کیا پاکستانی سیاست کے حوالے سے پیشگوئی کرنے سے گریز کرنا چاہیے؟


سیاست کے بارے میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے اس میں آئے روز صورت حال بدلتی رہتی ہے اور کچھ بھی مستقل نہیں رہتا۔ اور جب بات کی جائے پاکستانی سیاست کی، اس میں تو غیر یقینی پن کا عنصر ہمیں مزید نمایاں نظر آتا ہے۔ یہاں تو پل پل صورت حال بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک پل میں اگر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک سیاسی جماعت، سیاسی منظر نامے پر حاوی نظر آ رہی ہے تو دوسرے ہی لمحے کچھ ایسا ہوجاتا ہے جس سے دوسری سیاسی جماعت بہتر پوزیشن میں نظر آنے لگتی ہے۔ پھر یہاں پر غیر سیاسی قوتوں کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

اب گزشتہ دو روز کے سیاسی حالات دیکھئیے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجہ میں ملک کے سب سے بڑے صوبہ، پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ، چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دے کر اس شاندار کامیابی کا جشن منایا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان اپنی تقریر میں ایک طرف فوراً انتخابات کروانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسری طرف موجودہ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کو ہٹانے کا مطالبہ کر کے ان پر عدم اعتماد کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

اس ساری صورت حال کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب جن کے پاس اب صرف مرکز میں حکومت موجود ہے، وہ فوری طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیں گے۔ کیونکہ بہت سے سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے نزدیک بھی اب مسلم لیگ نواز کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں رہ جاتا کہ وہ فوری طور پر حکومت سے الگ ہو جائیں اور انتخابات کا راستہ اپنا کر مزید سبکی سے بچ سکیں۔

مگر جیسے ہی جمعرات کا دن آتا ہے تو اس ایک دن میں رونما ہونے والے واقعات سیاسی منظر نامے کی ہیئت کو بدل دیتے ہیں۔ اس روز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اجلاس ہوتا ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب میں مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بن جانے کے باوجود بھی مرکز میں موجود مسلم لیگ نواز اور اس کے اتحادیوں کی حکومت قائم رہے گی اور انتخابات بھی اگلے سال اپنے مقررہ وقت پر ہی کروائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا دباؤ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی، راجہ پرویز اشرف کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے گیارہ ممبران قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیے جاتے ہیں۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن گیارہ اراکین کے استعفے منظور کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کے جیتنے والے امیدواروں کی جیت کا مارجن بہت کم تھا۔ یعنی یہ سب ایسی نشستیں ہیں جن پر اگر ابھی ضمنی انتخابات کروا دیے جائیں تو ان پر پھر سے کامیابی حاصل کرنا پاکستان تحریک انصاف کے لئے قطعاً آسان نہیں ہو گا۔

اس عمل نے جہاں ایک طرف دوبارہ ایوان میں آنے کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف کے کسی بھی حکومتی اتحادی کو ساتھ ملا کر تحریک عدم اعتماد کا راستہ بند کیا ہے وہاں اس کو ایک مخمصے کا شکار بھی کر دیا ہے کہ آیا وہ ان نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی بھی یا نہیں؟ کیونکہ اگر وہ اس میں حصہ لیتے ہیں تو اپنے ہی ”فوری انتخابات“ کے بیانیے کے خلاف جائیں گے اور اگر حصہ نہیں لیتے تو پھر یہ تمام نشستیں اپنے مخالفین کو دینے کے مترادف ہو گا۔ گویا پی ٹی آئی کے لئے یہ ایک مشکل فیصلہ ہو گا۔

دوسری طرف پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان اور محترمہ مریم نواز کی طرف سے جو پریس کانفرنس کی گئی ہے۔ اس میں جہاں انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے 63 اے (ایف) کی دوبارہ تشریح کے لئے فل کورٹ کی استدعا کی ہے۔ وہاں الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ محترمہ مریم نواز نے سپریم کورٹ کے تین ججز اور ان کی طرف سے دیے گئے پنجاب اسمبلی انتخاب کے فیصلے پر بھی شدید تنقید کی اور اسے میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کے دیگر لوگوں کے خلاف دیے گئے دیگر فیصلوں کے ساتھ بھی جوڑا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اگر پنجاب اسمبلی انتخاب کے فیصلے کے وقت ”فل کورٹ بینچ“ کی استدعا مان لی جاتی تو معزز ججز کو نا صرف حکمران اتحاد کی طرف سے تنقید کا نشانہ نہ بننا پڑتا بلکہ بار کونسلوں اور اپنے ساتھی ججز کی طرف سے بھی ناراضی کا سامنا نہ کرنا پڑتا جس کا عملی مظاہرہ سپریم جوڈیشل کونسل کے، جمعرات ہی کے دن منعقد ہونے والے اجلاس میں نظر آیا جہاں پر چیف جسٹس صاحب کو اپنی مرضی کے ججز کی تعیناتی کروانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس خفت پر برہم ہو کر وہ اجلاس کے دوران ہی اٹھ کر چلے گئے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز اور خصوصاً محترمہ مریم نواز اب اس کو بھی جواز بنا کر اعلیٰ عدلیہ کے اس حالیہ کردار پر مزید انگلی اٹھائیں گی جس سے ان پر دباؤ بھی بڑھے گا۔ کیونکہ ان کو ایک ایسا بیانیہ تو ضرور مل گیا ہے جسے ان کا ووٹر اور سپورٹر ماننے پر تیار بھی ہو گا۔ ایسا کوئی بیانیہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پاس گزشتہ کچھ عرصہ خصوصاً حکومت میں آنے کے بعد تو موجود نہیں تھا۔ جس کے لئے بہرحال ان کو آصف علی زرداری صاحب کا شکر گزار ضرور ہونا چاہیے۔ کیونکہ ان کی کوششوں سے ہی چوہدری شجاعت حسین صاحب نے اپنے پارٹی ممبران کو خط لکھا اور صورت حال تبدیل ہوئی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کے تین ججز کو فیصلہ دینا پڑا جس نے پھر پاکستان مسلم لیگ نواز اور ان کے رہنماؤں کو اس بیانیے کا موقع فراہم کر دیا۔

اس کے ساتھ پی ڈی ایم کی طرف سے الیکشن کمیشن پر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دینے کا مطالبہ کرنے اور فیصلہ نہ دینے کی صورت میں الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرنے کے فیصلے نے بھی صورت حال کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ اب وہی سیاسی تجزیہ نگار جو پہلے پاکستان مسلم لیگ نواز کی مرکز میں حکومت جانے کی پیش گوئیاں کر رہے تھے اب اس کی سیاسی حکمت عملی کو سراہا رہے ہیں۔ لہذا سیاسی تجزیہ نگاروں سے التماس ہے کہ پاکستانی سیاست کے حوالے سے تجزیہ دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی پیش گوئی کرنے سے اجتناب برتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ کچھ پتا نہیں اگلے ہی پل یہاں کیا کچھ ہو جائے؟ اور پھر آپ اپنی ہی طرف سے کی گئی پیش گوئیوں کے پورا نہ ہونے پر صفائیاں پیش کرتے رہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments