں، کون سے عوامل ہیں کہ بجلی سستی ہو، پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، بارشوں کا پانی ضائع ہونے سے بچاؤ کے طریقے، سستا آٹا، دال چاول، اور کیا کیا ضروریات ہیں ایک عام انسان کی۔

میری کیا ضرورت ہے؟ میرے بچے کا دودھ۔ چینی کی قیمت بڑھنے سے کچھ لوگ مخولیاں کرتے ہیں کہ چینی کھانا چھوڑ دیں، لیکن میں اور میرے جیسی کئی مائیں اپنے بچوں کا دودھ خریدنا چھوڑ دیں؟ خدارا رحم کریں، اب تو رحم۔ کر لیں سیاست دان اپنی جیبیں گرم کرنے میں مصروف ہیں، چاہے نواز شریف ہوں، عمران خان ہوم، زرداری ہوں، کیا یہ لوگ ہمارے مسائل حل۔ کریں گے؟ کیا بجلی سستی ہوگی؟ کیا ہمارے حالات بہتر ہوں گے ؟ کیا ہمیں بنیادی طبی سہولیات مل پائیں گی؟ کیا پیٹرول سستا ہو گا؟ کیا بچوں کے استعمال کا دودھ سستا ہو گا؟ کیا پیمپرز سے لے کے ایک بچے کی بنیادی ضرورت کی ہر چیز سستی ہو پائے گی؟ کیا ہمیں انصاف مل پائے گا؟

کیا یہ فیصلہ یا سیاست دانوں کا کوئی بھی کیس اتنا ہی اہم ہوتا ہے کہ تمام کیسز چھوڑ کر، ساری توجہ اس پر مرکوز کروا لی جائے۔ کیا یہ قوم سے مذاق نہیں؟ کیا یہ سیاست دان ہماری بوٹیاں نوچنے کے لیے کم نہیں تھے جو اب اعلی عدلیہ نے بھی یہ جگہ لے لی ہے؟ کیا سب زیر التوا کیسز ختم ہو گئے ہیں جو حمزہ شہباز اور پرویز الہی کو اس حد رک اہمیت دی گئی؟ کیا میں یا میرے جیسا کوئی بھی انسان پاکستانی نہیں؟ کیا میری زندگی اتنی اہم نہیں؟

میں ایک عام شہری ہوں مجھے صرف ایک بات معلوم ہے کہ مجھے ہر ماہ پانی، بجلی، گیس کا بل دینا ہوتا ہے، اگر میں نہ دوں تو ان سہولیات سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ پھر مجھے میری شکایات کے لیے ایک لمبے اور تھکا دینے والے مرحلے سے گزرنا ہو گا، مجھے ہر مہینے کچن کا سامان لینا ہو گا، مجھے اپنے بڑھتے بچے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کہنا ہو گا۔ مجھے یہ اعلی سطح کے فیصلے یہ آئینی مسائل نہیں سمجھ آتے۔ میری ناقص عقل میں یہ آ نہیں سکتے جب ایک جانب سر اٹھاتے خرچے میرے آگے ہوں اور دوسری جانب ایک کھٹ پتلی تماشا یا سیاسی سرکس ٹیلی ویژن پر لگا ہو۔ میں کس سے کہوں یا ہم عوام کس سے کہیں؟ ہم کس سے انصاف کی امید رکھیں؟ ہم کہاں جائیں؟ پاکستان کی پوری مشینری اس وقت سیاست میں مصروف ہے اور عام انسان اس خوش فہمی میں کہ نئے پاکستان کے بعد اب ہرانے پاکستان کے حالات بھی ویسے ہیں تو ہمیں صرف پاکستان دے دیں، ہمارے اداروں کو سیاست سے آزاد کر دیں تا کہ یہ عوام کا بھی سوچیں۔

Facebook Comments HS