مولانا فضل الرحمان و دیگر مذہبی رہنماؤں کے نام کھلا خط


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الحمدللہ! ہماری مذہبی قیادت صالح، نڈر اور باصلاحیت و باکردار ہے۔ مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر، شاہ احمد نورانی، سراج الحق، علامہ ساجد نقوی، علامہ ابتسام الہی ظہیر و دیگر ملک میں آئین اور اسلام کی بالادستی کے خواہاں ہیں، چند گنی چنی جماعتوں کے علاوہ سب سویلین بالادستی کے قائل ہیں، عمومی مذہبی قیادت بدعنوانی کے الزامات سے بھی بری ہے۔

آئین کی بالادستی کی جنگ میں مولانا فضل الرحمان مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائد کی حیثیت سے کردار ادا کر رہے ہیں۔ 2018 سے مولانا سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے صدر بھی ہیں۔

پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ہنوز اپنے مفادات کو سویلین بالادستی پر مقدم رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مذہبی جماعتوں اور سویلین بالادستی کی تحریک کے وہ ثمرات نہیں مل رہے جو ملنے چاہئیں۔ مذکورہ دونوں جماعتوں کی اپنی ترجیحات اور کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے آئین کی بالادستی کا نعرہ بھی لگاتی ہیں اور پس پردہ گود لیے جانے کی بھی خواہاں ہیں۔ اس حوالہ سے خود شریف خاندان بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے ذاتی مفادات کے لیے رضاربانی جیسی شخصیت کو ہٹا کر سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنوایا، نیز وہ اس عالمی ایجنڈے کے لیے بھی کردار ادا کرتے ہیں جس کے مطابق پاکستان میں صدر یا وزیراعظم کوئی مولوی نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو صدارتی انتخاب میں تیسرے امیدوار کے طور پر کھڑا کیا تاکہ مولانا فضل الرحمان (ایک مولوی) صدر پاکستان نہ بن جائے۔ اس لیے ان جماعتوں سے توقع رکھنا کہ یہ اسلام، آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے مخلص ہیں ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

مذہبی ووٹ جو عمران خان کے ریاست مدینہ کے نعروں کی وجہ سے ان کا ہمنوا ہوا، وہ بھی پاکستان میں اسلام کا بول بالا چاہتا ہے، اس طبقہ کا اعتراض ہے کہ مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اتحادی کیوں ہیں۔ ایسے میں اگر مولانا ان جماعتوں سے الگ ہو کر مجلس عمل کی تنظیم نو کریں تو مذہبی طبقہ مذہبی جماعتوں کو اقتدار میں لا سکتا ہے کیونکہ خان صاحب کا مذہبی ووٹر ان سے مایوس دکھائی دیتا ہے۔

ان حالات میں میری گزارش ہے کہ:۔

2023 کے انتخابات کے لیے تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر دعوت دیں، متحدہ مجلس عمل کی تنظیم نو کریں۔

اتحاد کے قیام کے بعد مجلس عمل کی مرکزی قیادت ملک بھر کے دورے کرے اور لوگوں کی ذہن سازی کرے۔

انتخابات بھرپور سیاسی مذہبی اتحاد کے ساتھ لڑے جائیں، پورے ملک میں اپنے امیدوار کھڑے کیے جائیں۔ عوام کو صالح قیادت فراہم کرنا مذہبی اتحاد کا کام ہے، انہیں کامیاب کرنا عوام کی ذمہ داری۔ اگر مذہبی اتحاد قائم ہوجاتا ہے تو خیبر پختونخوا اور کراچی کی حکومت یقینی ہوگی، پنجاب اور بلوچستان میں بھی مذہبی طبقہ کو وقیع حصہ ملے گا۔

۔ پی ڈی ایم کے بحال رہتے ہوئے بھی مجلس عمل کو بحال کیا جاسکتا ہے۔
نوٹ: یہ خط تمام مذہبی جماعتوں کے سربراہان کے نام ہے۔
باسط حلیم‎
27 جولائی 2022

Facebook Comments HS