طالبان ہماری پراکسی اور ٹی ٹی پی طالبان کی


آپریشن ضرب عضب کے بعد اگر چہ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں کمی آئی تھی لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد ٹی ٹی پی دوبارہ ایک متحرک تنظیم کے طور پر ابھر آئی ہے اور مسلسل سیکورٹی فورسز پر حملے ہو رہے ہیں۔ اب ریاست نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا ہے پہلے پڑاؤ میں پختونخوا کے رہنماؤں پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان بھیجا تھا جو کابل میں ٹی ٹی پی رہنماؤں سے ملا، پہلے تو کہا گیا کہ مذاکرات مثبت جا رہے ہیں لیکن بعد میں کچھ پیشرفت نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی نے چند شرائط رکھی ہیں۔ جن میں ایک ہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا سے الگ کیا جائے اور دوسری اہم شرط ہے کہ صلح کے بعد بھی ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ان دونوں شرائط کی وجہ سے جرگہ بغیر کسی نتیجے کے وطن واپس ہوا۔

دوسرا وفد چند دن پہلے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لئے کابل روانہ ہوا جو علما پر مشتمل تھا جس کی سربراہی مفتی تقی عثمانی صاحب کر رہے تھے ان کے ساتھ وفد میں شامل جامعہ اکوڑہ خٹک کے مولانا عبدالحق، مولنا حنیف جالندھری اور مولانا طیب جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ چونکہ یہ وفد افغانی اور پاکستانی طالبان کے استادوں پر مشتمل تھا اور طالبان پر ان کا اثر و رسوخ ہے تو مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے لیکن شاید اس بار بھی بغیر کسی نتیجے کے مذاکرات ختم ہو گئے ہیں۔

سب سے پہلی بات تو اگر ہمارے عوام اور سپاہیوں کو ذبح کرنے والے، معصوم بچوں کو استعمال کرنے والے طالبان کے ساتھ مذاکرات ”خدانخواستہ“ کامیاب ہو گئے تو کیا وہ باقی پاکستانیوں کی طرح زندگی گزار سکے گی، یا پھر بھی وہ اپنے آپ کو سپیریئر کہے گے؟

ٹی ٹی پی ہمارے پارلیمان اور فارن پالیسی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش تو نہیں کرے گی؟ کیونکہ پہلے بھی روشن خیال رکن اسمبلی میں کچھ بولتا تھا تو لبیک اور باقی مذہبی جماعتیں بار بار سڑکوں پر نکل آتی تھی اور ریاست کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ٹی ٹی پی جو ان سے ہزار ہا گنا زیادہ انتہا پسند ہے کیا وہ بھی سڑکوں پر اکتفا کرے گی یا اپنے طبیعت کے فیصلے نہ ہونے پر تو دوبارہ بندوقوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے کوشش کریں گے۔

دوسری شرط جو ٹی ٹی پی نے رکھی ہوئی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی کہ وہ فاٹا کی پختونخوا سے دوبارہ علیحدگی چاہتی ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ شرط ٹی ٹی پی سے زیادہ افغان گورنمنٹ کی ہے کیونکہ ہمیشہ سے افغانستان کے حکومتوں کی خواہش رہی ہے کہ فاٹا اور پختونخوا یا تو ہمارے ساتھ ہو یا پھر کم از کم پاکستان کے ساتھ تو نہ ہو۔ اسی لئے انہوں نے پہلے یو لر او بر اور پھر پختونستان کا نعرہ بھی لگوایا۔ اور ابھی تک ڈیورنڈ لائن کو بھی کسی افغان گورنمنٹ نے آفیشلی ایکسپٹ نہیں کیا چاہے وہ طالبان کی ہو یا کوئی اور جمہوری حکومت،

ہمارے جو جنرل امارات اسلامی افغانستان کو بڑی فخر سے اپنی پراکسی کہا کرتے تھے ان کی یہی پراکسی اب ہماری ساتھ ہی کھیل کھیل رہی ہے۔ کبھی بارڈر پر حملے کرتی ہے اور ہمارے سپاہیوں کو شہید کرواتی ہے۔ تو کبھی اس طرح ٹی ٹی پی سے بلیک میل کرا رہی ہے۔ یعنی اس بار بھی جنرلوں کی پالیسیاں گلے پڑ رہی ہے اور ہم اپنے ہی پراکسیوں کے سامنے سرنڈر کر رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments