پیا میں چلی


پچھلے کچھ عرصے میں یہ تیسری نوجوان لڑکی کی خودکشی کی خبر سنی تھی آخر کیا ہو گیا ہے ان نوجوان لڑکیوں کو۔ زندگی سے بھرپور ہوتی ہے یہ عمر تو۔ کیوں مایوسی کی اس پاتال میں جا گری ہیں کہ اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتی ہیں۔

پریانکا تو مڈ وائف تھی زندگی کی آفرینش کا روزانہ قریب سے مشاہدہ کرتی تھی۔ اچھی طرح جانتی تھی کہ زندگی اتنی آسانی سے وجود میں نہیں آتی۔ نو مہینے کی کٹھنائی سے گزرنا ہوتا ہے قطرے سے گہر ہونے تک اور اس گہر کی تراش خراش کے لئے پھر اک عمر درکار ہوتی ہے تب کہیں جا کے کوہ نور بنتا ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اس ہیرے جیسی پریانکا کا جگر کٹ گیا اور اس نے ماں باپ کے محنت سے تراشے گئے اس جوہر خاص کو تحت الثریٰ میں دے مارا۔ کیا اسے ماں باپ کا خیال نہیں آیا، بہن بھائیوں کا نہیں سوچا، دوستوں کی یاد نہ آئی اور سب سے بڑھ کر اپنے ننھے نونہالوں کے معصوم چہرے کیسے بھلا دیے۔ کون سا دکھ ان سب کی محبتوں پر بھاری پڑ گیا۔

دبلی پتلی، کھڑے کھڑے نقوش، تپتے ہوئے تانبے جیسی رنگت والی پریانکا جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھتی تھی مگر اور ساؤتھ انڈین لوگوں کے برخلاف وہ ہندی سمجھ اور بول سکتی تھی۔ اس کی وجہ اس کے پتا جی کی جے پور میں پوسٹنگ تھی جہاں ان کا بہت وقت گزرا تھا اور وہ سارے بہن بھائی ہندی سے واقف تھے۔ وہ خاموشی سے کام کرنے کی عادی تھی۔ ہر بات پہ سر ہلا کر ’شیری شیری‘ کہتی جو ملیالم زبان میں اوکے کا ہم معنی ہے۔ کچھ عرصے سے اس کی ساتھیوں نے محسوس کیا تھا کہ وہ بہت زیادہ گم صم رہنے لگی تھی۔

کم گو تو وہ تھی ہی پر اب تو جیسے اس نے چپ سادھ لی تھی۔ مٹی کے مادھو کی طرح سپاٹ چہرہ لئے کام میں جتی رہتی۔ جوہی نے زیادہ کریدا تو صرف اتنا کہا کسی چیز میں دل نہیں لگتا۔ کام میں بھی نہیں۔ اس کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے لیبر روم سے وارڈ ڈیوٹی پر منتقل کر دیا گیا مگر یہ تبدیلی اس کے لئے اور مضر ثابت ہوئی اسے لگا اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر شک کیا گیا ہے اور یہ کہ اس نے جوہی سے اپنے دل کی بات کر کے غلطی کی۔

اس نے لیبر روم واپس بھیجنے کی درخواست دی مگر رد کردی گئی۔ اس نے اپنے گرد خول کو مزید ضخیم کر لیا۔ اب اس سے کوئی بات اگلوانا ممکن ہی نہیں رہا۔ وہ کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیتی جیسے انسان نہیں دیوار ہو گئی ہو۔ مونیشا نے اس سے کہا ”اگر تم یہاں کسی سے کچھ نہیں کہنا چاہتیں تو کسی پروفیشنل سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرو مگر بھگوان کے لئے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرو۔

دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے دوپہر کی شفٹ کے اسٹاف نے ڈیوٹی سنبھالی ہی تھی اور اپنے اپنے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔

ٹرن ٹرن۔ ٹرن ٹرن۔ نرسنگ اسٹیشن پر رکھے فون کی مخصوص گھنٹی ہاسپٹل سے باہر سے آنے والی کال کی اطلاع دے رہی تھی۔ روپا نے فون اٹھایا۔

کیا۔ نہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے

روپا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اس کا رنگ لٹھے کی طرح سپید ہو رہا تھا وہ غش کھا کر گرا ہی چاہتی تھی کہ میری کٹی نے اسے سنبھال لیا۔

”کس کا فون تھا؟ کیا ہوا ہے
”پریانکا کی بہن کا۔ میٹرن کو انفارم کردو کہ۔ کہ پریانکا نے خودکشی کر لی ہے۔“

یہ خبر سارے اسٹاف پر برق بن کر گری تھی۔ آج صبح ہی تو وہ نائٹ ڈیوٹی کر کے گئی تھی۔ ایسا انتہائی قدم آس نے کیوں اٹھایا۔

سبھی ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ پریانکا کے گھر جاسکیں کہ ہسپتال کے مردہ خانے سے کال موصول ہوئی۔ پولیس ابتدائی کارروائی کے بعد پریانکا کی لاش اسی ہسپتال کے مردہ خانے میں لائی تھی۔ اور رسمی کارروائی کے لئے فیمیل اسٹاف سنی اما کو طلب کیا گیا تھا لیکن سنی اما اکیلی نہیں گئی سوجا اور منسی بھی اس کے ساتھ چلیں۔ سنی اما تنہا کہاں یہ بوجھ اٹھا پاتی کہ اپنی پیاری ساتھی کو اس حال میں دیکھ سکے۔

پریانکا دہکتے سرخ رنگ کے زرق برق چوڑی دار پاجامے کرتے میں مردہ خانے کی ٹھنڈی سل پر پڑی تھی۔ اس کا دمکتے تانبے جیسا رنگ مٹیالا پڑ چکا تھا۔ اس نے منگل سوتر کے علاوہ بڑا سا چندن ہار اور کانوں میں جھمکے پہنے ہوئے تھے۔ اس کے لمبے گھنے بال کمر کی دونوں جانب سے جھانک رہے تھے۔ یوں لگتا تھا وہ شادی کی کسی تقریب سے اٹھ کر مردہ خانے کی سل پر آ کے لیٹ گئی ہو۔ اس کی آنکھیں بند تھیں شاید وہ مزید اس دنیا کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کی زبان ہونٹوں کے درمیان سے باہر نکلی ہوئی دنیا کو منہ چڑا رہی تھی۔

”لو میں چلی۔ روک سکو تو روک لو“

اس کے گلے پر رسی کا نقش بہت گہرا تھا جیسے کہ جان کھینچنے سے پہلے رسی اور جان میں بہت کھینچا تانی ہوئی ہو۔

سنی اما نے لڑکھڑاتے قدموں اور کپکپاتے ہاتھوں سے اس کی نعش سے زیورات اتارے اور ضروری کارروائی مکمل کی۔ وہ جانتی تھی یہ منظر آسیب کی طرح ساری زندگی اس کے دل و دماغ پر چھایا رہے گا۔ وہ اپنی چشم تصور سے کبھی اس لمحے کو مٹا نہیں پائے گی

مضافات کے اس دو منزلہ مکان کے باسیوں پر ہیبت طاری تھی۔ نچلی منزل پر پریانکا اپنے شوہر، دو بچوں اور کل وقتی ملازمہ کے ساتھ رہتی تھی اوپری منزل پر اس کی بہن شوبھا کی فیملی رہائش پذیر تھی۔ پریانکا کی لاش اس کے بیڈ روم میں لٹکی ہوئی پائی گئی تھی۔ اس کے شوہر دیپک کے مطابق وہ دوپہر ایک بجے لنچ کے لئے گھر آیا تو لاونج میں بچے کھیل رہے تھے۔ ملازمہ باورچی خانے میں تھی۔ بیڈروم کا دروازہ اندر سے مقفل تھا۔ کئی بار کھٹکھٹانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو وہ جھنجھلا گیا اسے کمرے سے ضروری فائل درکار تھی۔

وہ پچھلے صحن میں۔ کھلنے والی کھڑکی کی طرف گیا تاکہ وہاں سے پریانکا کو آواز دے کر کھلوائے لیکن کھڑکی سے نظر آنے والے منظر نے تو اسے حواس باختہ کر دیا۔ کمرے کی چھت میں پنکھے کے لئے دیا جانے والا ہک بچی کے روایتی پالنے کے لٹکانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ اس ہک سے بندھی رسی کے ساتھ پالنا نہیں پریانکا معلق تھی۔ اس کے لٹکتے پیروں سے کچھ فاصلے پر اٹاری کی سیڑھی گری پڑی تھی اور فرش پر کم کم بکھرا ہوا تھا۔ وہ من من بھر کے قدموں سے لاونج میں واپس آیا۔

اس نے اوپر سالی کو فون کیا اور پھر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کے آنے تک دونوں خاندان سکتے کے عالم میں گم صم بیٹھے رہے۔ ملازمہ لکشمی باورچی خانے کے فرش ہی پر بیٹھی ناخن سے فرش کریدتی رہی۔ اس نے جب یہ خبر سنی تھی تو اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا جو چھوٹ کر گر پڑا تھا۔ ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑے اور دو چلو پانی فرش پر پھیلا ہوا تھا اور ہوا سے ہلکورے لیتے پانی میں اس کے ہیبت زدہ چہرے کا عکس تھر تھرا رہا تھا۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔

پولیس نے دروازہ کھول کر لاش اتاری۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔ اور گھر میں موجود افراد کے بیانات قلمبند کیے۔ کمرے سے ڈپریشن کی دوائیوں کا ڈبہ، ایک ڈائری ایک پر کیا ہوا استعفیٰ کا فارم اور کم کم کی ٹوٹی ہوئی ڈبیہ ملی تھی۔ کم کم کی ڈبیہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹی تھی بارے پریانکا نے اسے بہت غصے میں زمین پر دے مارا ہو۔ اس کے شوہر دیپک نے بیان دیا کہ اس کے علم میں نہیں تھا کہ پریانکا ڈپریشن کی دوائیاں استعمال کرتی ہے۔

اس نے پریانکا کے رویے میں کسی غیر معمولی تبدیلی کی بھی تردید کی۔ اس نے کہا آج صبح ناشتے پر وہ بالکل نارمل تھی۔ ابتدائی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ اس نے خودکشی کی تھی یا قتل کر کے لٹکایا گیا تھا۔ اس کا شوہر سب سے زیادہ شک کے دائرے میں آتا تھا اس لئے اسے گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا گیا۔

پریانکا کی بہن شوبھا نے پرسے کے لئے آنے والے ایک ڈاکٹر سے پوچھا ”یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ قتل ہے یا خودکشی؟“ ۔

ڈاکٹر نے بتایا ”فارینسک ڈاکٹر پوسٹ مارٹم کے دوران بہت باریکی، توجہ اور تفصیل سے جسم کے باہر اور اندر سے معائنہ کرتا ہے اور ایسے نکات پر غور کرتا ہے جو خودکشی اور قتل کے درمیان فرق کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو۔ تمہیں کسی پر شبہ ہے کیا؟“

شوبھا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

دیپک پر وہ دن بڑے کٹھن تھے اس کا جسم نڈھال اور دل و دماغ تہ و بالا تھے۔ اس کی جان سے پیاری بیوی تو گئی ہی تھی خود آس کی جان پر بھی بن آئی تھی۔ جسم و جان میں تشنج پیدا کرنے والے مناظر اسے آسیب زدہ کیے ہوئے تھے۔ وہ دل ہی دل میں دعائیں کرتا رہتا۔ بھگوان کی کرپا سے تمام تحقیقات سے خودکشی ثابت ہوئی اور اسے رہا کر دیا گیا۔

دوست احباب اس کے گھر پر جمع تھے۔ وہ پریانکا کی ناگہانی موت پر افسوس کرتے اور ساتھ ہی الزام سے بری ہونے پر بدھائی دیتے۔ دیپک کو ایک بات کھٹک رہی تھی پریانکا کی بہن نے وقوعے کے روز سے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ اب بھی وہ اس کے بچوں کو آغوش میں لئے ساکت بیٹھی تھی

شوبھا کے کانوں میں پریانکا کے آخری الفاظ گونج رہے تھے وقوعے کی صبح اس نے فون کیا تھا۔ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ شوبھا کے پوچھنے پر اس نے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا ”چیچی (دیدی کا ملیالم متبادل) میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے میں پرمشن لے کر ڈیڑھ گھنٹہ پہلے آ گئی۔ چابی میرے پاس ہوتی ہے میں تالہ کھول کر اندر آ گئی۔ جب میں بیڈ روم میں داخل ہوئی تو دیپک اور لکشمی۔ اس کے آگے اس کی آواز سسکی میں بدل گئی۔ آنسووں کا گولا نگلنے کے بعد وہ پھر بولی“ چیچی عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے اسے پتہ چل جاتا ہے کب کوئی اس کے حق پر اری چلا رہا ہے۔

مجھے شک ہو گیا تھا کہ دیپک اور لکشمی میں کوئی سمبندھ ہے ایک دن میں نے گھر سے باہر لے جاکر دیپک سے اس بارے میں بات کی پر وہ آپے سے باہر ہو گیا اس نے مجھے سڑک پر ہی ایک چانٹا مارا اور کہا تم ایک شکی عورت ہو تمہاری پیڑھ کا میرے پاس کوئی اپائے نہیں۔ مگر وہ جھوٹ بول رہا تھا آج میں نے دیپک اور لکشمی کو جس حال میں دیکھا ہے وہ میں نہیں سہ سکتی چیچی میرا ہردا پھٹ جائے گا۔ میں مرجاؤں گی۔ شوبھا نے اسے تسلی دی اور اسے جاکر سونے کا مشورہ دیا۔

اس نے سوچا پریانکا ڈیوٹی سے آئی ہے نیند پوری کر لے تو شام کو جاکر تسلی سے اس مسئلے کو دیکھے گی۔ کاش وہ جان پاتی کہ اس کی بہن یہ فون پھانسی گھاٹ سے کر رہی تھی شوبھا کے دل میں یہ سوچ کر کانٹا گڑ گیا کہ وہ اس چھت کے عین اوپر چھپر کھٹ پر آرام کر رہی تھی جس کے تلے کنڈے سے لٹک کر اس کی بہن خود کو موت کے سپرد کر رہی تھی۔ کاش وہ نیچے اتر آتی اور اپنی بہن کو پھانسی کے پھندے پر چڑھنے سے روک دیتی۔

اس کی نظر دیپک پر پڑی اور اسے اس کی منافقت پر کراہت آ گئی۔ کیسے یہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا کہ اس نے پریانکا کو نہیں مارا۔ فارنسک ڈاکٹر نے یہ کیسا باریک اور تفصیلی معائنہ کیا۔ اسے پریانکا کے سینے میں پھٹا ہوا ہردا دکھائی نہیں دیا اس کی زخمی آنکھوں میں چبھی ہوئی بھروسے کی کرچیاں نظر نہ آئیں۔ منگل ستر کے تقدس کی پامالی سے گھونٹے گئے گلے پر دیپک کی انگلیوں کے نشان نہیں ملے۔

اخر کیوں
یہ خود کشی نہیں تھی قتل تھا اور قاتل آزاد تھا

Latest posts by راحیلہ خان، مسقط (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments