شبیہ علم پر ایک تاریخی نظر

شبیہ کے معنی مثل، نظیر یا ہم شکل ہونے کے ہیں۔ دنیا میں بہت سے مقدسات کی شبیہ بنائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ خانہ کعبہ کا ماڈل بنانا، کسی مسجد میں مسجد نبوی جیسا محراب بنا لینا، امام حسینؑ کے روضہ کی شبیہ بنانا۔ علم کی شبیہ بھی ان میں شامل ہے۔
ویسے تو ہر ملک کا ایک خاص علامتی جھنڈا ہوتا ہے جو کہ اس کی پہچان ہوتا ہے۔ مختلف قوم، قبیلے یا سیاسی پارٹی کا بھی جھنڈا ان کا علامتی نشان ہوتا ہے۔ کسی خاص موقع پر ان کا لہرانا اور جھنڈے سے عقیدت کا اظہار کرنا وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
آئیے ایک نظر علم کی تاریخ پر ڈالتے ہیں۔ قدیم عرب میں جب کوئی اہم شخص سفر پہ جاتا تو اس کے گھر پر ایک جھنڈا نصب کر دیا جاتا جس سے معلوم ہوتا کہ وہ وہاں موجود نہیں ہے۔ صحرا یا چرا گاہ میں علم لگانے کا مطلب ہوتا کہ وہاں پر پہلے سے ہی کسی قبیلے کا قبضہ ہے۔ کنواں پر علم نصب ہونے کا مطلب ہوتا کہ بلا اجازت مویشیوں کو پانی پلانے کی اجازت نہیں ہے۔
صحرا میں جب کوئی قافلہ سفر کرتا تو علم کو بلند رکھتا تا کہ کوئی بھٹکا مسافر یہ جان لے کہ کوئی قافلہ آ رہا ہے۔
کسی مقتول کی قبر پہ علم تب تک نصب رہتا جب تک اس کے قتل کا بدلہ نہ لے لیا جاتا۔ جنگ میں سپہ سالار کے ہاتھ میں علم کا کنٹرول ہوتا جس طرف یہ علم جاتا وہاں حملہ کرنے کا اشارہ ہوتا۔
اسلامی جنگوں میں علم کی ابتدا سب سے پہلے حضرت شیث نے قابیل کے ساتھ جنگ میں کی تھی۔ علم کے رنگ کے حساب سے قبائل کی پہچان ہوتی تھی۔ بنو امیہ کے علم کا رنگ سرخ جبکہ بنو عباس کے علم کا رنگ سیاہ تھا۔ ابراہیمؑ کے جھنڈے کا رنگ سفید تھا جو کہ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت لوطؑ کو دیا تھا۔ قریش قبیلے اور آل ابی طالب کے علم کا بھی سفید رنگ تھا۔
جنگ میں علم سب سے بہادر مرد کو دیا جاتا اور وہ لشکر کا سپہ سالار ہوتا تھا۔ جنگ خیبر میں علم حضرت محمد ﷺ نے حضرت علیؑ کو دیا۔ جنگ جمل میں حضرت علیؑ نے علم حضرت ابو حنفیہؑ کو دیا اور جنگ کربلا میں امام حسینؑ نے علم حضرت عباسؑ کو دیا۔ حضرت عباسؑ کو قمر بنی ہاشم کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اور ان کا شمار بنو ہاشم کے خوبصورت اور بہادر ترین مردوں میں ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا میں حضرت عباسؑ جب نہر فرات سے پانی لینے گئے جس پر فوج یزید کی جانب سے پابندی تھی۔ اس لڑائی میں حضرت عباسؑ کے دونوں بازوں قلم کر دیے گئے۔ مگر انہوں نے علم کو زمین پر نہ گرنے دیا۔ کیونکہ علم کا زمین پر گرنا شکست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آپ نے اپنے دندان مبارک سے اس علم کو تھامے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عباسؑ کو آج بھی غازی عباس کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
علم سے عقیدت میں نہ صرف اہل تشیع شامل ہیں بلکہ دیگر مذاہب اور مسالک کے لوگ بھی علم غازی عباسؑ کا بے حد احترام کرتے ہیں اور اس سے عقیدت رکھتے ہیں۔
سندھ میں پہلی بار حضرت شہباز قلندر کے والد بزرگوار نے علم نصب کیا۔ اس کے بعد حضرت شہباز قلندر جس شہر یا علاقے میں جاتے علم کو ساتھ لے کر جاتے اور پاکستان کے باقی علاقوں میں بھی علم کو گھروں یا امام بارگاہوں پر نصب کرنے کی روایت عام ہوتی گئی۔
جب لندن میں پہلی بار ادارہ جعفریہ امام بارگاہ کی رونمائی ہوئی اور علم حضرت عباسؑ نصب کیا گیا تو عاشور کاظمی نے یہ تاریخی شعر کہا تھا۔
زہراؑ تیری دعا ہے زینبؑ تیرا کرم ہے
لندن کی سرزمیں پہ عباسؑ کا علم ہے
دنیا کے ہر ملک ہر قوم اپنی عقیدت و احترام کے مطابق ہر سال عاشورہ پر واقعہ کربلا کی یاد میں جلوس نکالتے ہیں۔ اور ہر جلوس میں علم غازی عباسؑ اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ ہم احتجاج کرتے ہیں ان مظالم کے خلاف جو اہل بیت پر کیے گئے۔
امام حسینؑ کے روضہ مبارک پر محرم میں سیاہ پرچم لہرایا جاتا ہے جو کہ سوگ کی علامت ہے۔ جب کہ باقی دنوں میں سرخ پرچم نصب رہتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کربلا کا انتقام لینا باقی ہے اور امام مہدیؑ کے ظہور تک یہ پرچم یونہی رہے گا کیونکہ امام مہدیؑ کو منتقم کربلا بھی کہا جاتا ہے۔

